رفاقت اللہ رزڑوال
چارسدہ میں 23 سالہ نوجوان وکیل میاں محمد عاصم کے قتل کیس کو پانچ روز گزرنے کے باوجود نامزد پولیس اہلکار کی گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔
یہ واقعہ 22 اگست کو اس وقت پیش آیا جب محمد عاصم کے حجرے میں ایک مصالحتی جرگہ جاری تھا اور پولیس نے وہاں کارروائی کی۔ عینی شاہدین کے مطابق جرگے کے دوران ایک شخص کے پاس بندوق موجود تھی جسے پولیس اہلکار چھیننے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران فائرنگ کی آواز آئی اور محمد عاصم موقع پر جاں بحق ہوگئے۔
محمد عاصم، جنہوں نے حال ہی میں وکالت کے شعبے کو وابستہ ہوئے تھے، کے ورثاء کا مؤقف ہے کہ ہاتھاپائی کے دوران تھانہ سٹی کے ایس ایچ او بہرہ مند شاہ نے اپنی پستول سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں نوجوان جان سے گیا۔ اسی الزام پر تھانہ سٹی میں دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج اور ایس ایچ او کو معطل کیا گیا۔ تاہم اہلِ خانہ کا شکوہ ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے باوجود پانچ دن بعد بھی ایس ایچ او کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب، ڈی پی او چارسدہ وقاص نے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ تصادم کے دوران دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے جبکہ مقتول کے خاندان کے 11 افراد اور بندوق بردار شخص کے خلاف دفعہ 324 اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ڈی پی او کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ نامزد ایس ایچ او کی گرفتاری میں تاخیر کیوں ہے۔ اس حوالے سے جب پی آر او پولیس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے جواب نہیں دیا۔
مرحوم کے اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ پولیس کے دو اہلکاروں کے زخمی ہونے کا بیان درست نہیں اور یہ اقدام "کراس کیس" بنانے کے لیے خود تیار کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے گھر کے قریب ایک عمارت پر نصب سی سی ٹی وی فوٹیج کی ڈی وی آر بھی اپنے ساتھ لے لی ہے، اور مطالبہ کیا ہے کہ اگر دعویٰ درست ہے تو فوٹیج عوام کے سامنے پیش کی جائے۔
واقعے پر نہ صرف سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے بلکہ سیاسی جماعتوں، وکلاء برادری اور سول سوسائٹی نے بھی پولیس کے مبینہ غیر پیشہ ورانہ رویے پر تنقید کی ہے۔
سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی مقتول کے اہلِ خانہ سے ملاقات کے دوران واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ عوام انصاف کے لیے پولیس کی طرف دیکھتے ہیں لیکن اگر پولیس ہی اس طرح کے اقدامات کرے تو عوام کا اعتماد بری طرح مجروح ہوتا ہے۔ انہوں نے اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔
اس کے علاوہ آج صوبائی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے ارکان صوبائی اسمبلی کی جانب سے توجہ دلاؤ نوٹس بھی پیش کیا گیا، جس میں سپیکر صوبائی اسمبلی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کو جلد از قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔
رپورٹس کے مطابق ڈی پی او وقاص خان کے چارج سنبھالنے کے بعد گزشتہ دو ماہ کے دوران پولیس کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کے چار واقعات جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔