خادم خان آفریدی

 

وادیٔ تیراہ میدان میں گزشتہ دو برس سے جاری بدامنی اور جھڑپوں نے مقامی آبادی کی زندگی بری طرح متاثر کر دی ہے۔ مسلسل فائرنگ اور مارٹر گولے گرنے سے اب تک درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ بدامنی کے باعث علاقے کے بیشتر بازار ویران پڑے ہیں جبکہ درجنوں سکول بند ہونے سے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ بھی رکا ہوا ہے۔

 

حالات کی خرابی کے باعث برقمبر خیل، ملک دین خیل، شلوبر، آدم خیل، اکاخیل اور زخہ خیل سمیت متعدد علاقوں سے سینکڑوں خاندان اپنا گھر بار چھوڑ کر باڑہ اور پشاور منتقل ہو چکے ہیں، جہاں اکثر لوگ رشتے داروں کے ہاں یا کرائے کے گھروں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

 

ادھر وادی تیراہ میں مسلح کالعدم تنظیموں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ امن و امان کے قیام کے لیے کمشنر پشاور ریاض محسود، ایم این اے اقبال آفریدی، ایم پی اے عبدالغنی آفریدی اور علاقائی عمائدین کے ساتھ متعدد مذاکراتی جرگے بھی منعقد کئے گئے، تاہم کوئی واضح نتیجہ سامنے نہ آ سکا۔ گزشتہ روز وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ 52 رکنی جرگہ بھی وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا لیکن چند اختلافی بیانات کے باعث یہ جرگہ بھی بے نتیجہ ختم ہوا۔

 

سیکیورٹی فورسز نے اب وادیٔ تیراہ میں موجود کالعدم گروہوں کے خلاف آپریشن کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے اور عوام کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے، تاہم متوقع نقل مکانی کے حوالے سے ابھی کوئی سرکاری فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ آفریدی اقوام اور فورسز کے درمیان مشاورتی بیٹھک بھی بغیر نتیجے کے ختم ہوئی، تاہم دونوں فریقوں نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

 

آفریدی قبائل کے 27 نکاتی مطالبات

 

وادیٔ تیراہ کے آفریدی قبائل نے حکومت کے سامنے 27 نکاتی مطالبات پیش کئے ہیں جن میں فوری اور محفوظ واپسی کی ضمانت، امن قائم رکھنے کی ذمہ داری حکومت پر ڈالنا، نقل مکانی کے لیے ٹرانسپورٹ اور ہر خاندان کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا شامل ہیں۔

 

قبائل نے واپسی پر ضروری سامان، رجسٹریشن، کسی قسم کی چیکنگ یا ضبطی نہ کرنے، مستقبل میں آپریشن نہ کرنے اور کلیئرنس کا اعلان میڈیا پر کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

 

زمینوں، گھروں، مساجد اور مدارس کا معاوضہ، تعلیم و صحت کے لیے اسکول اور ہسپتال کی تعمیر، بنیادی سہولیات جیسے پانی، بجلی اور گیس فراہم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

 

مزید برآں، شناختی کارڈز کی درستگی، تاجروں کے نقصانات کا معاوضہ، بلا سود قرضے، لنک روڈز اور رنگ روڈ کی تعمیر، معدنیات پر مقامی حقِ ملکیت اور 2014 کے بعد سروے شدہ گھروں کی ادائیگی بھی مطالبات میں شامل ہیں۔

 

قبائل نے واپسی کے عمل کی 20 رکنی مشترکہ جرگے کی نگرانی، اور حکومت کے ساتھ معاہدے کو اسٹام پیپر پر اعلیٰ حکام اور قبائلی مشران کے دستخط سے محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

سرکاری مؤقف

 

پی ڈی ایم اے خیبر کے کوآرڈینیٹر عبدالغنی نے ٹی این این کو بتایا کہ چند ماہ پہلے وادیٔ تیراہ کے آئی ڈی پیز کے لیے پائندہ چینہ میں رجسٹریشن کیمپ قائم کیا گیا تھا، تاہم اس وقت نقل مکانی یا کسی نئے کیمپ کے حوالے سے کوئی پالیسی موجود نہیں۔

 

علاقے میں بدامنی، بڑھتی نقل مکانی اور غیر یقینی صورتحال نے مقامی باشندوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پر مکمل غور نہیں ہوتا، وہ کسی بڑے فیصلے پر آمادہ نہیں ہوں گے، جبکہ عوام حکومتی اقدام کے منتظر ہیں۔