سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں، پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہوگا۔
یہ الفاظ اڈیالہ جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے 20 دسمبر 2025ء کو کی گئی ٹویٹ کا حصہ تھے۔
تاہم اس پیغام کے محض دو دن بعد وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کابینہ کے ایک اجلاس میں مذاکرات کی مشروط پیشکش کر کے سیاسی ماحول کو مذاکرات کی طرف لے جانے میں کامیابی حاصل کی۔
اسی نکتے کی جانب بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان، مینا خان آفریدی اور شفیع جان پہلے ہی اشارہ کر چکے ہیں کہ جب بھی ملک گیر تحریک کی بات ہوتی ہے تو حکومت مذاکرات کی پیشکش لے کر سامنے آ جاتی ہے۔
یہی نہیں، وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کی جانب سے مذاکرات میں ’’پانچ بڑوں‘‘ کے بیٹھنے کا اشارہ دینا، اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا صوبے کی حد تک حکام سے بات چیت کے لیے گرین سگنل دینا، مذاکراتی عمل میں مزید جان ڈال چکا ہے۔ تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس کے بعد یہ امید بظاہر دم توڑتی نظر آ رہی ہے۔
مذاکرات اور اسٹریٹ موومنٹ کی اس کشمکش کے دوران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی لاہور کا دورہ کر چکے ہیں، اب کراچی جا رہے ہیں اور اس کے بعد کوئٹہ جانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سہیل آفریدی ایک کے بعد دوسرے صوبے کیوں جا رہے ہیں؟ وہ ان دوروں سے آخر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
اسی سوال کا جواب جاننے کے لیے ٹی این این نے سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافیوں اور تجزیہ نگاروں سے گفتگو کی۔
اتنی سیاسی گنجائش تو ہونی چاہیے کہ ایک وزیر اعلیٰ دوسرے صوبے جائے
سینئر صحافی اور اینکر پرسن ماریہ میمن کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف ایک وفاقی جماعت ہے۔ اگر ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ دوسرے صوبے میں جاتا ہے اور اپنی جماعت کے کارکنوں کو متحرک کرتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے بقول، کیا اس ملک میں اتنی سیاسی گنجائش بھی باقی نہیں رہی؟
تاہم وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ایک وزیر اعلیٰ کو گورننس پر مکمل توجہ دینا چاہیے کیونکہ وزارتِ اعلیٰ ایک فل ٹائم ذمہ داری ہے۔ صوبے سے متعلق اہم فیصلے کرنا ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
سہیل آفریدی کے دوروں کے دو مقاصد ہو سکتے ہیں
سینئر تحقیقاتی صحافی اور تجزیہ نگار عمر چیمہ کے مطابق، سہیل آفریدی کے دوسرے صوبوں کے دوروں کے دو ممکنہ مقاصد ہو سکتے ہیں۔
اول، ممکن ہے کہ وہ صوبائی ہم آہنگی کے مشن پر ہوں۔دوم، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے اور ان میں دوبارہ جان ڈالنے کی کوشش کر رہے ہوں، کیونکہ اس وقت عمران خان کے بعد سہیل آفریدی تحریک انصاف کے اندر سب سے اہم شخصیت سمجھے جاتے ہیں، جس کی وجہ ان کے پاس موجود وزارتِ اعلیٰ کا عہدہ ہے۔
پی ٹی آئی کو ایک صوبے کی جماعت ثابت کرنے کا تاثر رد کرنا چاہتے ہیں
سینئر سیاسی تجزیہ نگار پروفیسر طاہر نعیم ملک کے مطابق، سہیل آفریدی کے دوسرے صوبوں کے دوروں کا مقصد اپنے مخالفین کے اس تاثر کو رد کرنا ہے کہ تحریک انصاف صرف ایک صوبے تک محدود جماعت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں اس وقت تحریک انصاف کا تنظیمی ڈھانچہ غیر منظم اور بدانتظامی کا شکار ہے۔ قیادت مشکلات میں گھری ہوئی ہے اور کارکنان روپوش ہیں، ایسے میں سہیل آفریدی ملک گیر تحریک کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنا چاہتے ہیں۔
آگے کا راستہ مشکل، 2026 بھی ڈیڈ لاک کا سال ہوگا
ماریہ میمن کے مطابق، رانا ثناء اللہ کی جانب سے ’’پانچ بڑوں‘‘ کے مذاکرات میں بیٹھنے کا اشارہ اس بات کی علامت ہے کہ مقتدرہ بھی کسی حد تک مذاکراتی عمل میں شامل ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔
ان کے مطابق، محمود اچکزئی اس وقت پی ٹی آئی اور نواز شریف دونوں کا اعتماد رکھتے ہیں، اور ان کا کردار یہ پیغام دیتا ہے کہ سیاسی بحران سے نکلنے اور محاذ آرائی کم کرنے کی سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے۔
تاہم ان کے خیال میں اس عمل کے کامیاب ہونے کے امکانات کم ہیں، کیونکہ نہ پی ٹی آئی حکومت کو وہ سب کچھ دے سکتی ہے جو حکومت چاہتی ہے، اور نہ ہی حکومت پی ٹی آئی کو وہ سیاسی گنجائش دینے پر آمادہ ہے جس کی انیں خواہش ہے۔ اس لیے 2026ء کو بھی ڈیڈ لاک کا سال قرار دینا غلط نہ ہوگا۔
گورنر راج کے حوالے سے ماریہ میمن کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج سے متعلق کوئی عملی پیش رفت نظر نہیں آ رہی اور یہ محض ایک سیاسی چال ہے۔ ان کے مطابق صوبہ اس وقت کسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا اور ایسے کسی اقدام کی صورت میں فیصلہ سازوں کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
سیاسی جمود کی کنجی عمران خان کے پاس ہے
عمر چیمہ کے مطابق، ملک میں سیاسی جمود برقرار رہے گا اور آگے بڑھنے کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آ رہا۔ ان کے بقول، یہ جمود عمران خان کی وجہ سے ہے اور اگر اسے ختم کرنا ہے تو عمران خان کو اپنے رویے میں لچک دکھانا ہوگی۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا آپشن
عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا آپشن فی الحال محض دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ گورنر راج نافذ کرنا آسان نہیں کیونکہ چھ ماہ کے اندر نئے انتخابات کرانا پڑتے ہیں، جو ایک مشکل مرحلہ ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ اگر اپوزیشن نمبر گیم پوری کر کے حکومت بناتی ہے تو اس کا سیاسی فائدہ پی ٹی آئی کو ہوگا، کیونکہ وہ مزید مظلوم بن کر سامنے آئے گی اور دیگر جماعتوں کے لیے سیاسی گنجائش مزید کم ہو جائے گی۔
گورنر راج کے امکانات موجود ہیں
پروفیسر طاہر نعیم ملک کے مطابق، خیبر پختونخوا اس وقت دہشت گردی سے شدید متاثر ہے اور قومی سلامتی کے ادارے، خصوصاً افواجِ پاکستان، اس چیلنج سے نبرد آزما ہیں۔
ان کے بقول، تحریک انصاف کی صوبائی حکومت بعض پالیسی امور پر اداروں سے اختلاف رکھتی ہے، جو کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے اور اس کا نتیجہ گورنر راج کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بار آئینی حوالوں پر غیر معمولی زور دیا گیا، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں گورنر راج کی بازگشت موجود ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی آج کراچی کے دورے پر روانہ ہو چکے ہیں ۔
