عبدالقیوم آفریدی
دنیا بھر میں بھنگ (Cannabis) کو صنعتی، ادویاتی اور سائنسی استعمال کے لیے قانونی حیثیت دینے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، عالمی سطح پر اسے 'گرین گولڈ' بھی کہا جاتا ہے۔خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں بھنگ کی فصل کو قانونی طور پر کاشت کرنے کینابیس ریگولیٹری کمیٹی قائم کر رکھی ہے۔ جس خیبر پختونخوا میں بھنگ کی فصل کو قانونی کاشت کے لئے علاقوں کی نشاندہی اور طریقہ کار سمیت دیگر لوازمات کی تکمیل کرنا ہے۔
ٹی این این کے پاس اس حوالے سے موجود سرکاری دستاویزات کے مطابق کینا بیس ریگولیٹری کمیٹی نے خیبر پختونخوا میں بھنگ کی فصل کو قانونی پر کاشت کرنے کےلئے ، لائسنسنگ اور پروسیسنگ کے حوالے سے اہم پیشرفت کی ہے اور اس حوالے سے بھنگ کی فصل کےلئے لائسنس فیس، ٹیکس ڈھانچے، کاشت کاری زونز، سالانہ کوٹہ اوردیگر قواعد و ضوابط کے مسودے کی تیاری کےلئے ایک سب کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے ہیمپ/بھنگ کی کاشت کو قانونی حیثیت دینے پر غور شروع کر دیا ہے اور اس مقصد کے لیے باقاعدہ لائسنس جاری کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ہیمپ/بھنگ کی کاشت پر لائسنس فیس اور ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے، جبکہ کاشت اور ترسیل پر ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر بھنگ میں ٹی ایچ سی لیول 0.3 فیصد سے زیادہ ہو تو اس سے چرس بھی تیار کی جا سکتی ہے۔
ڈی جی ایکسائز عبدالحلیم خان کی زیر صدارت اجلاس میں لائسنس فیس کے ڈھانچے، مختلف ریٹس، لائسنس کے اجراء اور مدت پر اتفاق کیا گیا۔ ادویات میں استعمال کے لیے پانچ ایکڑ رقبے پر ہیمپ/بھنگ کی کاشت کی فیس 6 لاکھ روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ بھنگ کی تیاری اور حتمی پیداوار پر ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اجلاس میں لائسنس سے متعلق دستاویزات کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک ورکنگ گروپ بھی قائم کیا گیا، جس میں شعبہ فارمیسی پشاور یونیورسٹی اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے نمائندے شامل ہیں۔ دستاویزات کے مطابق محکمہ ایکسائز ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ہیمپ/بھنگ کی کاشت اور پروسیسنگ کی کڑی نگرانی کرے گا، جبکہ لائسنس حاصل کرنے والی انڈسٹری سیڈ رجسٹریشن، سرٹیفکیشن اور وفاقی حکومت سے متعلق معاملات کی ذمہ دار ہوگی۔
ڈی جی ایکسائز عبدالحلیم خان کے مطابق ہیمپ ادویات، ایچ بی ڈی آئل اور فائبر کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے، جسے اورکزئی اور خیبر میں متبادل فصل کے طور پر متعارف کرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں ہیمپ کی کاشت کی اجازت دی جا رہی ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں بھنگ کے لائسنس کے اجراء پر غور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ لائسنس جانچ پڑتال اور تمام پروٹوکولز کو مدنظر رکھ کر جاری کئے جائیں گے اور ادویات بنانے والی بڑی کمپنیوں کو ہی لائسنس دیے جائیں گے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے ہیمپ/بھنگ کی کاشت کو قانونی حیثیت دینے پر غور شروع کر دیا ہے اور اس مقصد کے لیے باقاعدہ لائسنس جاری کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ہیمپ/بھنگ کی کاشت پر لائسنس فیس اور ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے، جبکہ کاشت اور ترسیل پر ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر بھنگ میں ٹی ایچ سی لیول 0.3 فیصد سے زیادہ ہو تو اس سے چرس بھی تیار کی جا سکتی ہے۔
اس حوالے سے گزشتہ ہفتے ایک اہم اجلاس میں کینابیس ریگولیٹری نظام کے لئے مختلف امور پر بریفنگ بھی پیش کی گئی، جس میں لائسنس فیس، ایکسائز ڈیوٹی، کاشت کاری زونز، کاشتکاروں کی رجسٹریشن اور صنعت کے لئے قواعد شامل تھے۔ اجلاس کی کارروائی کے مطابق کمیٹی کے سامنے لائسنس فیس اور ایکسائز ڈیوٹی کا فیصلہ،ضلع خیبر، اورکزئی اور کرم کے کسانوں کی رجسٹریشن، ،کاشتکاروں کی نمائندگی کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل، کینابیس ماڈل اور سالانہ کوٹہ مقرر کرنا، قواعد میں ترمیم اور پروسیسنگ ریگیم کا آغاز،صوبے میں بھنگ کی کاشت اور پروسیسنگ کا آغازکرنے جیسے نکات ایجنڈے میں رکھے گئے۔
کمیٹی نے اتفاق کیا کہ خیبر پختونخوا میںابتدائی طور پر بھنگ کی کاشت اور پروسیسنگ کی اجازت دی جائے گی جبکہ اگلے مرحلے میں کینابیس لائسنسنگ ریگیم شروع کیا جائے گا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ بھنگ کی کاشت اور پروسیسنگ ریگیم ر تحقیق ،صنعتی مقاصد ،صوبائی سرمایہ کاری، اور ادویات کے لئے ہوگی ،کمیٹی نے تکنیکی سفارشات تیار کرنے اور قانونی ڈیڈ لائن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کےلئے 17 ارکان پر مشتمل ایک سب کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں ایکسائز ڈیپارٹمنٹ، ایگریکلچر، یونیورسٹی آف پشاور، پی سی ایس آئی آر، ایڈوکیٹ جنرل آفس، صنعت و سرمایہ کاری بورڈ، فارما انڈسٹری اور دیگر محکمے شامل تھے۔
اس حوالے سے متعلقہ حکام نے بتایاکہ خیبر پختونخوا حکومت کی اس اہم اقدام سے نہ صرف بھنگ کی صعنتی اور سائنسی استعمال کو فروغ ملے گی بلکہ صوبے میں میں نئی صعنت قانونی کے مطابق پران چڑھے گی جبکہ روزگارکے نئے مواقع پیدا ہونگے اور معاشی طور پر بھی اسکے صوبے پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔
