رفاقت اللہ رزڑوال

 

خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کی زمین نے گزشتہ چار دہائیوں میں جتنے دکھ دیکھے، شاید دنیا کی کم ہی جگہوں نے اتنی مسلسل آگ دیکھی ہوگی۔ بارود، لاشیں، معاہدے، دھوکے، آپریشنز، واپسی، پھر بگاڑ، سب ایک نہ ختم ہونے والا چکر رہا۔ ایسے ماحول میں صحافت کرنا آسان تھا اور نہ ہے، اور اس ماحول میں سچ لکھنا تو اور بھی مشکل ہے۔ 

 

لیکن خیبرپختونخوا کے مایہ ناز صحافی، محقق اور سات کتابوں کے مصنف شمس مومند ان چند لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے یہ مشکل راستہ چنا، اس پر ڈٹے رہے، اور اپنی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ”جنگ مسلسل“ کتاب کی صورت میں ہمیں دے دیا۔

 

شمس مومند چھ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہیں، اور گھریلو ذمہ داریوں کے بوجھ کے باوجود انہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا۔ ایسے وقت میں اپنی صحافت جاری رکھا جب خیبر پختونخوا میں دہشتگردی اپنی آخری حدوں کو چھو رہی تھی۔ ہر طرف دھماکے، ہر لمحہ غیر یقینی، اور ہر خبر ایک نئی موت کی خبر بن سکتی تھی۔ 

 

لیکن شمس مومند نے نہ صرف یہ سب برداشت کیا بلکہ اپنے قلم کی سچائی کو برقرار رکھا۔ وزیرستان میں TTP کے امیر بیت اللہ محسود تک پہنچنا، طالبان قیادت سے انٹرویوز کرنا، اور وہ بھی اس دور میں جب فورسز کی کارروائیاں اپنے عروج پر تھیں، یہ محض رپورٹنگ نہیں بلکہ جرات کی وہ مثالیں ہیں جو آج بھی کم نظر آتی ہیں۔

 

”جنگ مسلسل“ میں شمس مومند نے پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا کی 45 سالہ مسلسل جنگ کا ایسا احاطہ کیا ہے جو ایک عام قاری کے لیے ہی نہیں، بلکہ تاریخ کے طالب علم کے لیے بھی قیمتی سرمایہ ہے۔ افغان جہاد سے لے کر پاکستان میں طالبان کے ظہور تک، شدت پسندی کے پھیلاؤ سے ریاستی فیصلوں تک، آپریشنز سے امن مذاکرات تک، سب کچھ ایک مربوط سلسلے میں بیان کیا گیا ہے۔ 

 

اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں نہ لفاظی ہے، نہ جھوٹ، نہ پناہ لینے والی وہ احتیاط جو بہت سے صحافی اختیار کرتے ہیں۔ یہاں ہر بات تجربے کی آگ سے گزری ہوئی ہے، اور ہر سطر میں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوا سچ موجود ہے۔

 

شمس مومند نے جنگ کو صرف ایک زاویے سے نہیں دیکھا؛ انہوں نے اس کے نقصانات، تباہ کاریوں، جانی و مالی خسارے، بے گھری اور خوف کے وہ پہلو بھی لکھے جنہوں نے ایک پوری نسل کا مستقبل بدل دیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ ایک ایسے مصنف ہیں جو یک طرفہ بیانیہ دینے کے قائل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں وہ جنگ کے بُرے اثرات بیان کرتے ہیں، وہیں اس کے ساتھ سماجی و معاشی پس منظر کو بھی کھول کر دکھاتے ہیں۔

 

مصنف لکھتے ہیں کہ جب 9/11 واقعات کے بعد جنگ اپنی انتہا پر پہنچی تو اس کے نتیجے میں نجی میڈیا چینلز کا تیز اُبھار دیکھنے کو ملا، جیو نیوز، ڈان نیوز، اے آر وائے، سما نیوز، خیبر نیوز اور متعدد نئے چینلز سامنے آنا شروع ہوگئے۔ یہ ایک طرف تو جنگ کی خبری سنسنی خیزی کا نتیجہ تھا، مگر دوسری طرف معاشی سرگرمیوں، میڈیا انڈسٹری کی توسیع اور روزگار کے مواقع کی صورت میں یہ ایک مثبت تبدیلی بھی ثابت ہوئی۔


دوسری طرف وہ قبائلی عمائدین اور عام لوگ، جو پاکستان کے قیام سے لے کر خیبر پختونخوا میں جنگ کے بھڑک اُٹھنے تک کسمپرسی، محرومی اور ریاستی سہولتوں سے دور ایک مشکل زندگی گزار رہے تھے، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، شہری حقوق اور کسی بھی بنیادی سہولت سے محروم، جب مسلسل جنگ سے تنگ آ کر بندوبستی علاقوں کی طرف منتقل ہوئے تو وہاں انہیں نسبتاً بہتر تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی زندگی میسر آئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی قبائلی آبادی کا تقریباً 40 فیصد حصہ انہی بندوبستی علاقوں میں مستقل طور پر رہائش اختیار کر چکا ہے۔


اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مصنف نے جنگ کو محض ایک المیہ نہیں سمجھا بلکہ اس کے وہ تمام جہتیں، اچھی ہوں یا بری، بڑی گہرائی، تحقیقی بصیرت اور فکری بلوغت کے ساتھ کتاب میں سمو دئے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف تاریخ بیان کی، بلکہ تاریخ کے اندر چھپی سماجی حرکیات، سیاسی فیصلوں، ریاستی ردعمل اور عوامی اثرات کو بھی پوری طرح بے نقاب کیا ہے۔


یہی وہ خصوصیت ہے جو جنگ مسلسل کو محض ایک کتاب نہیں بلکہ 45 سالہ جنگ کی جامع دستاویز بناتی ہے۔


کتاب کا وہ باب جو سب سے زیادہ دل کو چھوتا ہے وہ ہے ان کے والد کی نماز جنازہ کا واقعہ۔ کابل میں بیٹھے ہوئے ایک بیٹے کا وہ درد بھرا جملہ کہ ”اگر میرے آنے سے پہلے کسی نے میرے والد کو دفن کیا تو اچھا نہیں ہوگا“، یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ اس صحافی کی وہ دنیا ہے جہاں اپنے دکھ بھی وقت اور حالات کی مجبوریوں میں دفن ہو جاتے ہیں۔ یہ کہانی پڑھتے پڑھتے لمحہ بھر کو رکتہ رکتا ہے، اور قاری محسوس کرتا ہے کہ اس تحریر میں صرف معلومات نہیں بلکہ ایک بیٹے کا دل بھی رکھا ہوا ہے۔

 

میرے لیے یہ کتاب صرف مطالعہ نہیں تھی، بلکہ ایک سفر تھا۔ بعض جگہ معلومات نے حیران کیا، بعض جگہ تحریر نے مجبور کیا کہ میں واپس جا کر دوبارہ پڑھوں۔ اور بعض مقامات پر دل بھر آیا۔ اور ایک سچی بات… یہ کتاب میں نے صرف بیٹھ کر نہیں پڑھی۔ کبھی بیڈ پر نیم دراز ہو کر، کبھی صحن میں چائے کے کپ کے ساتھ۔


اور ہاں، کتابوں سے محبت کرنے والوں سے معذرت کے ساتھ، میں نے یہ کتاب واش روم میں بھی پڑھی ہے، کیونکہ واقعی اچھا لکھا گیا مواد جگہ کا پابند نہیں رہتا۔ کتاب پڑھتے ہوئے کئی بار سگریٹ جلائی۔ دھواں اوپر اٹھتا رہا اور شمس مومند کے الفاظ دل میں اترتے رہے۔ یوں لگا جیسے دھواں باہر نکل رہا ہے اور 45 سال کا درد اندر جگہ بنا رہا ہے۔


میری نوجوان نسل سے خاص اپیل ہے، خصوصاً وہ جو آج کے سیاسی فریم سے باہر نکل کر اصل تاریخ جاننا چاہتے ہیں: اگر آپ یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ یہ خطہ کیوں نہیں سنبھل سکا، کس نے کیا غلط کیا، کس نے کیا سہا، ریاست کہاں کمزور پڑی، سماج کہاں ٹوٹا، شدت پسندی کیوں رچ بس گئی، تو ”جنگ مسلسل“ سے بہتر کوئی کتاب نہیں۔


اگر آپ کے پاس زیادہ پڑھنے کا وقت نہیں تو بھی صرف یہ ایک کتاب پڑھ لیں۔ یقین کریں آپ کے سامنے 45 سال کی تاریخ ایک فلم کی طرح گزر جائے گی کیونکہ مصنف نے یہ کتاب لکھی نہیں، بلکہ کتاب جھیلی ہے، جی ہے اور بھگتی ہے۔