ماریہ تبسّم
چکہ گلی پشاور کے اندرونِ شہر (والڈ سٹی) کی ایک تنگ اور چھوٹی گلی ہے، جو علاقہ کریم پورہ سے نکل کر ہشتنگری کے علاقے محلہّ مہر مٹھّّْوتک جاتی ہے۔ اگر آپ گھنٹہ گھر یا چوک یادگار کے قریب ہوں، تو چند قدم آگے جانے پر اس گلی کا آغاز، بائیں ہاتھ کی جانب ہوتا ہے۔جبکہ کریم پورہ بازار سے آتے ہوئے یہ گلی دائیں جانب واقع ہے۔
قبلِ 1947 پشاور میں نانک پورہ، رام پورہ اور چکہ گلی جیسے محلّے ہندو او رسکھ برادری کے آباد تھے، اور یہ تجارتی، حکومتی اور ادبی مرکز رہا کرتا تھا ۔پشاور شہر خطّے کے قدیم ترین آباد شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ لفظ پشاور کےمعنی کی مختلف توجیہات بیان کی جاتی ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ "پشاور "پیشہ ور سے نکلا ہے ،جس کا مطلب ہے کاریگر، دستکار یا ہنر مند۔
زمانہ قدیم میں دستکار دوسرے ممالک سے پشاور اپنی تخلیقات مقامی باشندوں کومتعارف کرانے آتے تھے۔ جیسے جیسے فنون نے ترقی کی، کئی بازاروں کے نام ان سے متعلقہ پیشوں سے منسلک ہو گئے، جیسے بازار مِس گراں، ریتی بازار، بٹیر بازاں، چِک سازاں اور قصّہ خوانی بازار۔
کہا جاتا ہے کہ کتاب انسان کی بہترین دوست ہے۔ چکہ گلی ایک نئی اور پرانی کتابوں کا بازارہونے کے ساتھ ساتھ اپنے قدیم طرز تعمیر کے لئے بھی شہرت رکھتی ہے، کیونکہ یہاں کتابوں کی دوکانیں قدیم طرز تعمیرکے گھروں کی نچلی منزلوں میں آباد ہیں۔
عبدالجمیل، جن کی عمر51 سال ہے،پچھلے 26 سال سے یہاں کتابوں کا کاروبار چلا رہے ہیں، جوان کے بڑے بھائی نے شروع کیا تھا۔ ان کے مطابق، چکہ گلی میں کتابوں کے کاروبار کا آغاز بختاور شاہ نے تقریباً آج سے 50سال پہلے کیا تھا۔
ٹی ٹی این سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ کونسی کتاب ہے جو اس گلی میں نہیں ملتی۔ ابتدائی درسی کتابوں سے لے کر سی ایس ایس کی نصابی اور ِکی بکس میڈیکل کی کتابیں ، بلکہ بچوں کی کہانیاں اور انگریزی اور اردو ناول تک یہاں دستیاب ہیں۔
ان کے مطابق ویسے تو چکہ گلی پرانی کتابوں کے لئے شہرت رکھتی ہے، لیکن چونکہ بعض اوقات گاہک کی ڈیمانڈ نئے ایڈیشن کی ہوتی ہے، اس لئے وہ نئی کتابیں بھی بیچتے ہیں۔ پرانی کتابیں اس بازار میں دو زرائع سے پہنچتی ہیں: ردّی میں بیچی گئی کتابیں اور لاہور شہر، خاص طور پر اردو بازار لاہور۔
اس بازار میں ، عبدالجمیل کے مطابق، پرانی کتابیں 30 سے لےکر 70 فیصد تک رعایت پر مل سکتی ہیں ، رعایتی فیصد کا انحصار کتاب کتنی نایاب ہے، اس بات پر ہے۔ لیکن یہاں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں نئی کتابیں بھی 50 سے 60 فیصد رعایت پر میسر ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ سکول اور ایف اے، ایف ایس سی کے طلباء تو کتابوں پر انحصار کرتے ہیں، پر بی ایس کے طلباء کو نوٹس فراہم کر دئیےجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ای بکس اور سکرین رِ یڈنگ کے رجحان نے بھی کتاب پڑہنے کی رغبت کو کم کر دیا ہے۔ "آج سے دس، پندرہ سال پہلے ہمارا کاروبار عروج پر تھا۔ ہم اردو بازار سے لاکھوں روپے مالیت کی کتابیں خرید کر لاتے تھے۔ پر آج صورتحال کچھ اور ہے۔"
انہوں نے مزید بتایا کہ ایک ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات کی خرابی ان کے کاروبار میں منفی رجحان کی ایک اور وجہ ثابت ہوئی ہے، درسی کتابوں کے کچھ بہترین ادیب اس ملک میں ہیں، جن کی آسان انگریزی کی وجہ سے طالبعلم ان کی کتابوں کو ترجیح دیتے تھے۔ سفارتی تعلقات کی خرابی کی وجہ سے اب ان کتابوں تک رسائی ممکن نہیں رہی۔
"ایک وقت میں ڈائجسٹ پڑہنے کا بہت رجحان تھا، جو اب ختم ہو چکا ہے۔ اب لوگ ناول بھی زیادہ تر آن لائن ہی پڑھ لیتے ہیں۔ کسی زمانے میں قدرت اللہ شہاب کی شہاب نامہ کی بہت ڈیمانڈ تھی۔اب طالبعلم صرف انگریزی ناول پڑہتے ہیں، وہ بھی انگریزی زبان پر عبور حاصل کرنے کےلیے،"ایک دوسرے دوکاندار اسماعیل خان نے بتایا۔
بی ایس کے طالبعلم محمد رومان نے بتایا کے وہ فارمیسی پڑھ رہے ہیں۔ ان کے نصاب کی تمام کتابیں یہاں اور بازاروں سے آدھی قیمت پر دستیاب ہیں ، جس کی وجہ سے وہ یہاں سے خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔
لیکن اسماعیل خان کے مطابق، اس رعایت کے باوجود کاروبار کے حالات اب ٹھیک نہیں اور وہ نہیں دیکھتے کہ ان کی آگے نسل اس کاروبار کو جاری رکھے گی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ کتاب پڑھنے کے رجحان میں کمی ہے۔آج سے آٹھ دس سال بعد کمپیوٹرائزیشن کی وجہ سے شاید یہ کاروبار مکمل بند ہو جائے۔
