انسانی حقوق کی 250 سے زائد تنظیموں اور عالمی این جی اوز نے جرمن حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں پھنسے اُن افغان شہریوں کی فوری منتقلی یقینی بنائے جنہیں جرمنی میں پناہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ اپیل ایک کھلے خط کے ذریعے کی گئی ہے جس پر ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، سیو دی چلڈرن اور متعدد چرچ گروپس نے دستخط کئے ہیں۔
تنظیموں کے مطابق تقریباً 18 سو افغان شہری اس وقت پاکستان میں موجود ہیں۔ انہیں اُس مہاجر منصوبے کے تحت منظور کیا گیا تھا جو سابق جرمن حکومت نے شروع کیا تھا، تاہم مئی میں چانسلر فریڈرش مرٹز کے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پروگرام منجمد کر دیا گیا، جس کے باعث یہ تمام افغان جرمنی منتقلی کے انتظار میں ہیں۔ خط میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ان افراد کو سال کے اختتام سے قبل پاکستان سے نکالنا ضروری ہے تاکہ انہیں واپس افغانستان بھیجے جانے کے خطرے سے بچایا جا سکے۔
این جی اوز نے بتایا کہ متاثرین میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ کئی افراد ایسے بھی ہیں جنہوں نے افغانستان میں جرمن فوج کے ساتھ کام کیا یا وہ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن رہے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ کرسمس کے موسم میں انسانی ہمدردی کو سامنے رکھتے ہوئے ان لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا ناگزیر ہے۔ اب تک صرف 350 کے قریب افغان شہری قانونی چارہ جوئی کے بعد جرمنی پہنچنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔
جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس سکیم میں شامل افغان شہریوں کو سال کے اختتام تک ملک بدر نہیں کیا جائے گا، لیکن اس مدت میں توسیع کے امکانات کم ہیں، جس سے منتقلی کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے یو این ایچ سی آر کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں اس وقت 21 لاکھ 80 ہزار سے زائد افغان مقیم ہیں۔ ان میں سے 12 لاکھ 22 ہزار رجسٹرڈ ہیں، جبکہ صرف 35 فیصد مہاجر کیمپوں میں رہتے ہیں۔ رجسٹرڈ افغان مہاجرین میں سے 10 لاکھ 90 ہزار کے پاس پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈز موجود ہیں، تاہم اس میں ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد غیر رجسٹرڈ خاندانی افراد شامل نہیں۔
یو این ایچ سی آر کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ پناہ کے متلاشی افراد کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 15 ہزار 652 ہے جن میں سے ایک لاکھ 15 ہزار 390 کا تعلق افغانستان سے ہے۔ ادارے نے بتایا کہ حالیہ تصدیقی عمل کے بعد ان اعداد و شمار میں مزید درستگی لائی گئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز تورخم بارڈر سے 543 پی او آر، 114 اے سی سی ہولڈرز اور 488 غیرقانونی افراد وطن واپس گئے ہیں۔
محکمہ داخلہ کے مطابق اب تک تورخم کے راستے 1,76,132 پی او آر اور 62,747 اے سی سی ہولڈرز افغانستان جا چکے ہیں، جبکہ 6,66,542 غیرقانونی افغان شہریوں کو بھی واپس بھیجا گیا ہے۔انگور اڈہ سرحد سے مجموعی طور پر 1,241 پی او آر، 496 اے سی سی اور 8,447 غیرقانونی افراد افغانستان جا چکے ہیں۔
