محمد سلمان
جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع، جنرل سیکرٹری صابر حسین اعوان اور ضلع خیبر کے امیر شاہ فیصل نے تیراہ میں ممکنہ آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کریں اور لاہور کے دوروں کے بجائے صوبے کے مسائل پر توجہ دیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشنز سے امن قائم نہیں ہو سکتا، اگر ایسا ممکن ہوتا تو گزشتہ 15 سال کے دوران ہونے والے متعدد آپریشنز کے بعد خیبرپختونخوا کو ملک کا پرامن ترین صوبہ قرار دیا جا چکا ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہ خیبر ایجنسی میں آپریشنز کا سلسلہ 2006 سے شروع ہوا، جن کے مختلف نام رکھے گئے۔ اسی طرح تیراہ میں بھی خیبر ون، ٹو اور تھری کے نام سے آپریشن کئے گئے۔ ان آپریشنز کے نتیجے میں عام شہریوں نے بے پناہ قربانیاں دیں، چند گھنٹوں کے نوٹس پر اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے، اور مقصد صرف یہی تھا کہ علاقے میں امن قائم ہو جائے۔
جماعت اسلامی رہنماؤں کے مطابق اگر ان آپریشنز کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو امن بحال نہیں ہوا بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ دہشت گردی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ایک بار پھر حکومت تیراہ میں آپریشن کی تیاری کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے، تاہم عوام کے ذہنوں میں شدید خدشات ہیں کہ وہ ایک بار پھر بے گھر ہوں گے، ان کے مکانات تباہ ہوں گے اور اس کے باوجود امن قائم نہیں ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ایک طرف دعویٰ کرتے ہیں کہ تیراہ میں آپریشن نہیں ہونے دیں گے، جبکہ دوسری جانب متاثرین کے لیے انتظامات بھی شروع کر دیے گئے ہیں، جو تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ ان کے نزدیک آپریشن مسائل کا حل نہیں ہیں، بلکہ ایسے اقدامات سے امن کے بجائے دہشت گردی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
