ایزل خان
ہم سب کو زندگی میں کبھی کبھار ایسے لوگوں سے ملنا پڑتا ہے جن کی باتوں میں وہ امید ہوتی ہے، جہاں سے ہمیں دوبارہ جینے اور زندگی کرنے کا موقع ملتا ہے۔ وہ لمحے جب ہم سمجھتے ہیں کہ شاید سب ختم ہو چکا ہے، مگر اللہ ہمیں ایسے انسانوں سے ملواتا ہے جن سے مل کر لگتا ہے جیسے کوئی معجزہ ہوا ہو۔ ایسے لوگوں کے الفاظ دل میں اتر جاتے ہیں، اور ان کی شخصیت اور تجربات ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت ڈاکٹر سیدہ عارفہ زہرہ تھیں—ایک ایسی باوقار خاتون جنہوں نے اپنی پوری زندگی تعلیم، علم اور خواتین کے حقوق کے لیے وقف کر دی۔
ڈاکٹر صاحبہ کی کہانی صرف اس کامیابی کی نہیں تھی جو چند لمحوں کے لیے ہمیں اسکرین پر نظر آتی ہے، بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی محنت، صبر، جدوجہد اور مسلسل ہمت پوشیدہ تھی۔ ڈاکٹر صاحبہ اس دور میں پلی بڑھی تھیں جب عورت کی تعلیم کو ایک خواب سمجھا جاتا تھا، معاشرہ اسے غیر ضروری سمجھتا، اور عورت کا کردار صرف گھر تک محدود تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن انہوں نے اس پرانی سوچ کو چیلنج کیا۔ وہ کہتی تھیں کہ اگر عورت تعلیم یافتہ ہوگی تو پورا معاشرہ ترقی کرے گا، اور یہی سوچ وقت کے ساتھ ان کی زندگی کا مشن بن گئی۔
بےشمار مواقع پر گھر والوں نے سوال اٹھائے، معاشرے نے رکاوٹیں کھڑی کیں، مگر ڈاکٹر صاحبہ نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے اپنا راستہ خود بنایا۔ انہیں بچپن سے ہی لکھنے پڑھنے کا شوق تھا۔ کتاب ان کی بہترین دوست تھی۔ وہ لائبریری میں گھنٹوں تحقیق کرتیں، سوال پوچھتیں اور سیکھنے کی جستجو کو ہمیشہ زندہ رکھتیں۔
ڈاکٹر عارفہ زہرہ نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، لیکن وہ ہمیشہ کہتیں کہ علم کا مقصد صرف اپنی ذات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے دوسروں تک پہنچانا ضروری ہے۔ وہ اس مشن میں پوری طرح کامیاب رہیں۔ وہ بہت سی لڑکیوں کے لیے رول ماڈل بنیں، خاص طور پر اُن کے لیے جو مڈل کلاس گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور معاشرتی دباؤ کے باوجود آگے بڑھنے کا خواب رکھتی ہیں۔
میں خود بھی ان لوگوں میں شامل ہوں جنہیں ڈاکٹر صاحبہ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ کئی بار ہمارے مسائل کا حل ہمارے اردگرد کے ماحول میں نہیں ملتا، مگر جب ہم ڈاکٹر صاحبہ جیسے معتبر لوگوں کی زندگی سنتے ہیں تو برسوں کے سوالات کا جواب چند لمحوں میں مل جاتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جب ایسی علمی شخصیات اس دنیا سے چلی جاتی ہیں تو وہ خلا صرف ایک شخص کا نہیں بلکہ ایک پوری فکر، ایک نسل اور ایک علم کے باب کا ہوتا ہے۔
ڈاکٹر صاحبہ نہ صرف ایک ماہرِ تعلیم تھیں بلکہ استاد بھی تھیں اور رہنما بھی۔ ان کی گفتگو سچی، سادہ اور دل تک پہنچنے والی ہوتی تھی، اسی لیے سننے والوں پر گہرا اثر چھوڑتی تھی۔ جب وہ خواتین کے حقوق کی بات کرتی تھیں تو یہ محض نعرے نہیں ہوتے تھے بلکہ تجربے، احساس اور مشاہدے کی گہرائی ان کے لہجے میں جھلکتی تھی۔ وہ ہمیشہ زور دیتی تھیں کہ عورت کو اپنی پہچان خود بنانی چاہیے، کوئی دوسرا اسے مضبوط نہیں بنائے گا۔ رکاوٹیں ضرور آئیں گی، مگر محنت اور قابلیت سے ہی راستہ بنتا ہے۔ وہ کہتی تھیں کہ اگر کوئی انتظار کرے کہ حالات مکمل طور پر درست ہو جائیں تو وہ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔
ڈاکٹر صاحبہ کا ماننا تھا کہ عورت صرف چار دیواری تک محدود نہیں۔ اگر اسے تعلیم، اعتماد اور مواقع دیے جائیں تو وہ زندگی کے کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ عورت سوچ سکتی ہے، فیصلہ لے سکتی ہے اور معاشرے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر صاحبہ کے کچھ مختصر مگر گہرے الفاظ ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔ وہ کہتی تھیں:
"بہت کم شوہر ایسے ہوتے ہیں جو مان لیں کہ یہ اچھی بات مجھے میری بیوی نے بتائی ہے، کیونکہ ہمارے اندر بے یقینی ہے۔ کیا ہوا اگر ہم یہ مان لیں کہ وہ پہلے ایک فرد ہے، بیوی بعد میں؟"
ایک اور موقع پر انہوں نے کہاکہ
"یہ ہر بات پر کفر کا فتویٰ کہاں سے آگیا؟ ہم انسانوں والے سوال پوچھتے ہی نہیں۔"
میں سمجھتی ہوں کہ آج کی لڑکیوں کے لیے ڈاکٹر صاحبہ کی زندگی ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے سکھایا کہ خواب دیکھنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن ان خوابوں کی تعبیر کے لیے صبر، محنت اور ہمت شرط ہے۔ اگر یقین مضبوط ہو تو کوئی طاقت آپ کو روک نہیں سکتی۔ ان کے لیکچرز میں ایک بات بہت نمایاں تھی۔
"اگر تم خود پر یقین نہیں کرو گی تو کوئی بھی تم پر یقین نہیں کرے گا۔"
میں یہی سمجھتی ہوں کہ ہم سب اپنی اپنی جگہ کچھ نہ کچھ کر سکتے ہیں۔ کسی بڑے ادارے کی ضرورت نہیں ہوتی، چھوٹے قدم بھی بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
آخر میں ڈاکٹر صاحبہ کے لیے دعا ہے کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔ آمین۔
ایک اور علم کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔