سیدہ قرۃ العین
انسان جو زندگی جی رہا ہے کیا واقعی وہ ایک نارمل زندگی ہے یا صرف ایک چلتی ہوئی رسم ہے؟ جسے ہم عادت کے طور پر نبھا رہے ہیں۔ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ذمہ داریوں کا بوجھ پہلے سے تیار ہوتا ہے۔ دن کام میں گزر جاتا ہے اور رات تھکن میں۔ اس پورے عمل میں کہیں ہم خود سے پوچھتے بھی ہیں کہ ہم جو جی رہے ہیں وہی زندگی ہے جو ہمیں جینی چاہیے تھی یا ہم صرف حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہوئے وقت گزار رہے ہیں۔
بچپن میں زندگی ایک خواب کی طرح لگتی ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ بڑے ہو کر سب بہتر ہو جائے گا۔ خوشی خود بخود آ جائے گی اور مسائل ختم ہو جائیں گے۔ مگر جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے زندگی ایک لسٹ بن جاتی ہے۔ تعلیم مکمل کرو نوکری ڈھونڈو گھر سنبھالو لوگوں کو خوش رکھو خود کو بعد میں دیکھیں گے۔ اس بعد میں میں اکثر پوری زندگی گزر جاتی ہے۔
ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنی خواہشات کو خاموش کر دیتے ہیں۔ کسی کو ڈر ہوتا ہے کہ اگر دل کی سنی تو لوگ کیا کہیں گے۔ کسی کو ذمہ داریوں کا خوف ہوتا ہے اور کسی کو ناکامی کا۔ ہم خود کو یہ تسلی دیتے ہیں کہ یہی زندگی ہے سب ایسے ہی جیتے ہیں۔ مگر اندر کہیں ایک خالی پن رہ جاتا ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔
کیا نارمل زندگی وہ ہے جس میں ہم مسکرا کر دوسروں کو مطمئن کریں اور اندر سے ٹوٹے رہیں۔ کیا کامیابی صرف یہ ہے کہ ہم معاشرے کے بنائے ہوئے معیار پر پورا اتریں چاہے اس کی قیمت ہماری ذہنی اور جذباتی صحت ہو۔ بہت سے لوگ ہنستے ہوئے نظر آتے ہیں مگر رات کو تنہائی میں آنسو بہاتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے زندگی کو جینے کے بجائے برداشت کرنا سیکھ لیا ہوتا ہے۔
برداشت اور سمجھوتہ وقتی طور پر زندگی کو چلنے میں مدد دے سکتے ہیں، مگر یہ زندگی کی اصل روح نہیں ہو سکتی۔ زندگی کی روح تو احساس میں ہے۔ اپنے وجود کو محسوس کرنے میں۔ اپنی خوشی غم خوف اور خواب کو تسلیم کرنے میں۔ زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں بلکہ یہ جاننے کا نام ہے کہ ہم کیوں جی رہے ہیں۔
ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ مضبوط وہ ہے جو سب کچھ سہہ جائے۔ جو شکایت نہ کرے اور جو تھکے بغیر چلتا رہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ اصل مضبوطی خود سے سچ بولنے میں ہے۔ یہ ماننے میں کہ ہم تھک گئے ہیں۔ کہ ہمیں مدد چاہیے۔ کہ ہم خوش نہیں ہیں۔ یہ اعتراف ہمیں کمزور نہیں بناتا بلکہ ہمیں انسان بناتا ہے۔
زندگی کی اصل روح تب محسوس ہوتی ہے جب ہم چھوٹی چیزوں میں خوشی تلاش کرنا سیکھتے ہیں۔ ایک سادہ سی چائے ایک خاموش شام کسی اپنے کے ساتھ بے وجہ ہنسی۔ جب ہم خود کو یہ اجازت دیتے ہیں کہ ہم کامل نہ ہوں۔ جب ہم اپنی غلطیوں کو سیکھنے کا ذریعہ بناتے ہیں نہ کہ سزا۔
اصل زندگی وہ نہیں جو ہمیں دکھائی جاتی ہے بلکہ وہ ہے جو ہم اندر سے محسوس کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر نظر آنے والی چمکتی زندگیوں کے پیچھے بھی تھکن اور ادھورے خواب ہوتے ہیں۔ مگر ہم خود کو دوسروں سے موازنہ کر کے اپنی زندگی کو ناکافی سمجھنے لگتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کا سفر الگ ہے۔
ہم اکثر یہ کہتے ہیں کہ ابھی حالات ایسے ہیں بعد میں جئیں گے۔ مگر زندگی بعد میں نہیں ہوتی۔ زندگی اسی لمحے میں ہوتی ہے جو ابھی ہمارے پاس ہے۔ جب ہم ہر دن کو صرف گزارنے کے بجائے محسوس کرنے لگیں تو شاید ہمیں زندگی کی اصل روح کا اندازہ ہو۔
زندگی کی روح مقصد میں بھی ہے مگر وہ مقصد صرف بڑی کامیابیاں نہیں ہوتیں۔ کبھی کسی کا درد سمجھ لینا بھی مقصد بن جاتا ہے۔ کبھی خود کو معاف کر دینا بھی ایک بڑی جیت ہوتی ہے۔ کبھی نہ کہنا بھی زندگی کو بچا لیتا ہے۔
ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ زندگی ایک دوڑ نہیں ہے۔ یہ ایک سفر ہے جس میں رکنا بھی جائز ہے۔ تھکنا بھی اور راستہ بدلنا بھی۔ جو زندگی ہم جینا چاہتے ہیں شاید وہ مکمل طور پر ممکن نہ ہو مگر ہم اسے تھوڑا سا اپنے حق میں ضرور کر سکتے ہیں۔
جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ ہم صرف سمجھوتے کے لیے پیدا نہیں ہوئے بلکہ محسوس کرنے کے لیے بھی ہیں تو زندگی آہستہ آہستہ بدلنے لگتی ہے۔ شاید مسائل ختم نہ ہوں مگر ہم ان کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں بغیر خود کو کھوئے۔
ہم زندگی جی رہے ہیں یا صرف وقت گزار رہے ہیں۔ اس کا جواب ہر انسان کو خود دینا ہوتا ہے۔ کیونکہ زندگی باہر سے نہیں اندر سے نارمل یا غیر نارمل ہوتی ہے۔ اور جب اندر سکون آ جائے تو شاید یہی زندگی کی اصل روح ہے۔
