ایزل خان


کیا خاص بچہ اللہ کی طرف سے نعمت ہے یا آزمائش؟ یہ سوال اکثر ان گھروں میں اٹھتا ہے، جہاں اللہ کسی خاص بچے کو عطا کرتا ہے، پھر ہمارے معاشرے میں  ہر ایک انسان اپنا نظریہ پیش کرتے ہے، کچھ لوگ کہتے ہے کہ یہ خاص بچے اللہ کی طرف سے نعمت ہے،کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ آزمائش ہے۔ میرے خیال میں شاید حقیقت ان دونوں نظریوں کے بیچ ہے۔وہ کیسے؟ دیکھیں یہ خاص بچے ہم نارمل انسانوں کے لئے  محبت کا ایک ایسا تحفہ ہے، جو ہمیں صبر،شکر،اور بے لوث محبت کا سبق دیتا ہے۔

 

میں جب بھی  کسی کے گھر میں یا باہر کہیں کوئی خاص بچے دیکھتی ہو تو میرے ذہن میں بے شمار سوالات آتے ہے،مجھ ہنسی نہیں آتی بلکہ پیار آتا ہے کہ کچھ ٹائم بات کرو،کچھ گفٹس دو،یا ایسے لوگوں کی کچھ لمحوں کی خوشی کا سبب بن جاؤ،مجھ نہیں پتہ میں کیوں ایسی ہوں،کبھی کبھار خیال آتا ہے شاید اللہ کی طرف یہ خوش نصیبی ملی ہے تو کبھی کبھار سوچتی ہوں کہ شاید تربیت کی وجہ ہے،کیوں کہ میرے سب سے بڑے بھائی جو اب اس دنیا میں نہیں ہے،اللہ ان کی مغفرت فرمائے،وہ سپیشل بچہ تھا،وہ چل نہیں سکتا تھا،بات نہیں کر سکتا تھا،سالوں سال گزر گئیں لیکن اب بھی جب امی اس کی باتیں اور یادیں تازہ کرتی ہے تو روتی ہے۔

 

اگر ہماری نظر سے دیکھیں شاید ہر بندہ یہ کہے کہ وہ ایک آزمائش تھا، اللہ کا شکر کرو ابھی تک اللہ آپ کا امتحان نہیں لے رہا،لیکن نہیں وہ اب بھی اس کی یاد میں روتی ہے،جب بھی جہاں بھی اس طرح کے بچے دیکھتی ہے۔

 

یہ خاص بچے واقعی بہت پیارے اور معصوم ہوتی ہے،وقت گزر گیا، شادی کے بعد یہی تجربہ ایک اور رنگ میں دوبارہ سامنے آیا جب میں نے سسرال میں بھی ایک ایسا خاص بچہ دیکھا۔ میرے شوہر کے کزن ہے۔ اس کی عمر تقریباً 12 سال ہے، جب میں نے پہلی بار اسے دیکھا تو دل میں وہی پرانی یادیں دوبارہ تازہ ہوگئی۔

 

 فیمیلی فنگشنز میں،شادیوں میں کچھ لوگ اس بچے کو ترس کی نگاہ سے دیکھتے ہے،کچھ اسے بوجھ سمجھتے ہے،لیکن جب میں نے اسے قریب سے جانا تو مجھے وہی روشنی نظر آئی، جو میری امی میری بھائی کے بارے میں کہتے تھی،اس کی معصوم آنکھوں میں کوئی شکایت کوئی گلہ نہیں،اس کے روئے میں کوئی تلخی نہیں،جو ہیں وہ صرف پیار اور بھروسہ ہے۔

 

اس بچے کی امی کہتی ہے کہ ہمارے دس سال بچے نہیں تھے،جب دس سال بعد یہ سپیشل بچہ ہمارے گھر میں پیدا ہوا تو سب گھر والے حیران و پریشان تھے کیوں کہ یہ نارمل بچہ نہیں تھا،جب دوسرے بچے دوڑتے اور کھیلتے تھے۔  یہ صرف مسکرا کر دیکھتا تھا،لوگ کہتے تھے کہ  یہ آپ کے لئے بوجھ ہے، میں حیران ہو جاتی تھی کہ لوگ عجیب نظروں سے کیوں دیکھتے ہے۔

 

 کچھ افسوس کرتے ہے تو کچھ طنزیہ باتیں،لیکن میرے شوہر مجھ حوصلہ دیتے ہے اور  کہتے ہے یہ بچہ ہمارے لئے صبر کا خزانہ ہے اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی ایک خاص امانت ہے۔  جب بھی میں ان کے  گھر جاتی ہوں،  میں اس بچے کے ساتھ مزاق کرتی ہوں، ہنساتی ہوں۔ وہ اتنا خوش ہو جاتا ہے ۔ جب واپس آتی ہو تو اشاروں سے اپنے والدین کو کہتا ہے کہ اسے کہیں کہ نا جائے،جب ہمارے گھر آتے ہیں، تو ایک نہ ایک بہانے سے اس کے ابو اسے کہتے ہے، آئیں چلتے ہے،ورنہ نہیں جاتا بار بار خدا حافظ کرتا ہے، شرارتیں کرتا ہے۔

 

 اس کے ابو کہتے ہے جب میں اسے بازار لے کر جاتا ہوں ،  تو آپ کے گھر کی طرف اشارے کرتا ہے کہ یہاں جاؤ تو ہنستا ہے۔ یہ سب آپ کی وجہ سے ہے،میں اس لئے پیار سے ملتی ہوں کیونکہ یہ خاص بچے کبھی کسی سے ناراض نہیں ہوتے،کبھی کسی چیز کی ضد نہیں کرتے ان کا  پیار خالص ہوتا ہے ۔ان کی مسکراہٹ میں بناوٹ نہیں ہوتی۔

 

 دوسری بات  یہ کہ اس کے والدین نے لوگوں کی طنز اور ترس کی وجہ ہر جگہ جانا بند کردیا،اس کے والد باہر ملک میں کام کرتے تھے۔ اپنے بچے کے لئے وہ کام چھوڑدیا،تو میں یہ سب حالات بہت قریب سے محسوس کرتی ہوں، سوچتی ہوں اگر میری کچھ لمحوں کے وجہ سے کسی زندگی میں خوشی آسکتی ہے تو کیوں نا کرو،اس لئے میں اکثر کہتی ہو کہ محبت کے لئے کسی جواز کی ضرورت نہیں ہے۔

 

 تب میں نے جانا کہ یہ بچے ہمیں زندگی کا اصل مطلب سکھاتے ہے جیسے کہ خدمت،محبت،اور برداشت ،لیکن یہاں کئی سوالات  پیدا ہوتے ہے،کیا واقعی یہ بچے والدین کے ایمان کا امتحان ہے؟ اس کے جواب ہے ہاں کیونکہ ان کی دیکھ بال کرنا صبر  طلب کام ہے،دن رات قربانی کرنے پڑتے  ہے،اپنا سب کچھ چھوڑ کر ان کی خوشی میں اپنی خوشیاں تلاش کرنی پڑتی ہے۔

 

کیا یہ اللہ کی محبت کا تحفہ ہے؟ بلکل،کیونکہ یہ بچے ہمیں سکھاتے ہے کہ محبت شرطوں کے بغیر بھی ہوسکتی ہے،بغیر کسی لالچ کے  بھی پیار شفقت رحم ممکن ہے۔کیا یہ ہماری دعاؤں کا جواب ہے یا ہمارے گناہوں کا کفارہ؟ میرے خیال میں شاید دونوں کیونکہ بعض اوقات اللہ ایسے خاص بچوں کے ذریعے ہمارے دل نرم کرتا ہے،ہمارے غرور کو توڑ دیتا ہے،اور ہمیں عاجزی سکھاتا ہے۔

 

کیا خاص بچے زندگی مشکل بناتے ہے؟ بظاہر ہاں لیکن اندر سے انسان کو مضبوط اور روح کو پاک بھی کرتے ہیں۔لیکن ہمارے معاشرے میں اکثر ایسے بچوں کو بوجھ سمجھتے ہے،لوگ ترس کھاتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں ہیں ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص کسی خاص بچے یا معذور کی خدمت محبت اور صبر سے کرے اللہ اس کے لیے جنت واجب کردیتا ہے۔ 

 

 تو میرا سوال ان سب لوگوں سے ہے کہ خاص بچے کو بوجھ سمجھتے ہے،کہ پھر یہ بچے بوجھ کیسے ہوسکتے ہے؟یہ تو ہمارے لئے جنت کا راستہ ہے میں نے اپنے بھائی اور سسرال کے اس بچے سے یہ سیکھا ہے کہ اللہ جسے یہ تحفہ دیتا ہے۔ وہ دراصل اسے اپنی قربت کا موقع دے رہا ہوتا ہے؟یہ بچے ہمیں سکھاتے ہیں کہ دنیا کا اصل مقصد دولت اور شہرت میں نہیں بلکہ دل کا سکون دوسروں کی خدمت میں ہے۔

 

 میری سب سے یہ التجا ہے کہ ایسے بچوں سے پیار کریں یہ نہ آزمائش ہے، نہ بوجھ بلکہ یہ اللہ کی طرف وہ انمول نعمت ہیں، جو ہمیں صبر،شکر،برداشت اور جنت کا راستہ دکھاتے ہیں۔ جن گھروں میں خاص بچے موجود ہے، جو لوگ اس کی خدمت کرتے ہے ،پیار کرتے ہے، میری طرف سے آپ سب کے لئے بہت سارا پیار اور دعائیں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ بچے ہمیں زمین سے جنت تک کا راستہ دکھانے والے چراغ ہیں، بس ہمیں ان کی روشنی پہچاننے  کی ضرورت ہے۔