محمد سلمان
پشاور پولیس کے سربراہ ڈاکٹر میاں سعید نے جس عزم، جرات اور ولولے کے ساتھ قبضہ گروپس اور بھتہ خوروں کے خلاف کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں، وہ سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ عوامی حلقوں میں بھی غیر معمولی توجہ اور پذیرائی حاصل کر رہی ہیں۔ شہریوں کی جانب سے بار بار یہ مطالبہ سامنے آ رہا ہے کہ ان کارروائیوں میں کسی قسم کی نرمی نہ کی جائے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ پشاور سے جرائم پیشہ عناصر کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل:
سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پلیٹ فارم فیس بک پر اس وقت سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید کی تصاویر، بیانات اور جرات مندانہ اقدامات سے متعلق پوسٹس کی بھرمار ہے۔ کوئی صارف اپنے پیج پر ڈاکٹر میاں سعید کے کارنامے شیئر کر رہا ہے تو کوئی یہ پیغام دے رہا ہے کہ “قدم بڑھائیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں”۔ بعض پوسٹس میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ احتساب بلا تفریق ہونا چاہیے اور کسی کو بھی رعایت نہ دی جائے۔
فیس بک کے بعد کروڑوں صارفین کی مقبول ایپ واٹس ایپ پر بھی ڈاکٹر میاں سعید سے متعلق خبریں اور ویڈیوز تیزی سے شیئر ہو رہی ہیں۔ مختلف واٹس ایپ گروپس میں قبضہ مافیا اور بھتہ خوروں کے خلاف کارروائیوں پر بحث جاری رہتی ہے جبکہ انسٹاگرام پر بھی پشاور پولیس چیف کے اقدامات کو سراہا جا رہا ہے۔
عوامی حلقوں کی آراء:
مدثر احمد کا کہنا ہے کہ ابتدا میں جب ڈاکٹر میاں سعید نے چارج سنبھالا تو انہوں نے بھتہ خوروں اور قبضہ گروپس کو واضح پیغام دیا، مگر اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ تاہم جب آدم خان اور بعد ازاں لالی گروپس کے خلاف کارروائیاں ہوئیں تو جرائم پیشہ عناصر میں خوف پیدا ہوا اور انہیں سابقہ افسران اور ڈاکٹر میاں سعید کے درمیان واضح فرق نظر آیا۔ ان کے مطابق یہ اقدامات دراصل پشاور کے شہریوں کے دل کی آواز ہیں۔
احمد جان کا کہنا ہے کہ اگر پشاور سے جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ ہو گیا تو یہ ڈاکٹر میاں سعید کا شہر پر ایک بڑا احسان ہوگا۔ ان کے مطابق پہلی بار کسی پولیس افسر نے اس انداز میں جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی کی ہے اور پولیس کی جانب سے جاری کی گئی فہرستوں پر عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
راہِ امن پارٹی کے سربراہ محمد اسلم نے کہا کہ ڈاکٹر میاں سعید انسان کی شکل میں فرشتہ ہیں۔ ان کے بقول ڈاکٹر میاں سعید نے جو کام شروع کیا ہے وہ ایک جہاد کے مترادف ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ نہ صرف پشاور بلکہ پورے صوبے کے عوام ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور چند ماہ میں جو نیک نامی انہوں نے کمائی ہے وہ بہت کم پولیس افسران کے حصے میں آتی ہے۔
