سعدیہ بی بی
چند دن پہلے کی بات ہے۔ میں نوتھیہ بازار سے گزر رہی تھی۔ سڑک پر عام سا رش تھا، لوگ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے تھے۔ اسی دوران میری نظر ایک لڑکی پر پڑی جو بائیک چلا رہی تھی۔ وہ بہت سکون سے، نہایت احتیاط کے ساتھ اپنی منزل کی طرف جا رہی تھی۔ لیکن اس کے اردگرد کھڑے لوگ اسے اس طرح دیکھ رہے تھے جیسے وہ کوئی انہونی کر رہی ہو۔
کچھ مرد تو ہنس کر عجیب طرح کے جملے بھی بول رہے تھے۔ میں نے دو نوجوانوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ "اب دیکھو، لڑکیاں بھی بائیک چلا رہی ہیں۔ لگتا ہے چند سالوں بعد سڑکوں پر صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں نظر آئیں گی۔"
ان کے لہجے میں مزاح کم اور طنز زیادہ تھا۔ یہ منظر دیکھ کر دل کو عجیب سا دکھ ہوا کہ آج کے دور میں بھی جب لڑکی کوئی عام سا کام کرے، تو لوگ فوراً تبصرے کرنے لگتے ہیں۔ جیسے عورت کا گھر سے نکلنا ہی کوئی بڑی بات ہو۔
اسی وقت مجھے اپنے بابا کی وہ بات یاد آئی، جو مجھے ہمیشہ حوصلہ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا تھا: "اگر میری گنجائش ہوتی تو میں تمہارے لیے سکوٹی لے دیتا، تاکہ تمہیں آنے جانے میں آسانی ہو۔" بابا کی یہ بات اس بات کی نشانی تھی کہ ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ باپ، بھائی اور شوہر اپنی بیٹیوں اور عورتوں کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، انہیں سہولت دینا چاہتے ہیں، ان پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر جگہ سوچ ایک جیسی نہیں۔
پرانے وقتوں میں خواتین کی زندگی گھر تک محدود تھی۔ لوگ سمجھتے تھے کہ عورت کا کام بس گھر سنبھالنا، کھانا پکانا، بچے پالنا اور چاردیواری میں رہنا ہے۔ باہر نکلنا تو جیسے کوئی جرم سمجھا جاتا تھا۔ مگر دور بدل چکا ہے۔ ہمارے حالات بدل گئے ہیں، ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، مہنگائی بڑھ گئی ہے، اور دنیا پہلے جیسی نہیں رہی۔ آج کی عورت پڑھ رہی ہے، نوکری کر رہی ہے، اپنے گھر کا خرچ اٹھانے میں حصہ ڈال رہی ہے، اور اپنی ضرورتوں کو خود پورا کر رہی ہے۔ ایسے میں اگر وہ بائیک چلاتی ہے تو اس میں برائی کی کون سی بات ہے؟
مسئلہ اصل میں لوگوں کی نظر اور انداز دیکھنے کا ہے۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ لڑکی کہاں جا رہی ہے، کس مجبوری یا ضرورت میں جا رہی ہے۔ ہم بس فوراً فیصلہ سنا دیتے ہیں کہ یہ غلط ہے یا غیر ضروری ہے۔ اسلام آباد، کراچی اور بڑے شہروں میں خواتین کو بائیک چلاتے دیکھنا اب عام بات ہے۔ لوگ گھورتے نہیں، باتیں نہیں بناتے، کیوں؟ کیونکہ وہاں یہ چیز معمول بن چکی ہے۔
لیکن جب یہی منظر پشاور یا قبائلی علاقوں میں نظر آئے تو لوگ فوراً اعتراض کرتے ہیں، باتیں بناتے ہیں، اور اسے غلط سمجھتے ہیں۔ کیونکہ وہاں کے لوگ ابھی تک اپنی لڑکیوں کو گھر کی چار دیواری میں دیکھنے کے عادی ہیں۔
ذرا خود سوچیں، بائیک تو بس سواری ہے، اسے کوئی بھی چلا سکتا ہے، جسے ضرورت ہو۔ لڑکی بھی انسان ہے، اسے بھی کہیں جانا ہوتا ہے، اسے بھی وقت بچانا ہوتا ہے، اسے بھی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوتی ہیں۔ اگر بائیک چلانے سے اس کی زندگی آسان ہوتی ہے تو پھر ہم اسے روکنے والے کون ہوتے ہیں؟
آزاد ہونا یہ نہیں کہ احتیاط چھوڑ دی جائے۔ اگر لڑکی عزت اور حیاء کے ساتھ، مناسب لباس میں، عبایہ یا سادہ حجاب کے ساتھ بائیک چلاتی ہے، تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ لیکن اگر وہ ایسے لباس میں نکلے جو لوگوں کی نظریں خود کھینچ لے، یا ایسا انداز اپنائے جو اچھا تاثر نہ دے، تو پھر سچی بات یہی ہے کہ لوگ باتیں کرتے ہیں۔
پرانے زمانے میں عورتیں کم باہر جاتی تھیں، تعلیم عام نہیں تھی، نوکریاں کم تھیں، سفر اس طرح نہیں ہوتا تھا، اس لیے بائیک یا گاڑی کی ضرورت بھی کم تھی۔ لیکن آج کی عورت یونیورسٹی جاتی ہے، دفتر جاتی ہے، بازار کے کام کرتی ہے، بچوں کی اسکول پک اینڈ ڈراپ کرتی ہے، گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹاتی ہے اور سب سے بڑی بات، اسے ہر وقت محفوظ سواری کی ضرورت ہوتی ہے۔
بسوں، ویگنوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں عورتوں کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ حقیقت ہے۔ تو پھر وہ کس پر بھروسہ کرے؟ کون اسے ہر جگہ لے کر جائے؟ ایسے میں اگر وہ اپنی بائیک چلاتی ہے تو یہ عقلمندی بھی ہے اور ضرورت بھی۔
سوال یہ ہے کہ سوچ کب بدلے گی؟ہم اکثر لڑکی کو دیکھ کر فوراً سوال کرتے ہیں کہ "لڑکی باہر کیوں نکلی ہے؟ بائیک کیوں چلا رہی ہے؟" مگرہم یہ نہیں پوچھتے کہ "شاید اس کی کوئی مجبوری ہو؟ شاید اسے اپنا کام خود کرنا پڑتا ہو؟" ہم نے عورت کو کمزور سمجھ کر اسے ہر قدم پر ٹوک دیا ہے۔ لیکن وقت بدل رہا ہے، اور اب سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ عورت بائیک بھی چلا سکتی ہے، کام بھی کر سکتی ہے، اور پردہ بھی رکھ سکتی ہے۔ اپنی حد میں رہ کر چلنا ہی بہتر طریقہ ہے۔ زیادہ سختی بھی اچھی نہیں، اور حد سے بڑھ جانا بھی مناسب نہیں ہوتا ۔
جب میں نے نوتھیہ بازار والی لڑکی کو دیکھا تھا تواس کا چہرے پر اعتماد تھا۔ وہ کسی کو جواب دینے کے لیے نہیں، صرف اپنا کام کرنے کے لیے نکلی تھی۔ لیکن لوگ اسے یوں دیکھ رہے تھے جیسے وہ نئی دنیا ایجاد کر رہی ہو۔ اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ اصل مسئلہ لڑکیوں کے بائیک چلانے کا نہیں۔ اصل مسئلہ لوگوں کی سوچ ہے، جو وہ بدلنا ہی نہیں چاہتے۔ وقت کے ساتھ شاید لوگوں کا رویہ بھی بدل جائے۔
ممکن ہے آنے والے سالوں میں یہ سب بالکل معمول کی بات ہو جائے۔ شاید ایک دن ایسا آئے جب کسی لڑکی کو بائیک چلاتے دیکھ کر کوئی حیران نہ ہو۔ شاید وہ طنزیہ جملے بھی ختم ہو جائیں۔ شاید اس دن ہم کہہ سکیں کہ معاشرہ واقعی بدل گیا ہے۔ اور مجھے امید ہے کہ یہ تبدیلی آ رہی ہے۔ ہر وہ لڑکی جو آج بہادری سے اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی ہے، وہ آنے والی لڑکیوں کے لیے راستہ آسان بنا رہی ہے۔
