رعناز
ہمارے معاشرے میں کچھ چیزیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں اور ان میں سب سے اہم ہے دوسروں کی زندگی پر تبصرہ کرنے کی عادت۔ خاص طور پر اگر بات لڑکی کی ہو، تو یہ عادت اور بھی مضبوط ہو جاتی ہے۔ چاہے وہ لڑکی کسی دن ذرا دیر سے اپنے محلے میں گھر واپس آئے یا کسی وجہ سے دفتر دیر سے پہنچے، تبصروں، سوالوں اور چبھتے جملوں کی بارش لازمی ہوتی ہے۔
آج کے دور میں ہر گلی محلے میں ایسے کردار موجود ہیں جو بغیر کسی تنخواہ کے "سی سی ٹی وی کیمرہ" کا کردار نبھاتے ہیں۔ انہیں ہر آنے جانے والے کا وقت، کپڑے، اور چہرے کے تاثرات تک یاد رہتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی لڑکی شام یا رات کو ذرا دیر سے گھر لوٹتی ہے، یہ لوگ فوراً تجزیہ شروع کر دیتے ہیں
“اتنی دیر سے کہاں سے آ رہی ہے؟”
“ہم نے تو دیکھا یہ پچھلی گلی سے آئی ہے…
پتہ نہیں کس کے ساتھ تھی!”
حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی زندگی میں اتنے دلچسپی نہیں لیتے جتنی دوسروں کی زندگی میں لیتے ہیں۔ ان کے لیے کسی لڑکی کا دیر سے آنا ایک عام سی بات نہیں بلکہ ایک اسکینڈل کا آغاز ہوتا ہے۔
اسی طرح اگر کسی دن وہی لڑکی دفتر میں دیر سے پہنچے تو وہاں کے حالات بھی کچھ مختلف نہیں۔ وہاں بھی کچھ چہرے ایسے ملتے ہیں جن کی نظریں اور مسکراہٹ ایک الگ ہی پیغام دیتی ہیں۔ کوئی سیدھے الفاظ میں پوچھتا ہے
“آج تو بڑی لیٹ آئی ہیں، کہیں اور سے آ رہی ہیں کیا؟”
اور کوئی اشاروں کنایوں میں بات کرتا ہے، جیسے وہ کوئی راز جانتا ہو۔
یہ رویہ صرف تجسس نہیں بلکہ ایک طرح کا غیر محسوس دباؤ ہے، جس سے لڑکی کو لگتا ہے کہ وہ مسلسل جج ہو رہی ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں دیر سے آنے کا مطلب برا سمجھ لیا جاتا ہے۔ وقت پر آنا یقیناً ایک اچھی عادت ہے، مگر کبھی کبھار دیر ہو جانا کوئی جرم نہیں۔ زندگی میں ہزاروں وجوہات ہو سکتی ہیں ٹریفک کا مسئلہ، صحت کی خرابی، افس میں ذیادہ کام ،کسی دوست یا رشتہ دار سے ملاقات، یا بس دن کا تھوڑا سا تھک جانا۔لیکن ہمارے معاشرے میں یہ وجوہات سنی ہی نہیں جاتیں۔ یہاں وجہ سے زیادہ کہانی بنانا پسند کیا جاتا ہے۔ اور اس کہانی میں مصالحہ جتنا زیادہ ہو، سننے والوں کو اتنا ہی مزہ آتا ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ محلے والوں کو لڑکی کے آنے جانے کے اوقات کی فکر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ حالانکہ ماں باپ جانتے ہیں کہ بیٹی کہاں گئی تھی، کس کے ساتھ تھی، اور کیوں دیر ہوئی۔ لیکن محلے والوں کی فکر ایک مختلف نوعیت کی ہوتی ہے یہ فکر دراصل چسکے کی ہوتی ہے، تاکہ شام کی چائے کے ساتھ کوئی خبر موجود ہو اور کچھ بھی نہیں ۔
دفتر میں ساتھیوں کا رویہ بھی اکثر اسی ذہنیت کا عکاس ہوتا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ دیر سے آنا کام سے لاپرواہی کی نشانی ہے یا کردار میں کوئی گڑ بڑ۔لیکن اکثر یہ رویہ ذاتی زندگی میں دخل اندازی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اشاروں، مسکراہٹوں اور غیر ضروری سوالات سے ماحول زہر آلود ہو جاتا ہے۔ایسے تبصرے اور شک وشبہات لڑکی کی ذہنی صحت پر برا اثر ڈالتے ہیں۔ مسلسل ججمنٹ کا سامنا کرنا انسان میں عدم اعتماد ی پیدا کرتا ہے۔ وہ ہر وقت یہ سوچنے لگتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے، اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنی آزادی اور سکون کھو بیٹھتی ہے۔
اس کا حل کیا ہوگا سب سے پہلے ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر شخص کی زندگی اس کا اپنا معاملہ ہے۔وجہ پوچھنے کے بجائے بھروسہ کرنا چاہئے اگر کسی سے دیر ہو گئی ہے تو اس پر بھروسہ کریں کہ اس کی کوئی معقول وجہ ہوگی۔ ہمیں اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے اپنے بارے میں سننا سخت لگتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اپنی زندگی پر توجہ دینا دوسروں کی زندگی میں دخل دینے سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ہمیں مثبت رویہ اپنانا چاہیے اگر ہمیں کسی کی فکر ہے تو اسے احساس دلانا چاہیے کہ ہم اس کی مدد کے لیے ہیں، نہ کہ جج کرنے کے لیے۔
دیر سے آنا یا جانا زندگی کا ایک عام حصہ ہے۔ مگر جب معاشرہ اسے کردار کا پیمانہ بنا لے تو یہ ایک خطرناک رویہ بن جاتا ہے۔ لڑکی ہو یا لڑکا، کسی کو بھی اس بات کا حق نہیں کہ وہ دوسروں کے وقت پر اپنی سوچ مسلط کرے۔شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی گھڑیاں صرف وقت دیکھنے کے لیے استعمال کریں، اور دوسروں کے کردار ناپنے کے لیے نہیں۔