باجوڑ کی تحصیل سلارزئی کے علاقے ملاسید بانڈہ جنگل سے دو نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جنہیں گزشتہ روز اغوا کیا گیا تھا۔ قتل ہونے والے نوجوانوں کی شناخت عبدالرشید ولد مشہور اور شاہد ولد عمر حکیم کے ناموں سے ہوئی ہے، جن کا تعلق بھی سلارزئی ہی سے تھا۔ دونوں نوجوان خزی سر پوسٹ کو گدھے کے ذریعے پانی سپلائی کرنے کے ذمہ دار تھے۔

 

مقامی ذرائع کے مطابق دونوں نوجوان گزشتہ روز پانی لے کر جاتے ہوئے سوری پوسٹ اور خزی سر پوسٹ کے درمیانی جنگل سے اچانک لاپتہ ہوگئے تھے۔ آج صبح ان کی لاشیں قریبی پہاڑی پر خون آلود حالت میں ملیں۔ ابتدائی شواہد کے مطابق انہیں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کیا۔

 

ایس ایچ او سلارزئی شیر زمین خان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل بظاہر دہشت گردی کی کارروائی لگتا ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلیے ہیں اور علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

 

مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ مقتولین انتہائی غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے اور رزقِ حلال کمانے کے لیے روزانہ پہاڑوں کا سفر کرتے تھے۔ عمائدین نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں گشت بڑھایا جائے، مشکوک افراد کے خلاف کارروائی تیز کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کی جائے۔

 

باجوڑ کے پہاڑی علاقوں میں اس سے قبل بھی مشکوک نقل و حرکت کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جس کے باعث علاقے میں سیکیورٹی صورتحال مزید حساس بنی ہوئی ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید پیش رفت جلد سامنے آئے گی۔