میڈیا کے نگران ادارے فریڈم نیٹ ورک کی نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں صحافیوں کو مختلف اطراف سے سخت دباؤ، دھمکیوں، تشدد اور سنسرشپ کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں بلوچستان میں 40 صحافی قتل ہوئے جن میں سے تقریباً 30 صحافی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے جبکہ باقی دھماکوں اور حملوں میں مارے گئے۔ رپورٹ میں خضدار کو صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک ضلع قرار دیا گیا ہے۔
فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے کہا کہ “بلوچستان میں ہم صحافت کھو چکے ہیں، جہاں سیلف سنسرشپ اور جبری سنسرشپ سب سے زیادہ رائج ہے تاکہ محفوظ رہا جا سکے اور کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
مجھے امید ہے کہ اس رپورٹ کے نتائج تمام متعلقہ فریقوں کی توجہ حاصل کریں گے تاکہ صورتحال کو بہتر کیا جا سکے اور میڈیا کے کارکنان محفوظ ہوں، تاکہ شہریوں کو قابل اعتماد معلومات تک رسائی مل سکے۔”
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں میڈیا کو سیکیورٹی مسائل، کمزور طرزِ حکمرانی، معاشی حالات اور آبادیاتی عوامل نے سخت متاثر کیا ہے۔ معلومات تک رسائی بھی محدود ہے۔
پاکستان میں 2025 کے آغاز پر 11 کروڑ 60 لاکھ (45.7٪) لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں لیکن بلوچستان میں یہ شرح صرف 15 فیصد ہے جبکہ صوبے کے 60 فیصد علاقوں میں فائبر کنیکٹیویٹی موجود نہیں۔ کئی علاقوں میں انٹرنیٹ طویل عرصہ بند رہتا ہے جو رپورٹنگ اور معلومات تک رسائی کو متاثر کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں علاقائی میڈیا کمزور ہے۔ ٹی وی چینلز کی مستقل موجودگی محدود ہے، قومی میڈیا کوئٹہ بیورو کم کر رہا ہے جبکہ صوبائی دارالحکومت سے باہر کوریج نہ ہونے کے برابر ہے۔
صوبے میں زمینی (Terrestrial) کرنٹ افیئرز ٹی وی چینل موجود نہیں، سرکاری میڈیا شہری علاقوں تک محدود ہے۔ ایف ایم ریڈیو کو صرف 35 سے 40 کلومیٹر تک نشریاتی اجازت ہے جو بلوچستان جیسے بڑے صوبے کے لیے ناکافی ہے۔پرنٹ میڈیا زیادہ تر کوئٹہ تک محدود ہے۔
صوبائی ڈی جی پی آر کے مطابق 120 سے زائد اخبارات و جرائد رجسٹرڈ ہیں لیکن صرف ایک درجن کے قریب کے حقیقی قارئین موجود ہیں جبکہ کئی اخبارات صرف سرکاری اشتہارات کے لیے “ڈمی” کے طور پر چل رہے ہیں۔ اشتہاری بجٹ تیزی سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحافیوں پر مسلح گروہوں کے بیانات شائع کرنے یا سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ انکار یا تعاون دونوں صورتوں میں انہیں خطرات لاحق رہتے ہیں۔
دہشت گردی کے متاثرہ صحافیوں کے لیے 40 لاکھ روپے تک معاوضے کی اسکیم موجود ہے، تاہم اب تک کسی صحافی کے قتل کیس میں کوئی مجرم سزا نہیں پا سکا اور عدم سزا کا رجحان برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق خواتین صحافیوں کی تعداد انتہائی کم ہے اور زیادہ تر کوئٹہ تک محدود ہیں۔ انہیں نقل و حرکت میں مشکلات، فیلڈ میں خطرات، نیوز روم میں صنفی امتیاز، کم اجرت، سہولیات کی کمی اور ہراسانی جیسے مسائل کا سامنا ہے جبکہ اکثر خواتین کو “حفاظت” کے نام پر فیلڈ اسائنمنٹس بھی نہیں دی جاتیں۔
