رعناز

 

کیا آ پ  نے  یہ  نوٹ کیا ہے کہ ہماری زندگیوں میں رشتہ داروں کا ایک خاص کردار اور ہاتھ ہوتا ہے، لیکن کئی بار یہ کردار مشورے کی حد سے بڑھ کر مداخلت بن جاتا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ انہیں دوسروں کی زندگی کے ہر فیصلے پر حکم چلانے کا حق حاصل ہے۔ کہاں پڑھنا ہے، کیا کرنا ہے، کس سے ملنا جلنا ہے، یہاں تک کہ شادی کے معاملات میں بھی اُن کی رائے  ضروری سمجھی جاتی ہے۔

 

 مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بات اُن کے اپنے بچوں کی آتی ہے تو سارے اصول بدل جاتے ہیں۔ وہ وہی کام، جس پر ہمیں روکا جاتا ہے، اپنے بچوں کے لیے جائز قرار دے دیتے ہیں۔ یہ رویّہ دراصل اس معاشرتی دوہرے معیار کا عکاس ہے جس نے رشتوں کی خوبصورتی کو دھندلا دیا ہے۔

 

ہم پر سختی، اپنے بچوں پر نرمی  آخر یہ کیوں۔اکثر رشتہ دار ہمیں مشوروں کے نام پر وہ پابندیاں لگاتے ہیں جنہیں وہ خود قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر  میں کسی  مشکل    شعبے میں جانے سے منع کیا جاتا ہے، جبکہ ان کے اپنے بچے وہی فیلڈ اختیار کریں تو تعریفوں کے پل باندھ دیے جاتے ہیں۔ ہمارے دوستوں پر پابندیاں لگتی ہیں لیکن اُن کے بچوں کے تعلقات پر مکمل خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔

 

 ہمیں غیر ضروری مشوروں سے نوازا جاتا ہے کہ کہاں کام کریں، مگر ان کے بچے چاہے بے روزگار رہیں، تب بھی اسے آزادی  کہا جاتا ہے۔ ہماری شادی کے فیصلوں میں روایات کا دباؤ ڈالا جاتا ہے، مگر اپنے بچوں کے لئے  زمانہ بدل گیا ہے  کا نیا سبق پڑھا دیا جاتا ہے۔ یہ تضاد بتاتا ہے کہ مسئلہ دراصل اصولوں کا نہیں، بلکہ اختیار اور برتری قائم رکھنے کا ہے۔

 

 اس رویّے کے پیچھے کئی سماجی حقیقتیں چھپی ہوتی ہیں۔  یا ہم نے کبھی یہ سوچاہے۔ دوسروں کی زندگی پر قابو کیوں؟   کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ بڑا ہونے کا مطلب ہے دوسروں کی زندگی کے فیصلوں میں دخل دینا۔ وہ اسے اپنی ذمہ داری نہیں بلکہ اختیار سمجھتے ہیں۔  کچھ رشتہ دار نہیں چاہتے کہ دوسروں کے بچے ان کے بچوں سے بہتر کریں۔ اس لیے وہ ہمیں غلط سمت میں دھکیل کر اپنے بچوں کی برتری برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

 

                کئی بزرگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا تجربہ حتمی ہے اور نئی نسل کے فیصلے ہمیشہ غلط ہوں گے۔

                اپنے بچوں کے لیے وہ نرم اس لیے ہو جاتے ہیں کہ کل کو کسی مشکل یا غلط فیصلے کا الزام اُن پر نہ آئے۔ اس دوہرے معیار کے نقصانا ت بہت ہی ذیادہ ہے۔

 

یہ رویّہ نہ صرف رشتوں میں تلخی پیدا کرتا ہے بلکہ نوجوانوں کی سوچ اور اعتماد کو بھی متاثر کرتا ہے۔ بار بار مداخلت کے نتیجے میں  انسان اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتا ہے،  اعتماد کم ہوتا ہے، خاندان سے دوری بڑھ جاتی ہے،اور ایک نفسیاتی دباؤ جنم لیتا ہے۔

 

       معاشرے میں دوہرا معیار ایک خاموش بیماری ہے۔ رشتہ دار اگر واقعی خیرخواہ ہیں تو انہیں دوسروں کے لیے وہی اصول رکھنے چاہئیں جو اپنے بچوں کے لیے رکھتے ہیں۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کریں، اپنے راستے خود چنیں اور دوسروں کے دباؤ میں نہ آئیں۔زندگی صرف ایک بار ملتی ہے اسے دوسروں کے بدلتے اصولوں پر نہیں، اپنی سمجھ، اپنی خوشی اور اپنے خوابوں کے مطابق گزارنی چاہیے۔