ٹی این این اردو - TNN URDU Logo
کمراٹ کا گمنام محقق:جو زبان، تہذیب اور گمشدہ روایتوں کو دوبارہ کیسے زندہ کر رہا ہے؟ Home / بلاگز,عوام کی آواز /

کمراٹ کا گمنام محقق:جو زبان، تہذیب اور گمشدہ روایتوں کو دوبارہ کیسے زندہ کر رہا ہے؟

superadmin - 28/11/2025 114
کمراٹ کا گمنام محقق:جو زبان، تہذیب اور گمشدہ روایتوں کو دوبارہ کیسے زندہ کر رہا ہے؟

عظمیٰ اقبال

 

کمراٹ کی وادی اپنی خاموش دلکشی، برف پوش چوٹیوں، نیلگوں چشموں اور سرسبز ڈھلوانوں کے باعث ہمیشہ لوگوں کو اپنی جانب کھینچتی آئی ہے۔ اس کی خوبصورتی پہلی نظر میں تو دل موہ لیتی ہے، مگر اس حسن کے پیچھے ایک ایسی خاموشی بھی ہے،  جو صدیوں پرانی گمشدہ کہانیوں اور مٹتی ہوئی شناخت کی گواہ ہے۔


اسی وادی میں ایک نوجوان، جسے ہم  گمنام کوہستانی کہہ سکتے ہیں ،اپنی مٹی کی وہ تاریخ دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو وقت کی دھول میں دب چکی ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ حسن صرف منظرناموں میں نہیں ہوتا؛ اصل خوبصورتی کسی خطے کی تہذیب، زبان اور ان روایتوں میں چھپی ہوتی ہے جو نسلوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ کمراٹ کے پہاڑوں میں ایک ایسی تاریخ سو رہی ہے جسے نہ کبھی پورا بیان کیا گیا اور نہ محفوظ رکھنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی۔


مطالعے کی جستجو اسے اپنے والد سے ملی۔ گھر میں رکھی چند پرانی کتابوں نے اسے احساس دلایا کہ اس کے علاقے کی زبان، بولی، گیت اور رسومات آس پاس کے علاقوں سے یکسر مختلف ہیں۔ دکھ کی بات یہ تھی کہ مقامی لوگ اپنی ہی تاریخ پر گفتگو کرنے سے کتراتے تھے، جیسے ماضی کا ذکر انہیں کسی پرانی تکلیف میں مبتلا کر دے گا۔ 

 

گمنام کوہستانی کے مطابق  آج کی نسل کے بہت سے نوجوانوں کو یہ بھی علم نہیں کہ گاوری قوم کبھی زیریں دیر، باجوڑ اور سوات تک پھیلی ہوئی تھی، مگر تاریخ کے مختلف دباؤ انہیں شمال کی طرف دھکیلتے چلے گئے۔


اسے سب سے زیادہ تکلیف اس احساس نے دی کہ اس کی قوم کی شناخت نہ صرف کمزور ہو رہی ہے بلکہ رفتہ رفتہ مٹتی بھی جا رہی ہے۔ اسی فکر نے اسے حوصلہ دیا کہ وہ اپنے لوگوں کی کہانیاں جمع کرے، بزرگوں سے ملے، پرانے الفاظ نوٹ کرے اور زبانی روایات کو تحریری شکل دے۔

 

 لیکن یہ راستہ بالکل آسان نہ تھا۔ زیادہ تر معلومات یا تو غیر ملکی زبانوں کی کتابوں میں تھیں یا پھر بزرگوں کی یادداشتوں میں دھندلی صورت میں موجود تھیں۔ ہر کہانی تک پہنچنے سے پہلے لوگوں کا اعتماد جیتنا پڑتا تھا، جو کہ سب سے مشکل مرحلہ تھا۔

 

گمنام کوہستانی کہتے ہے کہ  سوشل میڈیا اس کے لیے امید کی  کرن  بن ثابت ہوا ۔ اس نے مقامی زبان، نایاب الفاظ، روایتی گیتوں اور رسوم پر مختصر ویڈیوز اور فیچر بنانا شروع کیے۔ ابتدا میں اسے مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا؛ کچھ لوگوں کو لگتا تھا کہ پرانی باتیں چھیڑنا کہیں پرانے اختلافات کو دوبارہ زندہ نہ کر دے۔ مگر پھر رفتہ رفتہ حالات بدلنے لگے۔ وہی لوگ اب اسے اپنی زبان اور تاریخ سے متعلق سوال کرنے لگے۔

 

گمنام کوہستانی اس بات پر بھی افسوس کرتا ہے کہ ریاستی سطح پر چھوٹی قومیتوں کو باضابطہ شناخت نہیں ملتی۔ مردم شماری میں گاوری، گوجر اور دیگر اقوام کو “وغیرہ” کے خانے میں ڈال دیا جاتا ہے، جو ان کی اصل پہچان کو دھندلا دیتا ہے۔ اس کے مطابق یہ صرف کاغذ کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات ثقافتی پالیسیوں اور زبانوں کے تحفظ تک جاتے ہیں۔

 

گمنام کوہستانی کا خواب ہے کہ کمراٹ میں ایک مستقل ثقافتی آرکائیو قائم ہو، ایسی جگہ جہاں زبان، لوک گیت، داستانیں، رسم و رواج اور خطے کی تاریخ محفوظ رہ سکے۔ وہ خاص طور پر مقامی خواتین کی زبانی تاریخ ریکارڈ کرنا چاہتا ہے، کیونکہ ان کے پاس وہ کہانیاں ہیں جو کہیں اور درج نہیں۔

 

گمنام کوہستانی کا ماننا ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کے ثقافتی تنوع میں ہے۔ اس کے نزدیک زبان محض بولنے کا ذریعہ نہیں؛ یہ ایک قوم کی اجتماعی یادداشت ہوتی ہے۔ اگر زبانیں ختم ہو جائیں تو ثقافتیں بھی مٹ جاتی ہیں، اور جب ثقافت مٹ جائے تو قومیں صرف نقشوں میں رہ جاتی ہیں—تاریخ میں نہیں۔

تازہ ترین