آج کل پاکستان سمیت مختلف ملکوں میں افغان مہاجرین کی واپسی کے بارے میں جو اقدامات کیے جا رہے ہیں، وہ ایک بڑی اور سنجیدہ بحث بن چکی ہے۔
لیکن میرا مقصد اس فیصلے کی حمایت یا مخالفت کرنا نہیں، بلکہ صرف ایک خاص پہلو پر بات کرنا ہے اور وہ پہلو ہے افغان مہاجرین کے ان بچوں کی تعلیم جو سکولوں میں پڑھ رہے تھے اور اب واپسی کے دوران اچانک ان کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، تو پھر ان بچوں کا کیا قصور ہے جن کی تعلیم بیچ میں ہی رُک گئی؟ یہ بچے برسوں سے سکول جا رہے تھے، روزانہ کتابیں لے کر بیٹھتے تھے، اسباق یاد کرتے تھے، امتحان دیتے تھے اور اپنی مرضی کے خواب دیکھتے تھے۔ کسی نے ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھا ہوگا، کسی نے استاد، کسی نے انجینئر، مگر جب تعلیمی سال کے دوران ہی انہیں سکول چھوڑنا پڑا، تو ان کی محنت ادھوری رہ گئی۔
آج بھی وہ بچے سکول کے بند دروازوں کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہوں گے۔ کئی بچوں کو تو اگلی جماعت کا سرٹیفیکیٹ تک نہیں ملا، حالانکہ انہوں نے پورا سال پڑھائی کی۔ یوں لگتا ہے جیسے ان کی ساری کوشش ایک لمحے میں ہی بے معنی ہو گئی ہو۔
تعلیم وہ چیز ہے جو صرف کتاب یا کورس تک محدود نہیں ہوتی۔ یہ بچوں کو سوچنا سکھاتی ہے، انہیں اعتماد دیتی ہے، انہیں معاشرے میں اپنا کردار سمجھاتی ہے۔ جب کوئی بچہ اچانک اس ماحول سے نکال دیا جاتا ہے تو اس پر نہ صرف تعلیمی بلکہ جذباتی اثر بھی پڑتا ہے۔
وہ سوچتا ہے کہ شاید اس کی محنت کی کوئی اہمیت نہیں تھی، یا شاید تعلیم واقعی مستحکم نہیں ہوتی، کیونکہ کسی بھی وقت اسے چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔ کیا ان بچوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ یہ افغان مہاجرین ہیں اور ہمارے ملک میں رہ رہے ہیں؟
دنیا کے اکثر ممالک اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، چاہے وہ کسی بھی قوم، نسل یا ملک سے تعلق رکھتا ہو۔
اسی اصول کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر افغان مہاجرین کی واپسی ضروری بھی ہے، تو کیا کم از کم اتنی مہلت نہیں دی جا سکتی کہ جو بچے ایک تعلیمی سال مکمل کرنے کے قریب ہیں، انہیں سال کے آخر تک پڑھنے دیا جائے؟ اس سے نہ کوئی پالیسی بدلے گی، نہ انتظامی معاملات پیچیدہ ہوں گے، مگر بچوں کی برسوں کی محنت بچ سکتی ہے۔
ایک سرٹیفیکیٹ بظاہر ایک کاغذ کا ٹکڑا ہوتا ہے، لیکن ان مہاجر بچوں کے لیے اس کی بہت زیادہ اہمیت ہوگی۔ جب وہ اپنے ملک واپس جائیں گے یا کہیں اور داخلہ لینے کی کوشش کریں گے تو ان کے پاس یہی سرٹیفیکیٹ ان کی سابقہ تعلیم کا ثبوت ہوگا۔
اگر یہ نہ ہو تو انہیں دوبارہ وہی جماعت پڑھنی پڑ سکتی ہے، یا پھر انہیں داخلہ ہی نہ مل سکے گا۔ اور یوں ایک سال نہیں بلکہ کئی سال ضائع ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ افغان مہاجرین کے بچے پہلے ہی مشکل حالات سے گزرے ہیں۔ انہوں نے اپنا گھر اور پرانا ماحول چھوڑا، پھر ایک نئے ملک، نئی زبان اور نئے تعلیمی نظام کے ساتھ خود کو ڈھالنے کی کوشش کی۔ یہ کوئی آسان سفر نہیں ہوتا، لیکن پھر بھی انہوں نے ہمت کی، سکول جاتے رہے، نئے دوست بنائے، محنت کی۔
اب جب افغان مہاجرین کو واپس افغانستان بھیجا جا رہا ہے تو وہ بچے جو تعلیمی سال مکمل کرنے ہی والے تھے، اسی وقت انہیں سکول چھوڑنا پڑا۔ ملک سے جانے کا دکھ ایک طرف اور تعلیم اُدھوری چھوٹ جائے یہ ان بچوں کے لیے دگنا بوجھ بن گیا ہے۔
یہاں پھر وہی سوال سامنے آتا ہے کہ قصور کس کا ہے اور نقصان کس کا؟ نہ تو ان بچوں نے نقل مکانی کا فیصلہ خود کیا، نہ وہ پالیسی ساز ہیں، نہ وہ حالات بنا سکتے ہیں۔ مگر ان فیصلوں کا سب سے پہلا اور برا اثر انہی پر پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم کو ہمیشہ حساس اور محفوظ معاملہ سمجھا جاتا ہے۔
اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جب بچوں کی تعلیم کو بار بار توڑا جائے، تو ان کے ذہن میں تعلیم کے بارے میں منفی خیال پیدا ہو سکتا ہے۔ وہ یہ سوچ سکتے ہیں کہ پڑھائی کبھی بھی ختم کروائی جا سکتی ہے، پھر کیوں محنت کریں؟ اس طرح نہ صرف ان کی ترقی رکتی ہے بلکہ معاشرے میں بھی ناخوشگوار واقعات رونما ہوتے ہیں، کیونکہ پڑھے لکھے بچے ہی مستقبل میں ذمہ دار شہری بنتے ہیں۔
یہ تحریر کسی بھی پالیسی کے خلاف یا حق میں نہیں ہے۔ یہاں صرف اس بات کی طرف توجہ دلانے کی بات کی ہے کہ افغان مہاجرین بچوں کے لیے کم از کم اتنا انتظام ضرور کیا جائے کہ وہ جاری تعلیمی سال مکمل کر سکیں، یا انہیں کسی طرح ایسی تعلیمی دستاویزات دی جائیں جن سے ان کی پڑھائی آگے جاری رہ سکے۔
اس سے نہ کوئی قانونی رکاوٹ بڑھے گی، نہ کوئی سماجی مسئلہ، مگر ان بچوں کا تعلیمی مستقبل کچھ حد تک محفوظ ہو جائے گا۔
اس بلاگ کے اختتام پر یہ ضرور لکھنا چاہوں گی کہ بڑے فیصلوں کے اثرات جب بچوں پر پڑتے ہیں تو وہ کئی سال تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ اگر ہم واقعی سمجھتے ہیں کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، تو پھر یہ کوشش ضرور ہونی چاہیے کہ کسی بھی بچے کی تعلیم بے وجہ ادھوری نہ رہ جائے۔
چاہے وہ افغان مہاجرین کا بچہ ہو یا کسی بھی ملک کا ہو، ان بچوں نے پہلے ہی بہت کچھ کھویا ہے۔ اگر ہم ان کے لیے تعلیم کے دروازے تھوڑے سے اور کھول دیں، تو شاید ان کے مستقبل میں ایک چھوٹی سی روشنی باقی رہ جائے اور یہی روشنی ان کے لیے امید بن سکتا ہے
