ضلع خیبر کی ضلعی انتظامیہ اور وادی تیراہ کی 24 رکنی نمائندہ کمیٹی کے درمیان جرگہ کامیاب ہوگیا۔ معاہدے کے مطابق وادی تیراہ میدان سے انخلا 10 جنوری سے شروع ہوگا اور 30 جنوری تک علاقہ مکمل طور پر خالی کرا لیا جائے گا۔

 

 دونوں فریقین نے فیصلے پر باضابطہ دستخط بھی کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق فوجی آپریشن کے بعد متاثرین کی مرحلہ وار واپسی 5 اپریل کے بعد شروع کی جائے گی۔ 

 

معاہدے کے تحت آپریشن میں مکمل تباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کو 30 لاکھ روپے جبکہ جزوی نقصان کی صورت میں 10 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔

 

 ہر متاثرہ خاندان کو بائیومیٹرک تصدیق کے بعد 2 لاکھ 50 ہزار روپے نقد امداد اور 50 ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے۔

 

متاثرین کیلئے ٹرانسپورٹ، راستوں میں طبی سہولیات اور خوراک کی فراہمی بھی حکومت کی جانب سے فراہم کی جائے گی۔

 

 بائیومیٹرک تصدیق باغ مرکز اور پندی چینہ میں کی جائے گی، جبکہ 10 جنوری سے پہلے نقل مکانی کرنے والے خاندان بھی سروے کے بعد شامل ہوں گے۔

 

سرکاری ذرائع کے مطابق تمام اقدامات شفافیت اور متاثرین کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں تاکہ انخلا اور بحالی کا عمل منظم طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔