خادم خان آفریدی 

 

 ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ، قبیلہ ملک سے تعلق رکھنے والے نوجوان سراج آفریدی ولد حاجی عمل خان غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کے دوران جاں بحق ہو گئے۔ سراج آفریدی اپنے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے  پولینڈ جا رہے تھے 

 

خاندانی ذرائع کے مطابق سراج آفریدی روس میں تعلیمی ویزے پر رہائش پذیر تھے، جہاں سے وہ یورپ جانے کی غرض سے بیلاروس گئے۔ بعد ازاں انہوں نے بیلاروس سے غیر  قانونی طور پر پولینڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

 

سراج آفریدی کے رشتہ دار حقیار آفریدی نے ٹی این این کو  بتایا کہ تقریباً چھ دن قبل پولینڈ بارڈر پر سراج آفریدی اور ان کے دیگر ساتھیوں کو پولیس نے گرفتار کر کے واپس بیلاروس بھیج دیا۔ 

 

واپسی کے دوران شدید برف باری اور سخت سردی کے باعث سراج آفریدی کی حالت بگڑ گئی اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔

 

اہلِ خانہ کو سراج آفریدی کی موت کی اطلاع تین دن بعد ملی۔ ان کی میت تاحال بیلاروس میں موجود ہے جبکہ لواحقین شدید کرب اور مشکلات کا شکار ہیں۔

 

 خاندان نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سراج آفریدی کی میت جلد از جلد وطن منتقل کرانے میں مدد فراہم کی جائے۔

سراج آفریدی کے پسماندگان میں ایک دو سالہ بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق ان کے ساتھ موجود دیگر افراد بھی شدید سردی سے متاثر ہوئے ہیں، تاہم مزید جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔