فریڈم نیٹ ورک کے زیرِ اہتمام دوسرے سالانہ ڈیجیٹل ڈائیلاگ سمٹ میں ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان کو جامع، محفوظ اور شمولیتی ڈیجیٹل ماحول کی تشکیل کے لیے میڈیا اور ٹیکنالوجی سیکٹر میں مؤثر تعاون ناگزیر ہے، تاکہ شہری معتبر معلومات تک رسائی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے فوائد سے فائدہ اٹھا سکیں۔
کانفرنس میں صحافیوں، ٹیک ماہرین، تعلیمی و سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ڈیجیٹل رائٹس کے حامیوں نے شرکت کی، جہاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مواقع، ڈیجیٹل صحافت کو درپیش مالی و پالیسی چیلنجز اور عوامی مفاد کی ٹیکنالوجی کے مستقبل پر مباحثہ ہوا۔
فریڈم نیٹ ورک کی پروگرام مینیجر مناہل شہاب نے کہا کہ ’’اے آئی کے اثرات سمجھنے کیلئے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں، اور ڈیجیٹل ڈائیلاگ سمٹ اسی مقصد کیلئے پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے‘‘۔
آئی ایم ایس کے عدنان رحمت نے آزاد ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارمز معاشرتی تنوع کی نمائندگی کے ساتھ اخلاقی اور عوامی مفاد کی خبریں فراہم کر رہے ہیں۔
دی رپورٹرز، ٹرائبل نیوز نیٹ ورک، وائس پی کے ڈاٹ نیٹ، ٹائمز آف کراچی اور ہزارہ ایکسپریس نیوز سمیت ڈیجیٹل میڈیا اداروں کے ایڈیٹرز و مالکان نے اپنے تجربات اور چیلنجز بیان کئے اور بتایا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے محدود وسائل کے باوجود کمیونٹی رپورٹنگ کو نئی جہت دی ہے۔
سمٹ میں پینلسٹس نے اس بات پر بھی گفتگو کی کہ اے آئی کیسے مواد کی تخلیق، تقسیم اور نیوز روم ورک فلو کو تبدیل کر رہا ہے۔ اگنائٹ کے اسامہ بن منصور نے بتایا کہ نیشنل اے آئی پالیسی کے اصول ادارے میں نافذ کئے جا رہے ہیں اور اے آئی پر سماجی فائدے کے منصوبوں کیلئے نیا مقابلہ بھی شروع کیا گیا ہے۔
شرکاء نے زور دیا کہ حقوق کا احترام کرنے والے ڈیجیٹل نظام کیلئے میڈیا، ٹیکنالوجی، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے درمیان مضبوط تعاون ناگزیر ہے۔
