سعید وزیر
جنوبی وزیرستان اپر کے علاقے مولے خان سرائے میں واقع مقامی ہسپتال گزشتہ ایک سال سے بند پڑا ہے، جس کی زبوں حالی اس مقام کو علاج گاہ کے بجائے آوارہ کتوں کی پناہ گاہ میں تبدیل کر چکی ہے۔ تقریباً ساٹھ ہزار آبادی والے اس علاقے میں واحد صحت مرکز کی راہ داریوں، کمروں اور صحن میں درجنوں آوارہ کتے دندناتے پھرتے ہیں، جس کی وجہ سے مقامی لوگ ہسپتال میں قدم رکھنے سے بھی خوفزدہ ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق ہسپتال میں مہینوں سے نہ ڈاکٹر موجود ہیں، نہ طبی عملہ، نہ آلات، نہ دوائیں، اور جو شخص کبھی اندر جانے کی کوشش کرتا ہے تو آوارہ کتوں کا جھنڈ فوری حملہ آور ہو جاتا ہے۔
احسان اللہ محسود نے اس صورتحال کو شدید تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندوں اور ذمہ دار اداروں کی بے حسی نے عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ ان کے مطابق صحت کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، مگر یہاں عوام کی زندگیوں کے ساتھ کھلا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
چیئرمین شاہ فیصل غازی کا کہنا ہے کہ مقامی آبادی نے ہسپتال کو فعال بنانے کے لیے متعدد بار احتجاج کیا، لیکن کوئی ادارہ عملی قدم اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوا، جس کے باعث برسوں سے ویران ہسپتال آج جانوروں کے رحم و کرم پر ہے اور مریض مجبورا دوسرے اضلاع کا رخ کرتے ہیں۔
اس ہسپتال کی بندش نے حالیہ دنوں میں اس وقت ایک بڑا انسانی سانحہ جنم دیا جب سات سالہ بچی رومیثہ بی بی شدید پیٹ درد کے باعث دم توڑ گئی۔ متاثرہ خاندان کے مطابق ہسپتال میں نہ ڈاکٹر موجود تھا اور نہ ہی کوئی میڈیکل اسٹاف، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بروقت علاج نہ ملنے کے باعث بچی نے راستے میں ہی دم دے دیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس نے پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔
ڈپٹی کمشنر عصمت اللہ وزیر کا کہنا ہے کہ مولے خان سرائے ہسپتال پہلے مرف آرگنائزیشن پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلایا جا رہا تھا، مگر حکومتی معاہدہ ایک سال قبل ختم ہونے کے بعد ادارہ مکمل طور پر غیر فعال ہو گیا۔ ان کے مطابق معاملہ متعدد مرتبہ سیکرٹری ہیلتھ کے ساتھ اٹھایا گیا، لیکن تاحال کوئی عملی پیشرفت نہیں ہو سکی۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ میں ہسپتال کی فائل ابھی تک زیر التوا ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے جاجی آرگنائزیشن کے ساتھ نیا معاہدہ کر لیا ہے، مگر تنظیم نے اب تک ہسپتال کا چارج سنبھالا نہیں۔
ایڈیشنل اے سی حسنین نے بھی تصدیق کی کہ رومیثہ بی بی کو بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھونا پڑا، جو کہ علاقے کے لیے انتہائی افسوسناک سانحہ ہے۔ واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے مطالبہ ہے کہ ہسپتال کو فوری طور پر فعال کیا جائے، آوارہ کتوں کا خاتمہ کیا جائے، ڈاکٹرز اور عملہ تعینات کیا جائے اور بنیادی سہولیات کو بحال کر کے علاقے میں صحت کا نظام دوبارہ مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا جائے۔
تحصیل سرویکئی چیئرمین شاہ فیصل غازی نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ہسپتال کو دوبارہ فعال کروانے کے لیے ہم نے کئی بار احتجاجی مظاہرے کئے ہیں۔
ہسپتال مکمل طور پر ویران پڑا ہے، اور اب مقامی لوگ علاج کے لیے مجبوراً دوسرے اضلاع کا رخ کرتے ہیں۔ عوام کی مشکلات پر یہ خاموشی اب مزید برداشت نہیں کی جا سکتی عوامی نمائندوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ہسپتال پچھلے کئی سالوں سے بند پڑا ہوا ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ انتظامیہ فوری طور پر حرکت میں آئے اور ہسپتال کو فعال بنائے
کتوں کے مسئلے کو حل کیا جائے اور تمام بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ یہاں کے مریضوں کو بہتر سے بہترین علاج مقامی سطح پر میسر آ سکے۔
عوام کا کہنا ہے کہ مزید غفلت اب کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی، کیونکہ صحت کی سہولتوں کا فقدان آئندہ بھی کئی قیمتی جانیں نگل سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو فی الفور حرکت میں آنا ہوگا تاکہ مستقبل میں کسی اور معصوم کی جان اس بدانتظامی کی نذر نہ ہو۔