ثاقب الرحمٰن

 

نوشہرہ کے علاقے اکوڑہ خٹک اور اس کے گرد و نواح سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ جانے کے خواب میں انسانی سمگلرز کے جھانسے کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گئے۔ دونوں نوجوان غیر قانونی راستے، المعروف ڈنکی روٹ، کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے کہ دوران سفر ایرانی سرزمین پر موت کا شکار ہو گئے۔

 

جاں بحق ہونے والوں میں ایک نوجوان ارمان اللہ شامل ہے، جس کی عمر تقریباً 16 سال بتائی جاتی ہے اور اس کا تعلق اکوڑہ خٹک، نوشہرہ سے تھا۔ ارمان اللہ کے والد دیہاڑی دار مزدور ہیں جو محنت مزدوری کر کے بمشکل گھر کا خرچ پورا کرتے ہیں۔ غربت اور محدود وسائل نے کم عمر ارمان اللہ کو ایک ایسے خطرناک فیصلے پر مجبور کیا، جس کی قیمت اسے اپنی جان کی صورت میں چکانی پڑی۔

 

دوسرا نوجوان احتشام تھا، جس کی عمر 25 سال تھی۔ احتشام کے والد ٹائر پنکچر لگانے کا کام کرتے ہیں اور وہ بھی ایک غریب محنت کش خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ گھر کے حالات بہتر بنانے اور خاندان کا سہارا بننے کا خواب لے کر وہ اس جان لیوا سفر پر روانہ ہوا، مگر منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی زندگی کی بازی ہار گیا۔

 

متاثرہ خاندانوں کے مطابق دونوں نوجوانوں کو یورپ پہنچانے کے لیے ایک افغان ایجنٹ کو بھاری رقم ادا کی گئی تھی، جس نے محفوظ راستے اور یورپ منتقلی کی یقین دہانی کرائی، تاہم بعد ازاں ایجنٹ غائب ہو گیا۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ نہ تو ان کے پاس انصاف کے حصول کا کوئی راستہ ہے اور نہ ہی میتیں وطن واپس لانے کے لیے وسائل موجود ہیں۔

 

ایران میں تعینات پاکستانی سفیر نے بھی دونوں نوجوانوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ پاکستانی سفارت خانے کے مطابق ارمان اللہ اور احتشام کی لاشیں اس وقت ایران میں موجود ہیں، جبکہ ان کی وطن واپسی کے لیے قانونی کارروائی جاری ہے۔

 

یہ افسوسناک واقعہ انسانی سمگلنگ کے بڑھتے ہوئے ناسور کی ایک اور بھیانک مثال ہے، جس نے نوشہرہ کے دو غریب خاندانوں کے گھروں کے چراغ ہمیشہ کے لیے بجھا دیے۔ اہل علاقہ اور متاثرہ خاندانوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی سمگلرز کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائی کی جائے، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف کے ساتھ ساتھ مالی معاونت بھی فراہم کی جائے۔

 

غربت، مجبوری اور جھوٹے وعدے، یورپ کا خواب دو گھروں کے لیے ہمیشہ کے لیے ماتم میں بدل گیا۔