پشاور میں ڈرگ فری پشاور مہم فیز تھری کے دوران بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں، ناقص سہولیات اور نشے کے عادی افراد کے ساتھ غیر انسانی سلوک کا انکشاف ہوا ہے۔ 

 

محکمہ سماجی بہبود خیبر پختونخوا کی سپیشل آڈٹ رپورٹ میں بحالی مراکز کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

 

آڈٹ رپورٹ کے مطابق مہم کے لیے قائم کیے گئے بیشتر بحالی مراکز میں مخصوص ڈی ٹاکس اور ری ہیب وارڈز موجود نہیں تھے، جبکہ کسی بھی مرکز میں لیبارٹری کی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ 

 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تفریحی سرگرمیوں کے لیے مختص جگہ بھی ناکافی تھی اور باتھ رومز کی سہولت غیر تسلی بخش قرار دی گئی۔

 

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک ہی ہال میں 55 سے 80 نشے کے عادی افراد کو رکھا گیا، جبکہ بیڈز اور کمروں کی تعداد بھی بتائی گئی تعداد سے کم تھی۔ بعض مراکز میں ایچ آئی وی پازیٹو مریضوں کو دیگر افراد کے ساتھ ایک ہی جگہ پر رکھا گیا، جو سنگین غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔

 

آڈٹ رپورٹ کے مطابق بحالی مراکز میں نشے کے عادی افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں مناسب خوراک بھی فراہم نہیں کی جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ کسی بھی مرکز میں ماہرِ نفسیات کی تعیناتی نہیں کی گئی تھی، جبکہ مریضوں کی داخلہ اور حاضری کے لیے کوئی رجسٹر بھی موجود نہیں تھا۔

 

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مہم کے لیے قائم کنٹرول روم اور ڈی سی آفس کو کیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 20 لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں۔

 

 مہم کے دوران انکم ٹیکس، کیپرا ٹیکس، سیلز ٹیکس اور اسٹامپ ڈیوٹی کی عدم ادائیگی سے قومی خزانے کو ایک کروڑ 70 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔

 

ڈرگ فری پشاور مہم فیز تھری کے تحت 2000 نشے کے عادی افراد کو بحالی مراکز منتقل کیا گیا تھا، تاہم ناقص کارکردگی کے باوجود دا حق آواز پر عائد 8 لاکھ 86 ہزار روپے کا جرمانہ بھی وصول نہیں کیا گیا۔

 

آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والے انکشافات کے بعد مہم کی شفافیت اور مؤثریت پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔