سلمان یوسفزئی
خیبر پختونخوا میں غریب اور متوسط طبقے کے لیے شروع کیا گیا صحت کارڈ پروگرام رواں سال بھی لاکھوں خاندانوں کے لیے سہارا بنا رہا۔
محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق صوبے میں صحت کارڈ پروگرام کے تحت جنوری 2025 سے نومبر 2025 تک 10 لاکھ 85 ہزار 110 افراد نے مختلف سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت حاصل کی۔ اس عرصے کے دوران صحت کارڈ کے ذریعے علاج پر مجموعی طور پر 31 ارب 66 کروڑ روپے سے زائد خرچ کئے گئے۔
محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر اخراجات ان مریضوں پر آئے جنہیں سنگین اور مہنگا علاج درکار تھا۔ یہ وہ علاج ہوتے ہیں جو عام ہسپتالوں میں ممکن نہیں ہوتے، جیسے دل کے بڑے آپریشن، کینسر کا علاج، دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن یا گردوں کی پیوند کاری۔ ایسے علاج سے 6 لاکھ 31 ہزار سے زائد مریضوں نے فائدہ اٹھایا، جن پر 23 ارب روپے سے زیادہ خرچ ہوئے۔ اس کے مقابلے میں نسبتا سادہ علاج سے 4 لاکھ 52 ہزار سے زائد افراد مستفید ہوئے جن پر 8 ارب 15 کروڑ روپے خرچ آئے۔
رپورٹ کے مطابق صحت کارڈ کے ذریعے سرکاری ہسپتالوں میں 6 لاکھ 92 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا جس پر 17 ارب 44 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ نجی ہسپتالوں میں تین لاکھ 33 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج ہوا جن پر 11 ارب 51 کروڑ روپے خرچ کیے گئے جبکہ سرکار اور نجی شعبے کے مشترکہ ہسپتالوں میں بھی ہزاروں مریضوں نے علاج کروایا۔
محکمہ صحت کے مطابق صحت کارڈ سے فائدہ اٹھانے والوں میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ رہی۔ پانچ لاکھ 85 ہزار سے زائد خواتین نے صحت کارڈ کے تحت علاج کروایا جبکہ چار لاکھ 99 ہزار سے زائد مرد اس سہولت سے مستفید ہوئے۔ تاہم علاج پر آنے والے اخراجات میں مرد اور خواتین پر تقریبا برابر رقم خرچ ہوئی۔
علاج کی اقسام کے حوالے سے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ رقم دل کے امراض پر خرچ ہوئی۔ صرف 52 ہزار سے زائد مریضوں کے دل کے علاج پر آٹھ ارب 16 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ اسی طرح کینسر کے علاج پر تین ارب روپے سے زائد خرچ آئے جبکہ گردوں کے امراض میں مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باوجود اخراجات نسبتا کم رہے۔ زچگی، جنرل سرجری اور مثانہ کے امراض بھی ان شعبوں میں شامل رہے جہاں بڑی تعداد میں مریضوں کا علاج کیا گیا۔
محکمہ صحت کے مطابق صحت کارڈ پر سب سے زیادہ پشاور کے ایک لاکھ سے زائد افراد کا علاج کیا گیا جس پر تین ارب 35 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوئے۔ اس کے بعد سوات، مردان، چارسدہ اور لوئر دیر ایسے اضلاع رہے جہاں صحت کارڈ کا استعمال نمایاں رہا۔
محکمہ صحت کے مطابق دور دراز اور پسماندہ اضلاع میں مریضوں کی تعداد کم رہی جس کی ایک بڑی وجہ وہاں صحت سہولیات تک محدود رسائی بتائی جاتی ہے۔
دوسری جانب محکمہ صحت کے حکام کے مطابق صحت کارڈ پروگرام نے غریب اور متوسط طبقے کو مہنگے علاج کے اخراجات سے بڑی حد تک نجات دلائی ہے تاہم دل، کینسر اور دیگر پیچیدہ امراض کے علاج پر آنے والے اخراجات حکومتی بجٹ پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر ضلعی سطح پر ہسپتالوں کو مزید بہتر بنایا جائے تو مریضوں کو سہولت ملنے کے ساتھ ساتھ صحت کارڈ پر آنے والے اخراجات میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔
