انور زیب
پشاور کے کویت ٹیچنگ ہسپتال کے زنانہ وارڈ میں 5 دسمبر کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے زبردستی داخل ہونے کا واقعہ سامنے آیا۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق اقبال آفریدی اسپتال میں زیر علاج اپنی والدہ کی عیادت کے لیے آئے تھے، تاہم خواتین کی وارڈ میں مردوں کا داخلہ ممنوع ہے اور ہر مریض کے ساتھ صرف ایک خاتون تیماردار کی اجازت ہوتی ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق جب وارڈ میں موجود ڈاکٹروں اور عملے نے داخلے سے منع کیا تو اقبال آفریدی نے انہیں دھمکیاں دیں اور دھکے دیے۔ ہسپتال انتظامیہ نے اس واقعے کی سخت مذمت کی اور کہا کہ وارڈ میں ہر کسی کا بلا اجازت داخل ہونا مریضوں کی پرائیویسی اور سیکیورٹی کے لیے خطرناک ہے۔
اقبال آفریدی نے ٹی این این سے گفتگو میں کہا کہ وہ صرف اپنی والدہ سے ملاقات کے لیے وارڈ میں گئے تھے، وہاں صرف سولہ سیکنڈ قیام کیا اور کسی کو دھمکی یا دھکا نہیں دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک عوامی نمائندے کے طور پر آئین انہیں حق دیتا ہے کہ وہ جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر سروسز پرووائیڈرز اینڈ فیسیلیٹیز ایکٹ کے تحت دوران ڈیوٹی ڈاکٹروں یا ہسپتال عملے پر تشدد یا دھمکی دینے کی صورت میں تین سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
سنئیر صحافی اور ہیلتھ رپورٹر ذاہد میروخیل نے اس موقع پر کہا کہ ایسے واقعات روکنے کے لیے پہلے سے قوانین موجود ہیں، اور ہسپتال وارڈ میں صرف مجاز افراد کی اجازت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایم این اے کے اس رویے سے تحریک انصاف کی بدنامی ہوتی ہے اور ہسپتال انتظامیہ قانونی چارہ جوئی کے حق کو استعمال کر سکتی ہے۔
کویت ٹیچنگ اسپتال کے ایڈمنسٹریشن نے اعلان کیا کہ وارڈ میں موجود خواتین، تیماردار، اور طبی عملہ ایم این اے کے اس رویے کی مذمت کرتے ہیں اور قانون کی مکمل پاسداری کے حق کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
تاہم اس حوالے سے ترجمان کویت ٹیچنگ ہسپتال سے بات کی گئی اور انہوں نے مزید معلومات فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی مگر دوبارہ رابطہ کرنے پر ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
