گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت ک علاقے نواردہ خیل میں نجی سیمنٹ فیکٹری کی بس پر دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دو خواتین سمیت 9 افراد زخمی ہوگئے۔
لکی مروت میں گزشتہ چار روز سے دہشتگردی کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ پیر کی صبح بیگوخیل امن کمیٹی کے ارکان کو آئی ای ڈی کا نشانہ بنایا گیا۔
پولیس کے مطابق امن کمیٹی کے ارکان لکی سیمنٹ کی بس میں لکی مروت شہر آرہے تھے کہ ناور خیل موڑ کے قریب آئی ای ڈی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جس میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دو خواتین سمیت 9 افراد زخمی ہوگئے تھے۔
بیگوخیل امن کمیٹی کے ارکان کو بس میں نشانہ بنانے کے بعد تھانہ صدر لکی مروت کی حدود شیخ خلہ میں پولیس امن کمیٹی اور نامعلوم مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جس میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔جنہیں فوری طبی امداد کیلئے گورنمنٹ سٹی ہسپتال لکی مروت منتقل کردیا گیا تھا۔
اس سے ایک دن قبل ٹریفک پولیس کے تین اہلکاروں کو سرائے نورنگ میں نشانہ بنایا گیا۔جس میں انچارج جلال خان ، کانسٹیبل عزیزاللہ اور عبداللہ جاں بحق ہو گئے۔
گزشتہ روز ٹی ٹی پی نے لکی مروت کے علاقے پہاڑخیل پکہ کے قریب پہاڑی سلسلے سے خیروخیل پکہ کے رہائشی ایک چرواہے جلیل کو اس کے مویشیوں سمیت اغوا کر لیا تھا۔
اس کے جواب میں خیروخیل کی عوامی امن کمیٹی نے ٹی ٹی پی کے ایک کارکن کے والد کو حراست میں لے کر واضح پیغام دیا کہ اگر چرواہے کو رہا نہ کیا گیا تو نتائج کے ذمہ دار اغواکار ہوں گے۔
اس دباؤ کے نتیجے میں ٹی ٹی پی نے جلیل کو اس کے مویشیوں سمیت رہا کر دیا تھا۔ بعد ازاں مقامی جرگے کے ذریعے ٹی ٹی پی کے کارکن کے والد کو بھی رہا کر دیا گیا۔
اس سے قبل بنوں میں بھی مقامی افراد نے اسی طرزِ عمل کے تحت ٹی ٹی پی کے ایک کارکن کے والد کو حراست میں لے کر ایک پولیس اہلکار کی رہائی یقینی بنائی تھی۔
