بشریٰ محسود

 

پاکستان کی تاریخ میں 1973ء ایک اہم سال تھا، جس نے نہ صرف آئینی تبدیلیاں متعارف کرائیں بلکہ شہریوں کی قانونی شناخت کا ایک نیا باب بھی کھولا۔ اسی برس پہلا قومی شناختی کارڈ جاری کیا گیا جس کی بنیاد آئین کے آرٹیکل 30(2) پر رکھی گئی، جس کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ شہریوں کا اندراج کرے اور انہیں قومی سطح پر شناختی کارڈ جاری کرے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان کے پہلے قومی شناختی کارڈ کے حامل فرد کے بارے میں کوئی مصدقہ سرکاری ریکارڈ موجود نہیں ۔

 

تاہم تاریخی حوالوں اور غیر سرکاری روایات کے مطابق یہ اعزاز ذوالفقار علی بھٹو کو دیا گیا۔جنہیں علامتی طور پر پہلا کارڈ نمبر 0000001 جاری کیا گیا۔ اس دور میں یہ کارڈ صرف کاغذی شکل میں موجود تھا اور نادرا کے مطابق ابتدائی سو کارڈز اعلیٰ سرکاری عہدیداروں اور بیوروکریٹس کو جاری کیے گئے جن میں بھٹو صاحب کا نمبر ایک شامل تھا۔ بعد میں عام شہریوں کو چھ ہندسوں پر مشتمل کارڈ جاری کئے گئے۔ اگرچہ ذوالفقار علی بھٹو کو پہلا کارڈ ہولڈر مانا جاتا ہے لیکن یہ معلومات زیادہ تر روایات پر مبنی ہیں کیونکہ اس دور کا باضابطہ ریکارڈ محفوظ نہیں رہا۔

 

پاکستان میں پہلی خاتون کو شناختی کارڈ کب اور کیسے ملا؟ اس کے بارے میں بھی کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں۔ تاہم تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ بیگم نصرت بھٹو کو یہ اعزاز حاصل ہوا اور انہیں غالباً پہلا خاتون شناختی کارڈ دیا گیا۔ وہ اس وقت وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ اور ایک اہم سیاسی شخصیت تھیں۔ اس لیے امکان ہے کہ انہیں پہلا خاتون کارڈ نمبر 0000002 یا اس کے قریب جاری کیا گیا ہو۔ 

 

اس وقت شناختی کارڈ کاغذی فارم میں تیار کئے جاتے تھے اور کوئی مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس موجود نہیں تھا۔ کچھ غیر مصدقہ ذرائع فاطمہ جناح کا نام بھی لیتے ہیں مگر یہ درست نہیں کیونکہ ان کا انتقال 1967ء میں ہو چکا تھا جبکہ شناختی کارڈ سسٹم 1973ء میں متعارف ہوا۔ دیگر آراء یہ بھی ہیں کہ ممکن ہے پہلا کارڈ کسی عام خاتون کو جاری کیا گیا ہو مگر اس کا کوئی ثبوت دستیاب نہیں۔

 

 حقیقت یہ ہے کہ نادرا یا الیکشن کمیشن کے پاس اس بارے میں کوئی باضابطہ دستاویز موجود نہیں کیونکہ اس وقت کا زیادہ تر ریکارڈ یا تو ضائع ہو گیا یا غیر منظم حالت میں رہ گیا۔ نادرا کا قیام مارچ 2000ء میں عمل میں آیا جس نے پرانے دستی نظام کو ڈیجیٹل اور بائیومیٹرک کارڈز میں بدل دیا اور بعد میں سمارٹ نیشنل آئی ڈی کارڈ کا اجرا بھی اسی کا تسلسل ہے۔

 

دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ 1973ء میں شناختی کارڈ کے اجرا کے ساتھ ہی پاکستانی مزدوروں کی ایک نئی لہر بیرون ملک روزگار کے لیے روانہ ہوئی۔ بیورو آف امیگریشن کے مطابق اس سال تیرہ ہزار چھ سو سینتالیس پاکستانی شہری قانونی طور پر بیرون ملک گئے جن میں اکثریت خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت میں جا بسی۔

 

 یہ وہ وقت تھا جب تیل کے بحران کے بعد خلیجی ریاستوں میں تعمیراتی اور توانائی کے شعبوں میں ترقی کا آغاز ہوا جس نے پاکستانی مزدوروں کی مانگ میں اچانک اضافہ کیا۔ اگرچہ اس زمانے میں غیر قانونی ہجرت بھی عام تھی لیکن اس کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں کیونکہ صرف وہی افراد درج ہوئے جن کے پاس ویزا اور لیبر کونٹریکٹ تھا۔ 

 

عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 1971ء سے 1979ء کے دوران مجموعی طور پر چھ لاکھ بیس ہزار پاکستانی بیرون ملک روزگار کے لیے گئے اور 1973ء کو اس سلسلے کی شروعات سمجھا جاتا ہے کیونکہ اسی برس سے بڑے پیمانے پر ہجرت کا عمل تیز ہوا۔

 

شناختی کارڈ کی اہمیت وقت کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔ ابتدا میں یہ صرف شہریت اور رہائش کا ثبوت تھا مگر آہستہ آہستہ یہ زندگی کے ہر پہلو میں ناگزیر ہو گیا۔ ووٹ ڈالنے، تعلیمی اداروں میں داخلے، سرکاری ملازمتوں کے حصول، ہسپتالوں اور سرکاری سبسڈی تک رسائی کے لیے یہ بنیادی دستاویز بن گئی۔ مالیاتی سرگرمیوں میں بینک اکاؤنٹ کھلوانے، قرض حاصل کرنے، جائیداد خریدنے یا گاڑی رجسٹر کروانے کے لیے یہ ضروری قرار پایا۔ عدالتوں میں پیشی، وراثتی دعوے یا پاسپورٹ کے اجرا کے وقت بھی یہی کارڈ سب سے پہلے طلب کیا جاتا ہے۔

 

 نجی شعبے میں ملازمت، موبائل سم کی رجسٹریشن، ہوائی سفر یا بڑی خریداریوں کے دوران بھی اس کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس کے ذریعے افراد کی شناخت ممکن ہوئی جس سے دھوکہ دہی اور جرائم پر قابو پانے میں مدد ملی اور سرکاری ریکارڈ کو زیادہ منظم رکھنے میں سہولت پیدا ہوئی۔ یہی نہیں بلکہ خلیجی ممالک سمیت کئی ریاستیں اسے پاکستانی شہریوں کی معتبر شناخت کے طور پر تسلیم کرتی ہیں۔

 

یوں پاکستان میں شناختی کارڈ کی کہانی ایک علامتی کاغذی دستاویز سے شروع ہوئی جو آج جدید بائیومیٹرک اور سمارٹ کارڈ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ صرف ایک کارڈ نہیں بلکہ شہری کی قانونی حیثیت، اس کے حقوق اور ذمہ داریوں کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار، مالیات، سفر اور قانونی معاملات تک رسائی اسی ایک دستاویز سے جڑی ہے۔ اس کی حفاظت اور بروقت تجدید ہر شہری کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ صرف شناخت نہیں بلکہ اپنی شہریت اور قانونی وجود کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے۔