ٹی این این اردو - TNN URDU Logo
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے پیغام ملا کہ میں آپ سے نہیں مل سکتا، سہیل آفریدی Home / خیبر پختونخوا,سیاست /

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے پیغام ملا کہ میں آپ سے نہیں مل سکتا، سہیل آفریدی

سپر ایڈمن - 28/11/2025 236
 چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے پیغام ملا کہ میں آپ سے نہیں مل سکتا، سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے طے شدہ ملاقات نہ ہو سکی، جس کے بعد وہ علیمہ خان اور علی بخاری کے ہمراہ چیمبر سے واپس روانہ ہو گئے۔

 

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ “ہماری شنوائی نہیں ہوئی، چیف جسٹس کی طرف سے پیغام ملا کہ میں آپ سے نہیں مل سکتا۔” انہوں نے اعلان کیا کہ آج نہ قومی اسمبلی اور نہ ہی سینیٹ کا اجلاس چلنے دیں گے۔

 

سہیل آفریدی نے گورکھ پور ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تاحال بانی پی ٹی آئی کی خیریت سے متعلق کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ “اگر بانی پی ٹی آئی کے لیے یہاں ساری زندگی بھی گزارنی پڑی تو گزار دیں گے۔ ہم اپنے مطالبات کے لیے دھرنوں اور احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”

 

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ اور بانی پی ٹی آئی کی صحت و سلامتی سے متعلق مطالبات کے لیے جدوجہد ہر صورت جاری رکھی جائے گی۔

 

یاد رہے کہ بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات نہ کرائے جانے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے رات بھر اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیا، جس کے بعد وہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سے ملاقات کے لیے بھی پہنچے تھے مگر ملاقات نا ہو سکی۔

 

معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

 

شفیع جان کے مطابق 27 اکتوبر کے بعد عمران خان سے کسی کی ملاقات نہیں کرائی گئی، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ملاقات کے لیے تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے اختیار کئے لیکن اس کے باوجود انہیں روکا گیا۔

 

انہوں نے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور پنجاب حکومت خود کو آئین و قانون سے بالاتر سمجھ رہے ہیں، اور صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ کے ساتھ ناروا سلوک جمہوری عمل کو مزید کمزور کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور پنجاب میں جمہوریت کے بجائے آمریت کا ماحول نظر آ رہا ہے۔

 

شفیع جان نے اعلان کیا کہ اب وہ عوامی عدالت میں جائیں گے کیونکہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کے مینڈیٹ اور عمران خان سے ملاقات کے حق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

تازہ ترین