شمائلہ  آفریدی 

 

انسانی حقوق کے علمبردار، جو خود کو سب سے بڑے محافظ کہتے ہیں، اکثر اپنی حقیقت چھپائے رکھتے ہیں۔ حالیہ افغان مہاجرین کے انخلا نے جہاں انسانی بحران کو جنم دیا ہے، وہیں دنیا بھر میں اس مسئلے پر بات چیت جاری ہے۔ ہماری جرنلسٹ ٹیم کو بھی اس موضوع پر ایک ڈیجیٹل رپورٹ تیار کرنی تھی، جس میں ہر جرنلسٹ نے تعمیری رپورٹ بنانی تھی۔

 

 افغان مہاجرین کے انخلا سے پیدا ہونے والے مسائل اور ان کے حل کے لیے انسانی حقوق کے نمائندوں کی رائے لینا ضروری تھا۔اس رپورٹ میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کے انٹرویوز شامل کرنا بھی لازمی تھا۔ اس سلسلے میں سب سے اہم کردار انسانی حقوق کے نمائندوں کا تھا، جس سے بات چیت کرنا نہایت ضروری تھا۔

 

لیکن جب میں نے ان نمائندوں سے رابطہ کیا تو حیران کن طور پر ہر ایک نے اس موضوع پر وقت دینے کا کہا۔ چند ایک نے کہا کہ دو دن بعد وقت دیں گے، میں نے کئی دن انتظار کیا لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ کسی نے وقت کی کمی کا بہانہ بنایا، کچھ نے تکبر کا مظاہرہ کیا، اور کئی نے تو مکمل خاموشی اختیار کر لی۔

 

 یہ صورتحال میرے لیے نہایت مایوس کن تھی کیونکہ یہ مسئلہ براہِ راست انسانی حقوق سے جڑا ہوا تھا، اور انکار یا خاموشی بہت عجیب لگی۔ شاید وہ سوشل میڈیا پر دعوے تو کرتے ہیں مگر جب حقیقت میں ان سے رابطہ کیا جائے تو سب کچھ مختلف نظر آتا ہے۔

 

 کئی دنوں تک میری رپورٹ ادھوری رہی اور میں سوچتی رہی کہ انسانیت کے علمبرداروں کا رویہ اس طرح بھی ہوسکتا ہے۔ آخرکار میری ایک قریبی دوست نے مدد کی اور رپورٹ مکمل ہو سکی۔ 

 

لیکن اس واقعے نے میرے ذہن میں کئی سوالات چھوڑ دیے۔ کیا واقعی یہ وہی لوگ ہیں جو انسانی حقوق کے علمبردار ہیں؟ کئی سینئر جرنلسٹوں نے بھی بتایا کہ انسانی حقوق کے نمائندوں سے بات کرنا اکثر ناممکن ہوتا ہے کیونکہ وہ وقت کی کمی یا دیگر بہانے بنا کر رابطے سے گریز کرتے ہیں۔

 

یہ تلخ حقیقت میرے سامنے آئی کہ سوشل میڈیا پر یہ لوگ انسانی حقوق کے دفاع پر بڑی باتیں کرتے ہیں، لیکن جب حقیقی مسائل پر گفتگو کی باری آتی ہے تو غائب ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ واقعی انسانی حقوق کے ذمہ دار اور محافظ ہیں تو اپنے بلند و بانگ دعوؤں کو عملی عمل سے ثابت کریں۔ ورنہ یہ سب محض ایک خوبصورت نقاب ہے جو اندر چھپی حقیقت کو چھپاتا ہے۔

 

مزید اہم بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کے علمبرداروں کو اپنی سوچ اور عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔ وہ صرف تقریریں تو کرتے ہیں لیکن کیا وہ اپنے رویوں کو بدلیں گے؟ انسانی حقوق کا اصل مطلب صرف نعروں اور دعوؤں میں نہیں بلکہ اس پر عمل کرنے اور دوسروں کی بات سمجھنے میں ہے۔ خود احتسابی اور دیانت داری کو اپنا کر ہی ہم وہ معاشرہ بنا سکتے ہیں جہاں ہر شخص کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو۔

 

میرے لیے یہ تجربہ ایک تلخ حقیقت تھی    میں چاہتی ہوں کہ سب جانیں تاکہ ہم حقیقت پسند ہو کر کام کریں۔ میرے مطابق اپنی خامیوں پر نظر ڈالنا ہی وہ پہلا قدم ہے جس سے انسانی حقوق کی اصل خدمت شروع ہوتی ہے۔ جب ہم خود سے ایماندار ہوں گے تو دوسروں کے حقوق کا دفاع بھی بہتر طریقے سے کر سکیں گے۔