کوہستان مالی اسکینڈل کے مرکزی ملزم قیصر اقبال نے 14 ارب روپے کی پلی بارگین (ملزم اور نیب کے درمیان سمجھوتہ) کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) سے رابطہ کیا ہے۔
نیب کے مطابق، قیصر اقبال محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں ہیڈ کلرک تھا اور اس کے اور اس کی اہلیہ کے نام پر 10 ارب روپے کے بنگلے، پلازے، گاڑیاں، سونا اور دیگر قیمتی اثاثے ہیں، جبکہ 4 ارب روپے کے اثاثے کسی ڈمپر ڈرائیور کے نام پر خریدے گئے۔
نیب ذرائع نے مزید بتایا کہ ملزم کی جانب سے 14 ارب روپے کی پلی بارگین کے لیے قومی احتساب بیورو کو درخواست دے دی گئی ہے۔
یاد رہے ملزم نے جعلی بلنگ، مالی دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے اربوں روپے کی خردبرد کی اور سی اینڈ ڈبلیو کے افسران کے ساتھ مل کر بے نامی اکاؤنٹس اور جعلی فارمز کے ذریعے فنڈز منتقل کیے۔
اس سے پہلے نیب نے 40 ارب روپے کے کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں 8 اہم ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جن میں 2 سرکاری افسر، 2 بینکرز اور 4 ٹھیکیدار شامل ہیں۔
