خولہ زرافشاں

 

خیبر پختونخوا کے تاریخی شہر مردان میں واقع سینٹ پال سرحدی چرچ ایک اہم مذہبی اور تاریخی ورثہ قرار دیا جاتا ہے۔ چرچ کی تعمیر کا آغاز 1936ء میں کیا گیا جبکہ یکم اپریل 1939ء کو یہاں پہلی باقاعدہ عبادت ادا کی گئی۔ اس وقت سے لے کر آج تک چرچ میں مذہبی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں اور یہ مسیحی برادری کے لیے ایک مرکزی عبادت گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

 

چرچ کو ’’سرحدی چرچ‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ماضی میں خیبر پختونخوا کو صوبہ سرحد کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اسی تاریخی نسبت سے چرچ کا یہ نام رکھا گیا۔ نئی طرزِ تعمیر پر تعمیر ہونے والا یہ چرچ اپنے وقت کی ایک نمایاں مثال سمجھا جاتا تھا۔ کچھ عرصہ قبل چرچ کو آتشزدگی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم بعد ازاں اس کی مرمت اور ازسرنو تعمیر مکمل کی گئی۔

 

چرچ کے سامنے ایک خوبصورت ٹاور تعمیر کیا گیا ہے جس کے اطراف محرابیں اور دیدہ زیب کھڑکیاں موجود ہیں، جبکہ ٹاور کی چھت پر ایک بڑا کراس نصب ہے۔ آج بھی یہ چرچ امن، برداشت اور مذہبی ہم آہنگی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور مسیحی برادری کے لیے ایک محفوظ اور مقدس عبادت گاہ ہے۔

 

چرچ کے اطراف کے علاقوں میں ملاکنڈ، سوات اور دیگر پہاڑی خطے شامل ہیں، جس کی وجہ سے یہ چرچ ان تمام علاقوں کے لیے ایک روحانی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ چرچ سے وابستہ خاندانوں کی تعداد 600 سے زائد بتائی جاتی ہے، جو ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور اتحاد کے رشتے میں جڑے ہوئے ہیں۔

 

مختلف علاقوں جیسے تخت بھائی، چارسدہ اور دیگر قریبی علاقوں سے لوگ عبادت کے لیے اس چرچ کا رخ کرتے ہیں۔ مختلف راستوں کے اسی مقام پر آ کر ملنے کی وجہ سے اسے مقامی سطح پر ’’دل‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ چونکہ اس خطے میں پشتو زبان زیادہ بولی جاتی ہے، اس لیے چرچ میں عبادات اور مذہبی گیت پشتو زبان میں پڑھے جاتے رہے ہیں، جس کے باعث اسے ’’پٹھان چرچ‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

 

یہ چرچ اس حوالے سے بھی منفرد ہے کہ یہاں انجیل مقدس کا پشتو ترجمہ کیا گیا اور پشتو زبان میں گیتوں کی پہلی کتاب ’’خدائے حمد‘‘ بھی اسی چرچ سے شائع ہوئی۔

 

چرچ کے مرکزی ہال میں دونوں اطراف بینچ نصب ہیں جہاں عبادت گزار بیٹھ کر عبادت کرتے ہیں، جبکہ بعض افراد فرش پر بیٹھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مرکزی ہال کے اوپر ایک گیلری بھی موجود ہے جو کرسمس کے موقع پر مکمل طور پر بھر جاتی ہے۔

 

چرچ میں ایک خوبصورت قربان گاہ (Altar) قائم ہے جسے Evangelical طرز پر تعمیر کیا گیا ہے کیونکہ یہ چرچ، چرچ آف پاکستان کا حصہ ہے۔ دائیں جانب لکڑی کا پلپٹ اور بائیں جانب لکڑی کا ڈائس بنایا گیا ہے، جبکہ پیچھے ایک بڑی تکونی محراب موجود ہے جس کے اندر کرسٹل گلاس سے بنی کراس نصب ہے۔ قربان گاہ کے اطراف کینڈل اسٹینڈ اور چندے کے لیے مخصوص تھیلیاں بھی رکھی گئی ہیں۔

 

چرچ میں بچوں کے لیے سنڈے سکول اور نوجوانوں کے لیے یوتھ گروپ کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ بچپن سے جوانی تک روحانی تربیت کا سلسلہ برقرار رہے۔

 

چرچ کے پادری اور انچارج مراد مشتاق کے مطابق وہ کئی برسوں سے چرچ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چرچ میں موجود چار کینڈلز میں تین پرپل، ایک پنک اور درمیان میں ایک سفید موم بتی شامل ہوتی ہے جو امن، امید اور خوشی کی علامت ہیں۔

 

سیکیورٹی کے حوالے سے چرچ میں خصوصی انتظامات کئے جاتے ہیں۔ ہر سال 24 دسمبر کی رات کا کیک علاقے کے کمانڈنٹ کاٹتے ہیں، جبکہ ہر اتوار کو عبادت کے دوران چرچ کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ رہتی ہے۔ دونوں اطراف ٹریفک بند کر دی جاتی ہے اور صرف مسیحی خاندانوں کو چرچ میں داخلے کی اجازت دی جاتی ہے۔

 

چرچ میں موجود مسیحی برادری کے افراد نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ سیکیورٹی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بلاخوف اپنے مذہبی فرائض اور تہوار ادا کر رہے ہیں۔

 

انتظامیہ کے مطابق چرچ کی تزئین و آرائش، مرمت اور دیگر امور کے لیے چرچ کے ممبران نذرانے اور ہدیے دیتے ہیں، جبکہ حکومتِ پاکستان بھی فنڈز اور مکمل سیکیورٹی فراہم کر کے تعاون کر رہی ہے۔ سینٹ پال سرحدی چرچ نہ صرف ایک مذہبی مقام بلکہ امن، بھائی چارے اور یکجہتی کی روشن مثال قرار دیا جاتا ہے۔