سعدیہ بی بی

 

شائد ہی آپ کو اس بات کا علم ہو کہ رنگ ہماری شخصیت پر کتنا اثرانداز ہوتے ہیں۔ ہر انسان کی الگ فطرت اور الگ شخصیت ہوتی ہے۔ کبھی غور کیا ہے کہ کچھ رنگ ہمیں خوش کر دیتے ہیں، کچھ اداس کر دیتے ہیں، کچھ ہمیں پرجوش بناتے ہیں اور کچھ ہمیں سکون دیتے ہیں۔ ہم عام طور پر کہتے ہیں "مجھے یہ رنگ اچھا لگتا ہے" لیکن دراصل وہ رنگ ہماری نفسیات، مزاج، سوچ اور فیصلوں پرخاموشی سے اثر ڈال رہا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ہم لوگوں کو الگ الگ رنگ پسند ہوتے ہیں۔

 

کلر سائیکولوجی اصل میں یہ سمجھنے کا نام ہے کہ رنگ ہماری سوچ، ہمارے دل اور ہمارے رویے کو کیسے چپکے سے بدل دیتے ہیں۔ ہر رنگ کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔ وہ زبان ہمیں کچھ کہے بغیر ہمارے اندر جذبات پیدا کرتی ہے۔ کبھی کبھی ہم کسی جگہ داخل ہوتے ہی اچھا یا برا محسوس کرنے لگتے ہیں، وہ احساس اکثر رنگوں کی وجہ سے ہوتا ہے، نہ کہ جگہ کی وجہ سے۔

 

ہم میں سے اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو رنگ ہم پہنتے ہیں وہ صرف ہماری پسند ہوتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر رنگ ہمارے اندر ایک خاص احساس جگاتا ہے، ہمارے مزاج کو بدلتا ہے اور لوگوں کے دل میں ہمارے بارے میں ایک خاص تصویر بناتا ہے۔ رنگ خاموش ہوتے ہیں مگر ان کا اثر بہت بولتا ہے۔ ہم جس رنگ میں خود کو دیکھتے ہیں، ہم ویسا ہی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی دن ہم آئینے میں خود کو دیکھ کر خود کو خوبصورت اور پراعتماد محسوس کرتے ہیں اور کسی دن بے وجہ دل بھاری لگنے لگتا ہے، حالانکہ وجہ صرف ہمارے کپڑوں کا رنگ ہوتا ہے۔

 

  ہمیں کسی انسان کی شکل سے پہلے اس کے کپڑوں کا رنگ نظر آتا ہے، اور وہی پہلا تاثر بنا دیتا ہے۔ اسی لیے کسی انسان کو پہلی نظر میں اچھا یا برا لگنے کی ایک بڑی وجہ اس کے کپڑوں کا رنگ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہسپتالوں میں ہلکے اور صاف رنگ استعمال کئے جاتے ہیں تاکہ مریض کو سکون ملے، سکولوں میں روشن رنگ استعمال ہوتے ہیں تاکہ بچوں کا ذہن متحرک رہے، اور بڑے برانڈز مخصوص رنگوں کے ذریعے ہمیں خریداری پر مجبور کرتے ہیں۔

 

عام لوگوں کی رائے میں رنگ محض خوبصورتی کے لیے ہوتے ہیں، مگر جن لوگوں نے اپنی زندگی میں رنگوں کے اثرات کو محسوس کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ رنگ مزاج بدل سکتے ہیں، دن کی سمت بدل سکتے ہیں اور کبھی زندگی کے فیصلے بھی بدل دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ جب وہ ہلکے رنگ پہنتے ہیں تو ان کا دل ہلکا اور دماغ پرسکون ہوجاتا ہے، اور جب گہرے اور بہت شوخ رنگ پہنتے ہیں تو ان کے رویّے میں تیزی اور جلد بازی آجاتی ہے۔ یہ سب محض وہم نہیں بلکہ نفسیات کی زبان میں ایک حقیقت ہے کہ رنگ ہمارے اعصاب پر براہ راست اثر کرتے ہیں۔

 

جب ہم سرخ رنگ پہنتے ہیں تو ہمارا جسم لاشعوری طور پر زیادہ متحرک ہو جاتا ہے۔ سرخ رنگ خون، محبت، طاقت اور جذبے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ دل کی دھڑکن تیز کرتا ہے، جسم میں توانائی بڑھاتا ہے اور ہمیں زیادہ پراعتماد محسوس کرواتا ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ کسی خاص موقع، انٹرویو یا ملاقات کے دن سرخ یا اس سے ملتے جلتے رنگ پہنتے ہیں تاکہ وہ خود کو طاقتور محسوس کر سکیں۔ لیکن اگر سرخ رنگ حد سے زیادہ استعمال ہو تو یہی رنگ غصہ، چڑچڑا پن اور بے چینی بھی پیدا کر سکتا ہے۔

 

کالا رنگ بظاہر سادہ اور خاموش لگتا ہے، مگر نفسیاتی طور پر یہ سب سے زیادہ گہرا اور طاقتور رنگ ہے۔ کالا رنگ اختیار، وقار، راز اور اندرونی طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے جج، وکیل اور اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے لوگ اکثر کالا رنگ پہنتے ہیں۔ کالا رنگ پہننے والا شخص لوگوں کو سنجیدہ، مضبوط اور قابلِ اعتماد محسوس ہوتا ہے۔ مگر کالا رنگ اگر بہت زیادہ زندگی میں آجائے تو یہ انسان کو تنہائی اور اداسی کی طرف بھی لے جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اداس لوگ اکثر لاشعوری طور پر کالے کپڑے زیادہ پسند کرنے لگتے ہیں۔

 

نیلا رنگ سکون، اعتماد اور ذہانت کی علامت ہے۔ جب کوئی شخص نیلا پہنتا ہے تو وہ خود کو پرسکون، متوازن اور محفوظ محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے دفاتر، بینک اور تعلیمی اداروں میں نیلا رنگ زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ نیلا رنگ پہننے والا شخص دوسروں کو زیادہ قابلِ بھروسہ اور سمجھدار نظر آتا ہے۔ لیکن گہرے نیلے رنگ کی زیادتی انسان میں خاموشی، تنہائی اور اندرونی اداسی بھی بڑھا سکتی ہے۔

 

سبز رنگ وہ ہوتا ہے جو آنکھوں کو ٹھنڈا اور دل کو ہلکا کر دیتا ہے۔ جو لوگ سبز رنگ زیادہ پسند کرتے ہیں وہ عام طور پر نرم دل، صبر والے اور دوسروں کی پرواہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ سبز رنگ پہننے والا انسان خود کو متوازن اور محفوظ محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہسپتالوں اور روحانی مقامات پر سبز رنگ کا استعمال عام ہے۔

 

پیلا رنگ خوشی، امید اور ذہانت کی علامت ہے۔ یہ دماغ کو ایکٹو کرتا ہے اور انسان کو باتونی اور پرجوش بنا دیتا ہے۔ پیلا رنگ پہننے والا انسان خود کو ہلکا پھلکا، خوش اور زندہ دل محسوس کرتا ہے۔ مگر بہت زیادہ پیلا رنگ بے چینی، جلد بازی اور ذہنی تھکن بھی پیدا کر سکتا ہے۔

 

جامنی رنگ شاہانہ پن، روحانیت اور تخلیقی سوچ کا رنگ ہے۔ یہ انسان کو خاص ہونے کا احساس دیتا ہے۔ جامنی رنگ پہننے والے لوگ اکثر خود کو منفرد، گہرے اور تخلیقی محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فنکار اور تخلیقی لوگ اس رنگ کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔

 

سفید رنگ پہن کر آدمی خود کو اندر سے ہلکا اور صاف محسوس کرتا ہے۔ لوگ سفید رنگ پہننے والوں کو زیادہ ایماندار اور قابلِ بھروسہ سمجھتے ہیں۔ مگر سفید کی زیادتی انسان میں تنہائی اور جذباتی خلا بھی پیدا کر سکتی ہے۔

 

اگر ہم غور کریں تو ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ہم جو رنگ پہنتے ہیں وہ صرف ہماری ظاہری شکل نہیں بدلتے بلکہ ہماری اندرونی کیفیت بھی بدل دیتے ہیں۔ کچھ رنگ ہمیں مضبوط بناتے ہیں، کچھ ہمیں نرم بناتے ہیں، کچھ ہمیں خاموش بناتے ہیں اور کچھ ہمیں باتونی۔ ہم میں سے ہر انسان کا کوئی نہ کوئی ایسا پسندیدہ رنگ ضرور ہوتا ہے جو اس کی شخصیت، اس کے زخموں، اس کے خوابوں اور اس کے مزاج کی کہانی سناتا ہے۔

 

آخر میں میں یہی کہونگی کہ رنگ ہماری زندگی کے خاموش ساتھی ہیں۔ یہ ہمارے ساتھ ہنستے بھی ہیں، روتے بھی ہیں اور ہمیں سنبھالتے بھی ہیں۔ اگر ہم رنگوں کی زبان کو سمجھ لیں تو ہم اپنی زندگی میں سکون، اعتماد اور توازن پیدا کر سکتے ہیں۔ کیونکہ کبھی کبھی ہمارے مسائل کا حل دوا میں نہیں، بلکہ ہمارے اردگرد کے رنگوں میں چھپا ہوتا ہے۔