وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پولیس لائنز پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پولیس فورس کو بلٹ پروف گاڑیوں، جدید اسلحہ اور سیکیورٹی آلات کو باضابطہ طور پر حوالہ کیا۔ اس موقع پر پولیس کو ڈرون کیمرے، اینٹی ڈرون گنز، اینٹی ڈرون سسٹمز، تھرمل کیمرے، جیمرز، بلٹ پروف جیکٹس، بیلسٹک ہیلمٹس اور بکتر بند گاڑیاں فراہم کی گئیں۔
پولیس کو سنائپر رائفلز، ڈریگونوف، ایم-16، سب مشین گنز اور ہیوی مشین گنز بھی دی گئیں۔ بریفنگ کے مطابق تھرمل ویپن سائٹس اور تھرمل بائنوکلرز پولیس کی رات کے وقت نگرانی کو مؤثر بنائیں گے، جبکہ بلٹ پروف ہیولز، بلٹ پروف ریوو اور سائیڈ آرمَرنگ سے پولیس کی نقل و حرکت مزید محفوظ ہو سکے گی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ پولیس فورس موجودہ حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ پولیس فورس کو ناقابلِ تسخیر قوت بنایا جائے اور مزید اسلحہ و آلات بھی فراہم کئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ 2018 سے 2022 تک صوبے میں امن رہا، مگر اس کے بعد حالات دوبارہ خراب ہوئے۔ "جب ہم 80 ہزار شہداء کی بات کرتے ہیں تو ان میں پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے جوان بھی شامل ہیں،" وزیراعلیٰ نے کہا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے میں امن بحال کیا بھی جائے گا اور برقرار بھی رکھا جائے گا، اور تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے بننے والی پالیسی ہی پائیدار ثابت ہوگی۔ انہوں نے سی ٹی ڈی اور پولیس فورس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فوج، ایف سی اور دیگر اداروں کی قربانیوں کی بدولت صوبے میں 2018 سے 2022 تک امن قائم رہا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 2022 کے بعد سے دہشتگردی کے چیلنج کا سامنا ہے، تاہم اس پروگرام سے حکومتی سنجیدگی کا اندازہ ہو جانا چاہیے۔ صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ مل کر ایسی پالیسی بنائے گی جو دیرپا امن کا باعث بنے۔
