افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بار بار کی سرحدی بندشوں کے بعد افغان حکومت نے اپنی بیرونی تجارت کا بڑا حصہ ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کی جانب منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔
افغان وزارت تجارت کے ترجمان عبدالسلام جواد اخوندزادہ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارت 1.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو اس عرصے میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی 1.1 ارب ڈالر کی تجارت سے کہیں زیادہ ہے۔
ترجمان کے مطابق ایران کے راستے تجارت میں اضافہ پاکستان پر انحصار کم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جبکہ چابہار بندرگاہ کی بہتر سہولیات نے تاجروں کو یہ اعتماد دیا ہے کہ سرحد بند ہونے کے باوجود اشیا کی ترسیل میں رکاوٹ نہیں آئے گی۔
ادھر افغان نائب وزیراعظم برائے معاشی امور، ملا عبدالغنی برادر نے اعلان کیا ہے کہ تاجروں کے پاس پاکستان کے ساتھ اپنے موجودہ معاہدے مکمل کرنے اور نئے متبادل تجارتی راستے اختیار کرنے کے لیے 3 ماہ کی مہلت ہے۔
افغانستان نے ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان کے ذریعے تجارت میں بھی اضافہ کیا ہے، جہاں نئے ٹرانزٹ معاہدوں، کم سرحدی اخراجات اور بہتر سہولیات کی بدولت یہ راستے تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔
اگرچہ کراچی بندرگاہ اب بھی تیز ترین تجارتی روٹ ہے جہاں افغان ٹرک 3 دن میں پہنچ جاتے ہیں، مگر سرحدی کشیدگی اور بندشوں نے کابل کو متبادل راستوں کی جانب زیادہ سنجیدگی سے دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تجارت کا محور ایران اور وسطی ایشیا کی طرف منتقل ہونا خطے کے معاشی توازن کو متاثر کر سکتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات پر اس کے دوررس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔