رعناز


ہمارے معاشرے میں خاندان کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ ایک خاندان کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ خوشی اور غم بانٹتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جب خاندان میں کوئی ایک لڑکی گھر سے بھاگ کر شادی کر لے، تو لوگ اس ایک لڑکی کی وجہ سے پورے خاندان کی باقی لڑکیوں کو برا سمجھنے لگتے ہیں۔ جیسے کوئی بھی لڑکی کچھ کرے، اس کی سزا اس کی بہنوں، کزنوں اور  یہاں تک کے آنے والی نسلوں کو بھی ملے گی۔ کتنا عجیب ہے نہ؟   
 

یہ سوچ بہت تکلیف دہ ہے۔ اکثر لڑکیوں کو یہ جملہ سننا پڑتا ہے کہ تمہاری کزن تو گھر سے بھاگی تھی تم بھی تو اسی کی کزن ہو نہ۔یا پھر یہ کہ تمہاری خالہ کی بیٹی بھاگی ہوئی تھی اور جب وہ لڑکی، جس نے بھاگ کر شادی کی ہو، ماں بنتی ہے تو اس کے بچوں کو بھی طعنے دیے جاتے ہی۔تمہاری ماں تو گھر سے بھاگی ہوئی تھی۔حالانکہ بچوں کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں ہوتا۔ تو پورے خاندان کو کیوں گھسیٹا جاتا ہے؟


ہمارے معاشرے میں مسئلہ یہ ہے کہ لوگ ایک فرد کی غلطی یا ایک کے فیصلے کو پورے خاندان پر ڈال دیتے ہیں۔ اگر خاندان میں کوئی لڑکا اپنی مرضی سے شادی کر لے تو بھی بات ہوتی ہے، لیکن اتنی زیادہ نہیں ہوتی۔ مگر اگر لڑکی ایسا کرے تو اس بات کو عزت، غیرت اور خاندان کے وقار سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے خاندان کی ہر لڑکی غلط ہے، ہر لڑکی ذمہ دار ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔ کسی ایک لڑکی کے فیصلے کو پورے خاندان کی لڑکیوں کا کردار بنانا نہ عقل مندی ہے، نہ انصاف اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے۔ہمارے معاشرے میں لڑکیوں پر پہلے ہی بہت پابندیاں ہوتی ہیں۔ انہیں قدم قدم پر سوچنا پڑتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ اگر خاندان کی کوئی ایک لڑکی گھر سے بھاگ گئی ہو تو باقی لڑکیوں پر بوجھ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ 

 

لوگ انہیں شک کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں، جیسے یہ بھی ایسا کچھ کریں گی۔یہ سوچ بہت غلط ہے، لیکن معاشرے میں یہ سوچ گہری جڑی ہوئی ہے۔اس وجہ سے خاندان کی دوسری لڑکیاں بہت ذیادہ متاثر ہوتی ہے۔ وہ لڑکیا ں خود اعتمادی میں کمی محسوس کرتی ہیں۔ باہر جاتے ہوئے گھبراتی ہیں۔ رشتوں کے معاملے میں غیر ضروری باتیں سننی پڑتی ہیں۔ یہ سب باتیں ان کی زندگی کو مشکل بنا دیتی ہیں۔اس سے آگے آنے والی نسلوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔


                    سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگ یہ باتیں آگے آنے والی نسلوں تک بھی پہنچاتے ہیں۔ جو بچے دنیا میں آنے سے پہلے ہی معصوم ہوتے ہیں، انہیں بھی ان باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کوئی بچہ کیسے برداشت کرے کہ اس کے کسی کام کے بغیر اسے طعنے دیے جائیں؟اسی طرح لڑکی کی بہنوں کے بچے، یعنی اس کے بھانجے بھانجیاں اور کزنز بھی لوگوں کی باتوں سے محفوظ نہیں رہتے۔ یوں لگتا ہے جیسے خاندان کا ہر بچہ اس ایک لڑکی کے فیصلے کی سزا بھگت رہا ہو۔


کیا یہ صحیح رویہ ہے؟بالکل نہیں۔یہ رویہ نہ دینی لحاظ سے درست ہے، نہ اخلاقی لحاظ سے، نہ انسانیت کے لحاظ سے۔ہمارے دین میں بھی یہ بات واضح ہے کہ ہر شخص اپنے عمل کا جواب دہ ہے۔ کوئی کسی اور کی غلطی کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔ پھر ہم کیوں ایک لڑکی کی وجہ سے پورے خاندان کو غلط سمجھنے لگتے ہیں؟اخلاقی طور پر بھی یہی انصاف ہے کہ ہر شخص کو اس کے اپنے کردار سے پہچانا جائے۔ نہ کہ اس کے کسی رشتے دار کے فیصلے سے۔


لہذا سب سے پہلے ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔جو غلطی ایک نے کی ہو، اس کی سزا دوسرے کو دینا بند کرنا ہوگی۔لڑکیوں کو شک کی نظر سے دیکھنا چھوڑنا ہوگا۔انہیں یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ اپنی پہچان خود رکھتی ہیں، کسی اور کے عمل سے نہیں۔ہمیں بچوں کو بھی معاشرتی طعنوں سے بچانا ہوگا تاکہ ان کی زندگی ایک نارمل ماحول میں گزرے۔خاندانوں کو بھی چاہیے کہ لوگوں کی باتوں سے نہ ڈریں۔

 

 معاشرے میں ہمیشہ باتیں ہوتی ہیں، مگر اصل بات یہ ہے کہ خاندان اپنے گھر کی لڑکیوں کو سہارا دے، ان کا حوصلہ بڑھے، اور انہیں احساس دلائے کہ وہ عزت دار ہیں۔وقت آ چکا ہے کہ ہم یہ سوچ بدلیں کہ اگر خاندان کی ایک لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کر لی، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ خاندان کی ہر لڑکی ویسی ہی ہے۔ ہر انسان الگ ہوتا ہے، الگ سوچ رکھتا ہے، الگ حالات کا سامنا کرتا ہے۔