افغانستان کی عبوری طالبان حکومت نے اچانک پاکستان کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ طالبان کے نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر نے کابل میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ افغانستان اب پاکستان کے ساتھ کوئی اقتصادی لین دین نہیں کرے گا، جبکہ ملکی تاجروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متبادل تجارتی راستے اور ذرائع تلاش کریں۔
ملا برادر کے مطابق پاکستانی ادویات درآمد کرنے والے تاجروں کو تین ماہ کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے مالی حسابات مکمل کر سکیں، اس کے بعد پاکستان سے ادویات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی۔ طالبان حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان نے گزشتہ چار برسوں کے دوران تجارتی وعدے پورے نہیں کیے اور متعدد اقتصادی معاہدوں پر عملدرآمد میں کوتاہی برتی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی اقتصادی ماہرین نے طالبان حکومت کے فیصلے کو یک طرفہ اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان کی جانب سے سرحدی پابندیاں سیکیورٹی، اسمگلنگ اور انتظامی وجوہات کی بنا پر لگائی جاتی ہیں، نہ کہ کسی سیاسی تعصب یا دشمنی کے تحت۔
اسلام آباد میں تجزیہ کاروں نے طالبان حکومت کے اس اقدام کو “جذباتی، غیر دانشمندانہ اور معاشی خودکشی” قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان افغانستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور مرکزی ترانزٹ راستہ رہا ہے۔ اگر پاکستان کے ساتھ تجارت بند ہو جاتی ہے تو افغانستان کو خوراک، ادویات اور تعمیراتی سامان سمیت متعدد بنیادی اشیائے ضرورت کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی پالیسی ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون پر مبنی رہی ہے، اور پاکستان اب بھی چاہتا ہے کہ کابل حکومت باہمی اعتماد اور مفاہمت کے راستے پر گامزن رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تنہائی کا شکار افغانستان اگر اپنے قریبی ہمسائے پاکستان سے بھی تعلقات ختم کرتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف اقتصادی بلکہ انسانی سطح پر بھی تباہ کن ثابت ہوں گے۔ ان کے مطابق اس فیصلے کا اصل نقصان اسلام آباد کو نہیں بلکہ خود کابل کو ہوگا، اور اس کا خمیازہ افغان عوام کو بھگتنا پڑے گا جن کی زندگی پہلے ہی معاشی دباؤ اور بے یقینی کا شکار ہے۔