ایزل خان

 

سوشل میڈیا پر لوگ کسی کانٹینٹ، کسی ایک جملہ، یا کسی کانٹرورسی، کسی بزنس، یا پھر اپنی سادگی کی وجہ سے مشہور ہوجاتے ہیں۔ ان سب میں سے ایک پیاری مریم بھی تھی جو اپنے چھوٹے قد، معصومانہ انداز، اور پیاری سی مسکراہٹ کی وجہ سے مشہور ہوئی تھی۔

 

یاد رہے کہ پیاری مریم 28 اکتوبر 1999 کو لاہور میں پیدا ہوئی تھی، وہ ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی تھی۔ پیاری مریم کی قد 4 فٹ 5 انچ تھی۔ مریم کا کہنا تھا کہ چھوٹے قد کی وجہ سے انہیں بہت سی مشکلات اور سماجی طنز و رنگ و رنگ رویوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر ان سب مشکلات نے انہیں روکنے کے بجائے اور مضبوط بنا دیا۔

 

یاد رہے کہ مریم ایک مشہور سوشل میڈیا انفلوئنسر، یوٹیوبر، ویلاگر، اور ٹک ٹاکر تھی۔ سوشل میڈیا پر جہاں ہر دوسرا ویلاگر اپنی گلامرس، فیشن، اور مصنوعی لائف سٹائل سے مشہور ہے، وہاں پیاری مریم ایک عام گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی تھی جو اپنی مثبت سوچ، سادہ سی زندگی، اور زندگی کے تلخ تجربات کو شئیر کرتے ہوئے آگے بڑھتی تھی۔

 

پیاری مریم ہمیشہ اپنی ویڈیوز میں سپیشل چائلڈ (معذور بچوں) کے لئے آواز اٹھاتی تھی، اور ہمیشہ لڑکیوں کو کہتی تھی کہ اپنی تعلیم پر توجہ دیں، پر اعتماد رہیں، اور اپنی زندگی میں کچھ کریں۔

 

یاد رہے کہ پیاری مریم کی شادی احسن علی سے ہوئی تھی اور اسلام آباد  میں اپنے سسرال کے ساتھ رہتی تھی۔ کچھ وقت پہلے انہوں نے اپنی جڑواں بچوں کی خوشخبری اپنے مداحوں کے ساتھ شئیر کی تھی۔ وہ روزانہ ویلاگز بناتی تھیں، کبھی کبھار ان کے شوہر بھی ویڈیوز میں نظر آتے تھے۔

 

کل سے ان کے شوہر کے جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ وائرل ہوئی کہ ظہر کے بعد نماز جنازہ۔۔۔ اور پورے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا ہوا۔ بہت سارے سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور فالورز حیران ہوگئے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ جو لوگ مریم کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے صبری سے انتظار کرتے تھے، وہاں سب فالورز کو مریم کی وفات کی اچانک خبر نے ہلا کر رکھ دیا۔

 

کیونکہ ہسپتال جاتے وقت بھی انہوں نے ایک ویلاگ بنایا تھا اور سب سے دعا کی درخواست کی تھی۔ یاد رہے کہ پیاری مریم نے جڑواں بچوں کو جنم دیا تھا اور زچگی کے دوران ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے ان کی حالت خراب ہوئی، جس کی وجہ سے 26 سال کی عمر میں اس فانی دنیا کو الوداع کہہ دیا۔

 

یہاں پر میرے سمیت سب کے ذہن میں کئی سوالات آتے ہیں۔

 

کیا سب کچھ سوشل میڈیا پر شئیر کرنا چاہیے؟ ہر لمحہ، ہر بات، یا کچھ پرائیویسی ہونی چاہیے؟ کیا ایک لڑکی انفلوئنسرز کو پریگننسی کے دوران ویڈیوز بنانے سے زیادہ اپنی صحت پر توجہ دینی چاہیے؟ کیا کبھی کبھار اپنے حالات بدلنے کی کوشش میں جب انسان کا اچھا وقت آنا شروع ہو جاتا ہے تو خوشیاں اپنا منہ موڑ لیتی ہیں اور اداسی شروع ہوجاتی ہے؟ ایسی طرح درجنوں سوالات اور بھی ہیں جو سب کو بلاگ کا حصہ بنانا بہت مشکل ہے۔

 

لیکن یہاں پر جو میں کہنا اور لکھنا چاہتی ہوں شاید آپ سب کے سوالات کا جواب مل جائے۔ میرے خیال میں بہت کم سوشل میڈیا انفلوئنسرز ہوں گے جو کہ مالی مشکلات، محدود وسائل، بغیر فیملی سپورٹ، اچھا اور مثبت کانٹینٹ بناتے ہیں۔ اور بہت سارے مشکلات سے گزرتے ہیں، وہ سب مشکلات، محدودیت، آگے بڑھنے کے خواب، بغیر گلامرس یا شو آف کئے اپنا کام جاری رکھتے ہیں اور اپنی مداحوں کے چہروں پر خوشی لاتے ہیں۔

 

یہ سب کرنا شاید لوگوں کو دیکھنے میں آسان لگتا ہے، لیکن اس 20، 30 منٹس کی ویڈیو کے پیچھے بہت سی جدوجہد اور محنت ہوتی ہے۔

 

مجھے یہ لگتا ہے کہ اپنی لائف اسٹائل، اپنی کامیابیاں، پرسنل لائف، یہ سب کچھ سوشل میڈیا پر لانا نہیں چاہیے کیونکہ نظر بد ایک حقیقت ہے اور نظر بد نے بہت سارے لوگوں کی زندگیاں قبر تک پہنچا دی ہیں۔

 

اگر سوشل میڈیا پر کچھ لوگ ہمیں پسند کرتے ہیں، تو کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو پسند نہیں کرتے، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں: "ہائے! ارے اس کے اتنی کامیابی؟ یہ کیسے؟" دیکھیں کچھ حاسدین بھی ہوتے ہیں لیکن ہمیں تو پتہ نہیں چلتا نا۔ 

 

ہم سمجھتے ہیں ویڈیو ریکارڈ کی، اپلوڈ کی، بس اب ہمارا کام ختم، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہر چیز کے اگر فائدے ہیں تو نقصان بھی ہے، کوشش کریں کہ یہ بھی مدنظر رکھیں۔

 

پیاری مریم اگرچہ قد میں چھوٹی تھی، لیکن ان کا ذہن بہت بڑا تھا اور یہی سادگی، معصوم انداز، مثبت رہنا ان کی خوبصورتی تھی۔ جو دوسرے انفلوئنسرز سے منفرد اور الگ دکھتی تھیں، جس کی وجہ سے ہزاروں، لاکھوں لوگوں کے دلوں پر راج کرتی تھیں، وہ اپنی فیملی میں الگ سوچ رکھنے والی لڑکی تھیں۔ انہوں نے اپنا چھوٹا قد، لوگوں کی باتیں، اپنے سر پر سوار نہیں ہونے دیا بلکہ سب کو دکھایا کہ "میں کچھ کر سکتی ہوں، میری چھوٹی قد میری خوابوں کی تکمیل میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔"

 

انہوں نے سب لوگوں اور لڑکیوں کو یہ پیغام دیا کہ اگر کوئی سپیشل چائلڈ ہیں، یا ان کا قد چھوٹا ہے، یا اور کوئی وجہ ہے، یہ سب چیزیں ان کی کامیابی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔ ہر انسان کچھ نہ کچھ کر سکتا ہے اور کرنا چاہیے۔ خود اپنا تکلیف چپھا کر دوسروں کو تسلی دیتی تھیں اور کئی لوگوں اور لڑکیوں کے لئے ایک مثال تھیں۔ اپنی تکلیف دل میں رکھ کر دوسروں کو جینے کا پیغام دیتی تھیں۔

 

لیکن کبھی کبھار انسان دوسروں کو حوصلہ دیتے دیتے خود تھک جاتا ہے، لیکن کسی کو بتا نہیں سکتے۔ پھر بھی چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہیں تاکہ دوسروں کو جینے کا حوصلہ ملے۔

 

پیاری مریم کا آخری  ویلاگ ہسپتال میں اگر دیکھا جائے تو وہ بہت ڈری ہوئی نظر آرہی تھی، سانس چڑھ رہی تھی، لیکن پھر بھی مسکراہٹ۔۔۔ اور کہتی: "میں ٹھیک ہوں، سب دعا کریں۔۔۔"

 

کل میں ان کی ویڈیوز دیکھ رہی تھی جہاں وہ اپنے آنے والی بچوں کے کپڑے، چیزیں لوگوں کو دکھا رہی تھیں۔ بہت خوش نظر آتی تھیں، لیکن یہ خوشی انہیں راس نہیں آئی۔ ہمیشہ یہ دعا کرتےرہیں: "اللہ ہمیں نظر بد سے بچائے۔" اور سب سے التجا ہے کہ پیاری مریم کے لئے دعا ضرور کریں۔