یورپ میں غیرقانونی ہجرت کے خلاف سخت اقدامات کے اثرات اب صرف غیرقانونی تارکینِ وطن تک محدود نہیں رہے، بلکہ قانونی طور پر مقیم لاکھوں افراد، جن میں بڑی تعداد پاکستانی تارکینِ وطن کی بھی شامل ہے، نئی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

یہ انکشاف روسی تحقیقاتی ویب سائٹ "دی اِن سائیڈر" کی ایک تفصیلی رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس کے مطابق دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے بڑھتے اثر و رسوخ کے باعث جرمنی، پرتگال، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سمیت کئی یورپی ممالک میں شہریت، مستقل رہائش اور خاندانی الحاق سے متعلق قوانین مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق جرمنی میں قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کو اب شہریت کے حصول کے لیے طویل قیام، بہتر زبان کی مہارت اور مستحکم آمدنی ثابت کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کے باعث کئی خاندان غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ پرتگال میں بھی رہائشی قوانین سخت کر دیے گئے ہیں، جہاں زبان کے امتحانات اور دستاویزی تقاضوں میں اضافے نے نئے اور موجودہ تارکینِ وطن کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔

 

نیدرلینڈز میں خاندانی الحاق پر مزید پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ فن لینڈ میں قانونی رہائش کو مستقل حیثیت میں تبدیل کرنے کا عمل مزید پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان پالیسیوں کے نتیجے میں قانونی تارکینِ وطن کو انتظامی رکاوٹوں کے ساتھ سماجی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ غیرقانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے متعارف کرائی جانے والی یہ پالیسیاں عملی طور پر ان افراد کو بھی متاثر کر رہی ہیں جو برسوں سے قانونی طور پر یورپ میں مقیم ہیں، ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور مقامی معیشت کا حصہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی تشویشناک ہے، جہاں بیرونِ ملک مقیم افراد ترسیلاتِ زر اور معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔