ٹی این این اردو - TNN URDU Logo
ضلع دیر پولیس کا متنازع سرکلر، قانون کا نفاذ یا انتہاپسندی کا بڑھتا ہوا رجحان؟ Home / خیبر پختونخوا,عوام کی آواز /

ضلع دیر پولیس کا متنازع سرکلر، قانون کا نفاذ یا انتہاپسندی کا بڑھتا ہوا رجحان؟

ضلع دیر پولیس کا متنازع سرکلر، قانون کا نفاذ یا انتہاپسندی کا بڑھتا ہوا رجحان؟

رفاقت اللہ رزڑوال


ضلع دیر پولیس نے شادیوں میں اونچی آواز سے موسیقی بجانے اور نامحرم کو گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کے خلاف کاروائی کا حکم دے دیا ہے، جسے انسانی حقوق کی تنظیم اور کارکنوں نے یہ حکمنامہ شخصی آزادی کے خلاف ورزی، اختیارات سے تجاوز اور انتہاپسندانہ سوچ سے متاثر قرار دیا ہے۔


خیبرپختونخوا کے ضلع دیر پائین کے ضلعی پولیس آفیسر نے 25 نومبر کو اپنے دفتر سے جاری ایک سرکلر میں متعلقہ ڈی ایس پیز، ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ او کو حکم دیا ہے کہ ان کے دائرہ اختیار میں جتنی بھی ٹرانسپورٹ گاڑیاں خواتین کے پک ان ڈراپ کے خدمات سرانجام دیتی ہیں، ان کے خلاف خصوصی مہم شروع کرکے کالے شیشے، غیراخلاقی تحاریر اور تصاویر فوری ہٹانے کی کاروائی شروع کریں۔


سرکلر میں مزید کہا گیا ہے "فرنٹ سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ کوئی بھی نامحرم سکول یا کالج کی طالبات بیٹھنے اور ضلع کے اندر خوشیوں و شادیوں کی تقریبات میں اونچی آواز سے موسیقی بجانے پر پابندی عائد ہے"۔
 

دیرپائین پولیس کے ترجمان بادشاہ حسین نے جاری کردہ سرکلر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکمنامہ محض لوئر دیر پولیس اہلکاروں کیلئے تھا مگر انہیں نہیں معلوم کہ کس نے یہ خط لیک کر دیا ہے۔


انہوں نے کہا "ڈی پی او صاحب نے ہدایات جاری کی تھی کہ اسے سوشل میڈیا پر نشر نہ کیا جائے مگر پھر بھی یہ بہت زیادہ وائرل ہوا ہے"۔
 

پاکستان میں انسانی حقوق کی کمیشن (ایچ آر سی پی) نے پولیس کی اس اقدام کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔


خیبرپختونخوا میں ایچ آر سی پی کے وائس چئیرمین اکبرعلی نے ٹی این این کو بتایا کہ " ڈی پی او لور دیر نے ماورائے قانون احکامات جاری کئے ہیں، جس سے شخصی آزادی متاثر ہوگی اور ہماری تمام ماتحت افسران سے درخواست ہوگی کہ غیرقانونی احکامات ماننے سے احتراز کریں کیونکہ اس سے فرد کی شخصی آزادی متاثر ہونے کا خطرہ ہے"۔


کمیشن کے وائس چئرمین کا کہنا ہے کہ صرف اونچی آواز سے موسیقی بجانا غیرقانونی عمل نہیں بلکہ دیگر ایسے اعمال ہیں جس کو بھی اونچی آواز سے بجانا غیرقانونی عمل ہے، ان کے خلاف بھی بلاامتیاز کاروائی کرنے کی ضرورت ہے۔


محکمہ پولیس کی جانب سے شخصی آزادی، موسیقی سننے اور آزاد گھومنے پر پابندی کے احکامات پہلی بار سامنے نہیں آئے ہیں بلکہ اس سے پہلے بھی عبدالعلی نامی ایس ایچ او نے اعلانیہ طور پر ایسے احکامات جاری کرنے کے احکامات دئے ہیں۔


تاہم سابق پولیس افسر ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس سید اختر علی شاہ سمجھتے ہیں کہ موسیقی کلچر کا حصہ ہے اور آئین پاکستان کلچر کو فروغ دینے کی اجازت دیتا ہے۔ "مگر کچھ موسیقی واحیات پر مبنی ہوتی ہے، جس سے فرنٹ سیٹ میں بیٹھے لڑکیوں کے جذبات متاثر ہوتے ہیں تو اس کی ممانعت کی گئی ہے"۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں موسیقی بجائی جاتی ہے مگر اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ اس سے دوسرے افراد متاثر نہ ہو۔


مگر جب شاہ سے پوچھا گیا کہ خیبرپختونخوا کے مختلف چوراہوں پر بلند آواز سے نفرت انگیز تقاریر پر پابندی کیلئے ایسے احکامات کیوں جاری نہیں ہوتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ قانون کا نفاذ بلا امتیاز ہونا چاہئے لیکن 'بدقسمتی' سے یہاں نہیں ہوتا، اسلئے ملک میں افراتفری ہے۔


آئین پاکسان کے شق 9 کہتا ہے کہ قانون کے مطابق کسی شخص کو اس کی جان یا آزادی سے محروم نہیں کیا جاسکتا ہے۔


انسانی حقوق کی کارکن اور سابق سینیٹر بشریٰ گوہر پولیس کے جاری کردہ سرکلر کو طالبانی سوچ سے متاثرہ حکمت عملی قرار دے رہی ہے۔ کہتی ہے کہ پولیس کا کام امن عامہ کو برقرار رکھنا ہے نہ کہ اخلاقی پولیسنگ، 'یہ عمل درحقیقت خواتین اور پشتون سوسائٹی کی زندگیوں کے خلاف ہے'۔


بشریٰ گوہر کہتی ہے 'حقیقت میں یہ طالبانی سوچ کے نفاذ کی پروجیکٹ کا ایک حصہ ہے اور صوبائی حکومت اس میں برابر کے شامل ہے۔ ہم کبھی بھی پختونخوا میں انتہاپسندانہ اقدامات کی نفاذ قبول نہیں کریں گے۔

تازہ ترین