سیدہ قرۃ العین 

 

میں اکیلی نہیں ہوں، یہ جملہ صرف ایک تسلی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ جو ہر اس عورت کے دل میں کہیں نہ کہیں زندہ ہے، جو خاموشی سے زندگی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ جب ایک عورت خود کو اکیلا محسوس کرتی ہے تو اصل میں وہ اکیلی نہیں ہوتی بلکہ وہ ان ہزاروں عورتوں کی نمائندہ ہوتی ہے جو روز قربانی دیتی ہیں مگر ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ عورت کی جدوجہد ہمیشہ شور نہیں مچاتی۔ وہ آہستہ آہستہ سانس لیتی ہے۔ ذمہ داریاں نبھاتی ہے۔ سب کو سنبھالتی ہے اور خود کو پیچھے رکھ دیتی ہے۔


ہماری زندگی میں عورت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مضبوط ہو، سمجھدار ہو، صابر ہو، مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ وہ مضبوط کب تک رہے گی۔ عورت کی طاقت اس کی مجبوری سے پیدا ہوتی ہے۔ جب اس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہوتا تب وہ مضبوط بنتی ہے۔ یہ طاقت شوق سے نہیں آتی۔ یہ طاقت حالات سے پیدا ہوتی ہے۔ عورت قربانی دیتی ہے کیونکہ اسے سکھایا گیا ہے کہ اچھا ہونا ضروری ہے۔ خاموش رہنا ضروری ہے۔ سب کچھ سہہ لینا ہی اس کی پہچان ہے۔


عورت کی سب سے بڑی قربانیاں اکثر اس کے خاندان کے لیے ہوتی ہیں۔ وہ اپنے آرام کو پیچھے رکھ دیتی ہے تاکہ گھر چلتا رہے۔ وہ اپنی نیند قربان کرتی ہے تاکہ سب وقت پر اٹھ سکیں۔ وہ اپنی صحت نظرانداز کرتی ہے تاکہ بچوں کی ضروریات پوری ہوں۔ وہ اپنی پسند کے کپڑے نہیں لیتی مگر گھر والوں کی خواہشیں پوری کرتی ہے۔ خاندان کے لیے کی جانے والی یہ قربانیاں روز مرہ کا حصہ بن جاتی ہیں اور کوئی انہیں قربانی سمجھتا بھی نہیں۔


ہر عورت کسی نہ کسی مرحلے پر خود کو اکیلا محسوس کرتی ہے۔ چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، ماں ہو یا بیٹی، کام کرنے والی ہو یا گھر سنبھالنے والی اکیلا پن لوگوں کی کمی سے نہیں آتا بلکہ سمجھنے والوں کی کمی سے آتا ہے۔ عورت کے اردگرد خاندان ہوتا ہے، مگر اس کے دل کی بات سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ وہ ہنستی ہے تاکہ گھر کا ماحول خراب نہ ہو وہ خاموش رہتی ہے تاکہ کسی کو تکلیف نہ ہو۔ وہ خود کو مضبوط دکھاتی ہے کیونکہ کمزوری دکھانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔


عورت کی سب سے بڑی قربانی وہ خواب ہیں جو اس نے خاندان کی خاطر ترک کر دیے۔ وہ تعلیم جو حالات کی نذر ہو گئی۔ وہ کیریئر جو کبھی شروع ہی نہ ہو سکا وہ شوق جو ذمہ داریوں کے نیچے دب گیا۔ وہ سوال جو اس نے اس لیے نہیں پوچھے کہ کہیں رشتہ خراب نہ ہو جائے قربانی صرف وقت یا محنت کی نہیں ہوتی۔ قربانی اپنی ذات کی بھی ہوتی ہے۔ عورت خود کو دوسروں کے لیے تھوڑا تھوڑا بانٹتی رہتی ہے یہاں تک کہ ایک دن وہ خود کو ڈھونڈنے لگتی ہے۔


خاندان عورت سے توقع کرتا ہے کہ وہ سب کو جوڑ کر رکھے۔ اختلاف میں بیچ کا راستہ نکالے۔ تلخ باتوں کو برداشت کرے۔ رشتوں کو بچانے کے لیے خود ٹوٹ جائے اگر گھر میں سکون ہے، تو اسے عورت کی خاموشی سمجھا جاتا ہے۔ اگر گھر میں مسئلہ ہو تو الزام بھی عورت پر آتا ہے اس سب کے باوجود وہ خاندان کو اپنا سب کچھ سمجھ کر نبھاتی رہتی ہے۔


مضبوط بننے کا واحد راستہ یہ نہیں کہ ہم مزید برداشت کریں۔ اصل طاقت اس دن پیدا ہوتی ہے جب عورت یہ مان لیتی ہے کہ وہ تھک چکی ہے، جب وہ یہ قبول کر لیتی ہے کہ اسے بھی خاندان کی طرف سے سہارا چاہیے۔ جب وہ خود کو ہر بات کا ذمہ دار ٹھہرانا چھوڑ دیتی ہے۔ مضبوط ہونا یہ نہیں کہ درد محسوس نہ ہو بلکہ یہ ہے کہ درد کے باوجود خود کو ختم نہ ہونے دیا جائے۔


ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ عورت اگر بولے گی تو بگڑی ہوئی کہلائے گی اگر خاندان کے سامنے سوال کرے گی تو نافرمان سمجھی جائے گی اگر اپنی ضرورت کو ترجیح دے گی تو خود غرض قرار دی جائے گی۔ اسی خوف نے عورت کو گھر کے اندر بھی خاموش رکھا۔ مگر خاموشی ہمیشہ حل نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی خاموشی خاندان کے بیچ رہتے ہوئے بھی عورت کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔


میں اکیلی نہیں ہوں کیونکہ میری طرح اور بھی عورتیں ہیں جو اپنے خاندان کے لیے جیتی ہیں۔ جو اپنی خواہشیں قربان کر کے رشتے نبھاتی ہیں۔ جو خود ٹوٹ کر بھی گھر کو جوڑے رکھتی ہیں۔ جو آنسو چھپا کر بچوں کے سامنے مسکراتی ہیں۔ یہ جاننا ہی سب سے بڑی طاقت ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔ ہماری کہانی کسی ایک کی نہیں بلکہ ہر اس عورت کی ہے جو خاندان اور زندگی دونوں کے درمیان خود کو بھول جاتی ہے۔


عورت کو مضبوط بنانے کے لیے اسے مزید قربانی دینا سکھانے کی ضرورت نہیں۔ اسے یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ خاندان کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی اہم ہے۔ وہ اپنی آواز پہچانے۔ وہ یہ جانے کہ اس کی قدر صرف دینے سے نہیں بلکہ اس کے انسان ہونے سے ہے۔ جب عورت خود کو قبول کر لیتی ہے تب ہی وہ خاندان کے لیے بھی بہتر سہارا بن پاتی ہے۔


میں اکیلی نہیں ہوں کیونکہ میری خاموشی میں بھی ایک آواز ہے۔ میری خاندانی قربانیوں میں بھی ایک کہانی ہے۔ میری جدوجہد میں بھی ایک مقصد ہے۔ اور میری مضبوطی اس بات میں ہے کہ میں آج بھی کھڑی ہوں۔ ٹوٹی ہوئی سہی مگر زندہ ہوں۔ اور یہی زندہ رہنا سب سے بڑی طاقت ہے۔