خولہ زرافشاں   

 

اے آئی ٹیکنالوجی نے جہاں تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں ترقی کی ہے، وہیں اس کے انسانوں پر منفی اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اے آئی کے ذریعے بنائی گئی جعلی ویڈیوز اور تصاویر نہ صرف غلط معلومات پھیلا رہی ہیں بلکہ ذہنی دباؤ پیدا کر رہی ہیں اور لوگوں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔

 

 اکثر لوگ بغیر تصدیق کے ایسی جعلی ویڈیوز اور تصاویر آگے شیئر بھی  کر دیتے ہیں جو ایک کمیونٹی کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔حال ہی میں سوات کے ایک طالب علم کی یونیورسٹی کے اورینٹیشن ڈے کے دوران بنائی گئی ایک معمولی ویڈیو وائرل ہو گئی۔

 ویڈیو میں وہ اسٹال میں میز پر موجود کاغذ پر دستخط کرتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ قریب کھڑی لڑکی محض موجود تھی اور مسکراتی نظر آ رہی تھی۔

 

 بعد میں ویڈیو کو اے آئی کے ذریعے ایڈٹ کیا گیا، جس سے دیکھنے والوں میں یہ غلط تاثر پیدا ہوا کہ وہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں یا ان کا کوئی تعلق ہے۔ اس بلاگ میں موجود تصویر اسی وڈیو سے لی گئی  ہے جو کہ ایک عام  سی وڈیو ہے اور اس وڈیو کی تصدیق و تحقیق اردو نیوز کی ایک رپورٹ میں کی گئی ہے کہ  حقیقت میں، طالب علم کا کسی لڑکی کے ساتھ ویڈیو بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا،

 اور لڑکی بھی اس معاملے میں شامل نہیں تھی، مگر وائرل ہونے کے بعد یہ معمولی لمحہ ان کے لیے سنگین مسائل کا سبب بن گیا۔ 

 

اسی طرح سوشل میڈیا پر قومی اسمبلی میں گدھا گھسنے کی جعلی ویڈیو، خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں دھماکے کی فرضی ویڈیو، اور ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی اے آئی سے بنائی گئی ویڈیو بھی وائرل ہوئی، جس میں دونوں کو ہونٹوں پر بوسہ لیتے دکھایا گیا۔

 

اس کے علاوہ، کئی افراد سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر کو مشہور شخصیات کے ساتھ اے آئی کے ذریعے ایڈٹ کر کے تفریح کے طور پر شیئر کرتے ہیں، جس سے ان کی پرائیویسی اور درست معلومات کے لیے خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

 

 اسی طرح مختلف سیاسی، سماجی، صحافی اور شوبز شخصیات کی تصاویر کا بھی اے آئی کے ذریعے غلط استعمال بڑھ رہا ہے، جس سے ان کی عزت، پرائیویسی کو نقصان پہنچ رہا ہے اور افواہوں و غلط معلومات کی بھرمار ہو رہی ہے۔

 

 

لیکن اگر دوسری جانب دیکھا جائے اے آئی کا مثبت استعمال اگر کیا جائے  تو نہ صرف یہ ایک چیلنج ہے بلکہ موقع ہے۔ اور وہی قومیں آگے بڑھیں گی جو نئے خیالات اور تخلیقی سوچ کو فروغ دیتی ہیں، کیونکہ تخلیقی سوچ انسان کو ممتاز رکھتی ہے۔

 

اے آئی ترقی کا طاقتور ذریعہ ہے اور اس کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اسے کس انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ مثبت سوچ اور توازن کے ساتھ اے آئی کو اپنانا انسانیت کے روشن مستقبل اور ہر میدان میں کامیابی کے امکانات بڑھا سکتا ہے۔