سعید وزیر 


جنوبی وزیرستان کے علاقے تنائی کی گرد آلود گلیوں میں جب ایک ننھی سی بچی فٹ بال کو ٹھوکر مارتی ہے تو لمحہ بھر کو دنیا رک سی جاتی ہے۔ لوگ اسے “فٹ بال والی بچی” کہہ کر داد دیتے ہیں، شعیب اختر جیسے بڑے نام اس کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں، تعریفوں کی بارش ہوتی ہے اور تالیاں گونج اٹھتی ہیں۔

 

 مگر اس فٹ بال کی گردش میں چھپا وہ خاموش دکھ کوئی نہیں دیکھ پاتا جو اسماء حافظ کی آنکھوں میں ٹھہرا رہتا ہے۔ یہ دکھ علم سے دوری کا ہے۔ کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ اس بچی کی نگاہوں میں فٹ بال نہیں بلکہ ایک کھلی ہوئی کتاب کا خواب بستا ہے۔ اس بچی کا نام اسماء حافظ ہے، اور اس کی سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ وہ پڑھنا چاہتی ہے، مگر پڑھ نہیں سکتی۔

 

اسماء کا خواب ڈاکٹر بننا ہے، انسانوں کا درد کم کرنا ہے، مگر اس کے اپنے علاقے میں علم ہی نایاب ہے۔ سرکاری کاغذات میں جنوبی وزیرستان میں سینکڑوں سکول موجود ہیں، مگر حقیقت میں یہ عمارتیں ویران پڑی ہیں، جیسے خوابوں کی قبریں۔ تنائی میں لڑکیوں کے لیے ہائی سکول کا نہ ہونا اسماء کے تعلیمی سفر پر ایسا تالا ہے جس کی چابی اس ننھی بچی کے ہاتھ میں نہیں۔

 

اسماء کے الفاظ شور نہیں، سچ کی ایک دھیمی مگر گہری صدا ہیں۔ وہ کہتی ہے:
“لوگ مجھے فٹ بال والی بچی کہتے ہیں، مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ میرے ہاتھ میں کتاب کیوں نہیں؟ میں فٹ بال کو تو ٹھوکر مار سکتی ہوں، مگر میں نے اپنی تعلیم کو کبھی لات نہیں ماری۔ میں پڑھنا چاہتی ہوں، بستہ اٹھانا چاہتی ہوں، مگر میرے گاؤں میں علم کا کوئی دروازہ نہیں کھلتا۔”

 

چار سال گزر چکے ہیں۔ چار ایسے سال جو کسی بھی بچے کی زندگی میں بنیاد رکھتے ہیں، مگر اسماء کے لیے یہ سال محض انتظار بن کر رہ گئے کہ شاید کوئی راستہ نکل آئے، شاید کوئی اس  کی دل کی بات سن لے اور اس کے خواب سچ ثابت ہوجائیں۔

 

مایوسی کے باوجود اسماء نے ہار نہیں مانی۔ اس نے آن لائن تعلیم کا سہارا لیا، یوٹیوب کے اساتذہ، موبائل کی چھوٹی اسکرین اور کمزور امیدوں کے ساتھ۔ مگر جنوبی وزیرستان کے پہاڑوں میں انٹرنیٹ بھی اس بچی کا ساتھ نہ دے سکا۔ کبھی سگنل غائب ہو جاتا ہے، کبھی آواز ادھوری رہ جاتی ہے۔ ڈیجیٹل پاکستان کے دعوؤں کے درمیان ایک بچی اپنے مستقبل کو بار بار جوڑنے کی کوشش کرتی ہے، مگر ہر بار کڑی ٹوٹ جاتی ہے۔

 

اسماء کے بھائی کی خاموشی خود ایک فریاد بن جاتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
“جب اسماء مجھ سے پوچھتی ہے کہ بھائی! میں اسکول کب جاؤں گی؟ تو میری زبان بند ہو جاتی ہے۔ یہ میری کمزوری نہیں، بلکہ اس نظام کی ناکامی ہے جو میری بہن کو اس کا بنیادی حق نہیں دے سکا۔”

 

ملک نور الرحمان اور  مرحوم  شاہ حسین جیسے کچھ نیک دل لوگوں نے اسماء کو دانش سکول تک پہنچانے کی کوشش کی، مگر فائلوں، ضابطوں اور سرد بیوروکریسی نے اس ننھی امید کو بھی تھکا دیا۔ نظام کی پیچیدگیوں میں ایک اور خواب الجھ کر رہ گیا۔

 

آج اسماء حافظ کی نظریں وزیرِ اعظم پاکستان کی طرف لگی ہیں۔ اس کی اپیل نہ بڑی ہے، نہ پیچیدہ۔ وہ صرف اتنا چاہتی ہے کہ اسے پڑھنے دیا جائے، اسے دانش اسکول میں داخلہ ملے اور اس کے علاقے میں تعلیم کا دروازہ کھلے۔

 

یہ سوال صرف اسماء کا نہیں، یہ پورے معاشرے کا امتحان ہے۔ کیونکہ جب ایک بچی کا خواب ٹوٹتا ہے تو صرف ایک فرد محروم نہیں ہوتا، بلکہ ایک قوم کا مستقبل بھی سست پڑ جاتا ہے۔ اسماء آج فٹ بال کو ٹھوکر مارتی ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم کبھی اس کے ہاتھ میں کتاب تھمائیں گے؟