چارسدہ میں ایک روز قبل درج کی گئی پولیس رپورٹ کے مطابق مقامی صحافیوں کو فیس بُک میسنجر کے ذریعے نامعلوم شخص نے جان سے مارنے اور دھماکا خیز حملے کی دھمکیاں دی ہیں، جس نے خود کو ایک مسلح غیر ریاستی گروہ کا رکن ظاہر کیا۔

 

 متاثر صحافی رفاقت اللہ کا کہنا ہے کہ یہ دھمکیاں ان کے سوشل میڈیا ٹاک شو کی وجہ سے موصول ہوئیں، جس کی میزبانی وہ اپنے ساتھی سید شاہ رضا شاہ کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس پروگرام میں پاکستان-افغانستان تعلقات، دہشتگردی اور افغان مہاجرین کی واپسی جیسے موضوعات زیرِ بحث آتے ہیں۔

 

رپورٹ کے متن کے مطابق یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی متعدد بار ایسے پیغامات موصول ہو چکے ہیں۔ تاہم اس بار چارسدہ پریس کلب کی کابینہ اور سینئر صحافیوں نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متاثرہ افراد کو پولیس میں باقاعدہ رپورٹ درج کرانے کا مشورہ دیا۔

 

 پولیس کی فائل کی گئی روزنامچہ رپورٹ میں صحافیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی نقل و حرکت محدود رکھیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں، سی سی ٹی وی کیمرے نصب کریں اور تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔

 

چارسدہ پریس کلب کے اراکین نے صحافیوں کو ملنے والی دھمکیاں انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں صحافیوں کی سیکیورٹی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے۔

 

 جمعرات کو پریس کلب کے جنرل باڈی اجلاس میں سینئر صحافی سید شاہ رضا شاہ اور فریڈم نیٹ ورک کے صوبائی کوآرڈینیٹر رفاقت اللہ رزڑوال کو کالعدم تنظیموں کے نام پر جان سے مارنے اور بم دھماکے کی دھمکیوں کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ یہ دھمکیاں صحافیوں کو حقائق بیان کرنے یا ذمہ دارانہ رپورٹنگ سے نہیں روک سکتیں۔

 

اجلاس میں رواں سال کے بجٹ اور اخراجات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ سال کے لیے الیکشن کمیٹی کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا۔ پریس کلب کے صدر سبز علی خان ترین نے پولیس کی غیر سنجیدہ کارروائی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شکایات کو ایف آئی آر میں تبدیل نہ کرنا صحافی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی پی او سے ملاقات کے باوجود معاملے کو نظر انداز کیا گیا، جو سنگین سیکیورٹی خدشے کے باوجود غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔

 

متاثرہ صحافیوں نے کہا کہ یہ دھمکیاں ہمیشہ ان کو موصول ہوتی ہیں جو فیلڈ میں رہ کر عوامی مسائل، بدانتظامی اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔ اگر وہ خاموش ہو جائیں تو یہ اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا، اس لیے ضروری ہے کہ مسائل ہر فورم پر اجاگر کئے جائیں۔ پریس کلب نے مطالبہ کیا کہ درج شدہ رپورٹ کو فوری ایف آئی آر میں تبدیل کیا جائے اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، ورنہ احتجاج پر مجبور ہونا پڑے گا۔

 

رفاقت اللہ نے ٹی این این سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اور سید شاہ رضا شاہ اپنے وی لاگز میں حقائق کی بنیاد پر پاکستان-افغانستان تعلقات، دہشتگردی اور افغان مہاجرین کے موضوعات پر تجزیہ کرتے ہیں، اور اس دوران کوئی ذاتی رائے شامل نہیں کرتے۔

 

رفاقت کا کہنا ہے کہ ان کے پروگرام پر کلعدم تنظیموں کے ردعمل کے سبب انہیں دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ حالیہ دھمکیاں اس دفعہ شدید نوعیت کی تھیں اور بم دھماکے اور جان سے مارنے کی دھمکیوں پر مشتمل تھیں۔ صحافیوں نے ان دھمکیوں کو ڈاکومنٹ کرنے کے لیے چارسدہ سٹی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کرائی، تاہم ابھی تک یہ ایف آئی آر میں تبدیل نہیں ہوئی۔

 

سیکیورٹی ادارے معاملے پر کام کر رہے ہیں اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے احتیاطی اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حقائق کی بنیاد پر رپورٹنگ جاری رکھیں گے اور کسی صورت اپنے کام کو نہیں روکیں گے۔

 

پاکستان میں صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پریس فریڈم نیٹ ورک کے مطابق گزشتہ سال صحافیوں کو نظربند، قانونی کارروائی اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ 2025 کی رپورٹ کے مطابق مئی 2024 سے اپریل 2025 تک پاکستان میں پانچ صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے نتیجے میں قتل ہوئے، جن میں تین سندھ اور دو خیبرپختونخوا سے تھے۔

 

 اسی دوران 82 صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کو دھمکیوں، ہراسانی، گرفتاریوں اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

 

اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں صحافیوں کے خلاف سب سے زیادہ 22 مقدمات درج ہوئے، جبکہ اسلام آباد میں 20، پنجاب میں 18، بلوچستان میں 4 اور جموں و کشمیر میں ایک مقدمہ رپورٹ ہوا۔

 

 ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے صحافی رحمان ولی احساس کے خلاف متعدد دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔ پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں صحافیوں کے خلاف 162 واقعات ہوئے، جن میں حملے، اغواء، گرفتاریاں، حراست اور مقدمات شامل ہیں۔

 

رفاقت اللہ کا کہنا ہے  کہ خیبرپختونخواہ صحافیوں کے لیے خطرناک صوبہ بنتا جا رہا ہے، اور سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کریں۔ وہ اپنی آزادی صحافت کا حق استعمال کرتے ہوئے عوامی مسائل اور بنیادی حقائق کو سامنے لاتے رہیں گے، اور جو کچھ ہوگا وہ اللہ کی مرضی سے ہوگا۔