خیبر کے مختلف علاقوں میں حالیہ شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں نے لنڈی کوتل، جمرود اور طورخم بارڈر سمیت مختلف علاقوں میں نظام زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ برساتی ریلوں سے تعلیمی ادارے، عبادت گاہیں اور مقامی آبادی شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
لنڈی کوتل کے علاقے زین تاڑہ میں گورنمنٹ ہائی اسکول کی عمارت بری طرح متاثر ہوئی ہے، جسے طلبہ کے لیے غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔جبکہ مختلف جگہوں پر بجلی کے کھمبوں کو بھی نقصان ہوا ہے، جس کی وجہ سے بجلی کا نظام بھی متاثر ہو گیا ہے۔
چیئرمین دی ہنڈرڈ آرگنائزیشن خیبر، معروف خان آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سکول کے ارد گرد فوری حفاظتی پشتہ تعمیر کیا جائے تاکہ تعلیمی سلسلہ متاثر نہ ہو۔
طورخم بارڈر پر اڈے کے قریب واقع مسجد میں بھی پانی داخل ہو گیا ہے جبکہ علی مسجد غاراوبہ سے گزرنے والا ریلہ مقامی آبادی کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ دوسری جانب جمرود میں بچے برساتی نالے کے قریب جا پہنچے، جس پر شہریوں نے ویڈیوز کے ذریعے ریسکیو اداروں سے فوری مدد کی اپیل کی۔
مقامی عوام اور عمائدین نے مطالبہ کیا ہے کہ پاک افغان شاہراہ پر پل تعمیر کیا جائے تاکہ ہر بار سیلابی ریلوں کے باعث روڈ گھنٹوں بند نہ ہو اور طلبہ، مریضوں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ہی عوام نے لنڈی کوتل میں بارانی ڈیم کی تعمیر کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ بارشوں کے دوران ضائع ہونے والے پانی کو محفوظ کیا جا سکے۔
مقامی باشندوں کے مطابق بارانی ڈیم کی تعمیر سے زیر زمین پانی کی سطح بلند ہوگی، خشک سالی کے اثرات کم ہوں گے اور قیمتی بارش کا پانی ضائع ہونے کے بجائے مستقبل میں قیمتی سرمایہ ثابت ہوگا۔
دوسری جانب خیبر کے علاقے کمرخیل میں شدید بارش اور سیلاب کے باعث 44 لاکھ روپے کی لاگت سے زیرِ تعمیر خیال مت شاہ کلے کرکٹ اکیڈمی کی باؤنڈری وال زمین بوس ہوگئی۔ اکیڈمی کی ناقص تعمیر اور سیوریج سسٹم کی عدم موجودگی کو اس نقصان کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اکیڈمی کے مالک مکان خیال مت شاہ آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ یہ پروجیکٹ ان کی جانب سے مفت فراہم کردہ زمین پر قائم کیا گیا تھا، جس پر 2021 میں کام شروع ہوا مگر تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق سرکاری ٹھیکیدار نے منصوبے پر کام ادھورا چھوڑ دیا، جس کے باعث باؤنڈری وال سیلاب کی نذر ہو گئی۔
خیال مت شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ انہوں نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور محکمہ کھیل ضلع خیبر کو ناقص تعمیر اور غلط منصوبہ بندی کے خلاف متعدد تحریری شکایات درج کرائیں، لیکن تاحال کوئی خاص کارروائی یا رسپانس سامنے نہیں آیا۔