نوشہرہ میں حکومتی ڈیڈلائن کے خاتمے کے بعد افغان مہاجرین کے انخلا کا عمل شروع ہوگیا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں مہاجرین کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے اور جمعرات تک چار مہاجر کیمپوں سے 34 خاندان افغانستان روانہ ہوچکے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق پورا عمل مکمل طور پر پُرامن رہا اور کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔
مہاجرین کی محفوظ نقل و حمل کے لیے نوشہرہ سے طورخم بارڈر تک بڑے ٹرکوں اور مزدا گاڑیوں کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔
ترکمن کیمپ (تحصیل پبی) میں انخلا کی نگرانی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف اعجاز اختر نے اسسٹنٹ کمشنر پبی عطا اللہ، اے اے سی فیاض احمد، تحصیلدار پبی اور پولیس حکام کے ہمراہ کی۔
ڈپٹی کمشنر نوشہرہ عرفان اللہ محسود کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے میں انخلا کا عمل پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مزید سخت نگرانی میں مکمل کیا جائے گا۔
اکوڑہ خٹک کیمپ میں بھی اسسٹنٹ کمشنر جہانگیرہ انیس الرحمٰن نے پولیس کے ہمراہ 11 خاندانوں کی روانگی کی نگرانی کی۔
ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ وطن واپس جانے والے افغان مہاجرین کو تمام ضروری سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، تاکہ انخلا کا عمل شفاف، محفوظ اور مؤثر انداز میں مکمل ہوسکے۔
یاد رہے کہ طورخم بارڈر سے اب تک 543 پی او آر، 114 اے سی سی ہولڈرز اور 488 غیرقانونی افغان شہری واپس جا چکے ہیں۔
مجموعی طور پر طورخم کے راستے 1,76,132 پی او آر، 62,747 اے سی سی اور 6,66,542 غیرقانونی افغان شہری واپس بھیجے جا چکے ہیں۔
انگور اڈہ بارڈر سے 1,241 پی او آر، 496 اے سی سی اور 8,447 غیرقانونی افغان شہری افغانستان لوٹ چکے ہیں۔
دیگر صوبوں سے خیبر پختونخوا منتقل کیے گئے افغان شہریوں کی مجموعی تعداد 4,313 پی او آر، 10,384 اے سی سی اور 37,023 غیرقانونی افراد ہے، جبکہ ٹرانزٹ پوائنٹس پر اب تک 7,431 غیرقانونی افغان شہری ڈی پورٹ کیے جا چکے ہیں۔
