خادم خان آفریدی
پشتو زبان کے ممتاز شاعر، ادیب اور فکری شخصیت حاجی قندھار آفریدی دل کے عارضے کے باعث 70 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ ان کے گھر کے قریب ادا کی گئی، جس میں ضلع خیبر سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے شعراء، ادبی شخصیات، سیاسی کارکنوں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ انہیں باڑہ قدیم قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
شعراء اور ادباء نے انہیں "صدیوں بعد پیدا ہونے والی شخصیت" قرار دیتے ہوئے شاندار خراجِ تحسین پیش کیا۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
حاجی قندھار آفریدی 1956 میں وادی تیراہ کے علاقے ملک دین خیل میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے ادب سے لگاؤ تھا اور وہ اشعار لکھنے لگے تھے۔
انہوں نے ساتویں جماعت تک تعلیم عالم گودر سکول باڑہ سے حاصل کی اور بعد ازاں انگلش لینگویج کورسز کیے تاکہ زبان پر عبور حاصل ہو۔
15 برس کی عمر میں 1972 میں ادبی دنیا میں قدم رکھا اور کم عرصے میں اپنی محنت اور لگن سے پشتو ادب میں منفرد شناخت حاصل کر لی۔ وہ جیولری کا کاروبار بھی کرتے تھے اور ان کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔
ادبی خدمات اور تخلیقی شناخت
حاجی قندھار آفریدی کا شمار پشتو ادب کے ان شعرا میں ہوتا تھا جنہوں نے غزل، نظم، مرثیہ اور نعت میں مہارت حاصل کی اور خصوصاً غزل پر گہرائی سے کام کیا۔
ان کا معروف شعری مجموعہ "نوی غږ" شائع ہو چکا ہے جبکہ ان کا سفرنامہ "زما د حج سفر" بھی ادبی حلقوں میں خاصا مقبول ہے۔
اس کے علاوہ ان کے تین سے چار شعری مجموعے موجود ہیں جو ابھی کتابی شکل اختیار نہیں کر سکے۔
اہلِ قلم کے مطابق ان کے اشعار میں سچائی، انکساری، انسانی جذبات اور زندگی کے تجربات کی باریکیاں واضح جھلکتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف احساس جگاتا بلکہ قارئین کو سوچنے اور سوال اٹھانے پر مجبور کرتا تھا۔
ثاقب آفریدی نے ٹی این این سےبات کرتے ہوئے کہا کہ حاجی قندھار آفریدی کی ادبی شناخت اس بات میں بھی تھی کہ وہ زندگی کے تلخ و شیریں حقائق کو اس انداز میں بیان کرتے تھے کہ ان کا اسلوب بیک وقت احساس اور فکر کی زبان بنتا تھا۔
چراغ آفریدی کے مطابق وہ ادبی محفلوں کا چشم و چراغ تھے اور پشتو زبان و ادب کی ترقی میں ناقابلِ فراموش خدمات انجام دی ہیں۔ وہ حمزہ بابا، مراد شینواری، خیبر آفریدی، مقدر شاہ اور خصوصاً قلندر مہمند کے بہت قریبی دوست تھے اور قلندر مہمند کو اپنا ادبی استاد مانتے تھے۔
صحافتی اور سماجی خدمات
حاجی قندھار آفریدی نے صحافت میں بھی خدمات انجام دیں اور روزنامہ ہیواد کے نمائندہ کی حیثیت سے ضلع خیبر کی ثقافت، روایات اور مختلف سماجی مسائل پر مضامین لکھے۔
ان کی ادبی اور صحافتی خدمات نے علاقے کی شناخت اجاگر کی اور پشتو ادب کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔
ادبی تنظیموں اور سیاسی وابستگی
وہ مختلف ادبی تنظیموں سے 25 سال تک منسلک رہے، جن میں "تیراہ والا پشتو ادبی جرگہ"، "خیرخواہ پشتو ادبی جرگہ"، "انقلابی پشتو ادبی جرگہ" اور "باڑہ ادبی لیکونکی" شامل ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے ادبی فورم "ملگری لیکوالان" کے بھی فعال رکن رہے اور ہر ادبی محفل یا پروگرام میں شریک ہوتے۔
سیاسی طور پر وہ ترقی پسند اور قوم پرست فکر کے حامل تھے۔ خیبر یونین پاکستان کے بنیادی رکن تھے اور اسی تنظیم کا آئین بھی انہی نے تحریر کیا۔
بعد ازاں وہ قومی وطن پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے بھی وابستہ رہے، مگر بنیادی طور پر وہ اپنی زبان، مٹی اور قوم کے حقوق کے لیے سرگرم رہنے والے نیشنلسٹ ادیب تھے۔
ادبی شخصیات نے کہا کہ حاجی قندھار آفریدی نہ صرف پشتو ادب کے ایک باوقار اور تخلیقی شاعر تھے بلکہ ادبی محفلوں کا روحانی مرکز بھی تھے۔ ان کی ادبی خدمات اور پشتو زبان و ادب کے لیے ان کی محنت ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھی جائے گی۔
