نبی جان اورکزئی
محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے صوبے بھر میں متعدد ہسپتالوں کوآ ؤٹ سورس یعنی پرائیویٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، آؤٹ سورس کئے جانے والے ہسپتالوں میں کیٹگیری بی، ڈی اور کیٹیگری ڈی ہسپتال شامل ہیں۔
محکمہ صحت خیبر پختونخوا (ہیلتھ فاؤنڈیشن) سے موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق صوبے میں ستر سے زیادہ سرکاری ہسپتالوں کو ناقص کارکردگی کی بنیادپر آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ محکمہ صحت نے فیصلہ کیا ہے ان ہسپتالوں کی انتظامی امور کو پرائیویٹ کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے 72 ہسپتالوں کو بہتر طریقے سے چلانے کیلئے پرائیوٹ فرمز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں کیٹیگری بی ہسپتالوں میں لکی مروت کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، شمالی وزیرستان کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میران شاہ، اسی طرح کیٹیگری بی ہسپتالوں میں ڈسٹرکٹ ہسپتال ہنگو، ملاکنڈ درگئی ہسپتال کو پرائیوٹ فرمز کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صوبائی مشیر صحت احتشام خان نے بتایاکہ تمام تر مشاورت کے بعد خیبرپختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن نے صوبے کے 72 ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ عوامی مفاد اور صحت سہولیات کی بہتری کے پیش نظر کیا گیاہے۔
وہ کہتے ہے کہ یہ ہسپتال زیادہ تر قبائلی اضلاع جیساکہ جنوبی اور شمالی خیبرپختونخوا کے دور دراز علاقوں میں واقع ہیں، جہاں برسوں سے طبی سہولیات کی فراہمی میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ ان ہسپتالوں میں عملے کی کمی، مریضوں کے داخلے کی کم شرح، سٹاف کی غیر حاضری، اور انتظامی بدحالی جیسے مسائل عام ہیں، جس کے باعث عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی میں دشواری کا سامنا ہے۔
دستاویزات کے مطابق کیٹیگری سی ہسپتالوں میں ضلع مہمند کے ڈسٹرکٹ ہسپتال غلنئ، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ٹانک شامل ہیں۔دستاویزات کے مطابق کیٹیگری سی ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے والے ہسپتالوں میں ضلع کرم کا تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال صدہ، ضلع شانگلہ کا پورن ہسپتال، ضلع کرک میں بانڈہ داؤد شاہ ہسپتال اور تخت نصرتی ہسپتال، لکی مروت ہسپتال اور سرائے نورنگ، اسی طرح لوئر دیر میں چکدرہ اور سمر باغ ہسپتال، سوات میں مدین ہسپتال، مردان میں تخت بھائی ہسپتال شامل ہیں۔
سرکاری ہسپتالوں کو آؤٹ سورس سے متعلق سینئر صحافی محمد فہیم کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے اس سے پہلے بھی سرکاری ہسپتالوں کو پرائیوٹ فرم کو دینے کا تجربہ کیا ہے جوکہ کامیاب رہا ہے۔ محمد فہیم نے بتایاکہ ہیلتھ فاؤنڈیشن نے 72 مزید ہسپتالوں کو چلانے کیلئے پرائیوٹ فرمز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ سرکاری ملازمین کی مسلسل بڑھتے ہوئے بوجھ کو پاکستان تحریک انصاف نے کم کرنے اس اقدام کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت ان ہسپتالوں کو ریگولیٹ کریگی جبکہ دیے جانے والے کوئی فرم اس ادارے کو مخصوص بجٹ میں حکومتی قوائد و ضوابط کے مطابق چلائی گی۔
پرائیوٹ فرمز کو دیے جانے والے ہسپتالوں میں کیٹیگری ڈی ٹائپ ہسپتالوں میں لکی مروت تیتر خیل اور تیجوڑی ہسپتال، بٹگرام بانا ہسپتال، ضلع ٹانک میں اماخیل ہسپتال، ضلع اپر چترال میں واقع بونی ہسپتال، ڈی آئی خان میں کلاچی ہسپتال، پنیالہ ہسپتال اور پڑاؤ ہسپتال، تل ہسپتال اور پہار پور ہسپتال شامل ہیں۔
اسی طرح ضلع کوہاٹ میں شکردرہ ہسپتال اور لاچی ہسپتال، ضلع ملاکنڈ میں لوئے آگرہ ہسپتال، دیر لوئر میں مایار ہسپتال اور منڈا ہسپتال، دیر اپر میں پاتراک اور بارہ ول ہسپتال، نوشہرہ میں واقع مانکی شریف ہسپتال، زیارت کاکا صاحب ہسپتال، گھڑی حبيب اللہ اور بافا ہسپتال، شانگلہ میں چکی سر ہسپتال اور بیشام، بنوں میں جانی خیل ہسپتال اور کاکی ہسپتال، ایبٹ آباد میں بوئے ہسپتال اور لورا ہسپتال، مردان میں رستم ہسپتال، کاٹلنگ ہسپتال، طورو ہسپتال، شہباز گھڑی ہسپتال اور لوند خوڑ ہسپتال شامل ہیں۔
جبکہ قبائلی ضلع اورکزئی میں ڈبوری ہسپتال اور کلائی ہسپتال، ہنگو میں دوابہ ہسپتال اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال ٹل، ملاکنڈ میں واقع توتہ کان ہسپتال، سوات میں واقع کلام ہسپتال اور مینگلور ہسپتال، ضلع مانسہرہ میں اوگی ہسپتال، ضلع کرک میں واقع ہسپتال لتمبر اور صابر اباد ہسپتال، ضلع بونیر میں پاچا کلے ہسپتال، پشاور میں واقع متنی ہسپتال، ضلع صوابی میں واقع یار حسین ہسپتال، ضلع ہری پور میں واقع کانپور ہسپتال اور سرائے نعمت خان ہسپتال شامل ہیں۔
احتشام خان نے بتایا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہیلتھ فاؤنڈیشن نے نجی شعبے کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان ہسپتالوں میں نظم و نسق بہتر بنایا جا سکے، عملہ مکمل اور حاضر رہے، طبی سامان دستیاب ہو، اور مریضوں کو بروقت علاج فراہم کیا جا سکے۔
آؤٹ سورسنگ کا مقصد ہسپتالوں کو بند کرنا نہیں بلکہ انہیں فعال، مؤثر اور عوامی توقعات کے مطابق بنانا ہے۔ یہ اقدام صحت کے شعبے میں اصلاحات کی جانب ایک عملی قدم ہے، جس سے دور دراز علاقوں کے عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات میسر آئیں گی۔
محکمہ صحت نے متعدد اضلاع میں مختلف رورل ہیلتھ سنٹرز (آر ایچ سیز) کو بھی نجی فرمز کو دینے کا فیصلہ کر لیا ہے ان آر ایچ سیز میں ضلع جنوبی وزیرستان میں محسود کے علاقے میں واقع سول ہسپتال سراروغہ، سی ایچ سی لدھا، اور ایم ایچ ایف تیارزہ، ضلع ٹانک میں آر ایچ سی کڑی وام، شمالی وزیرستان میں واقع سول ہسپتال دتہ خیل، آر ایچ سی سپین وام اور سیول ہسپتال دوسلی، ضلع لکی مروت میں واقع لنڈی واہ، ڈی آئی خان میں واقع آر ایچ سی کڑی شموزی اور سیول ہسپتال درابندکلان شامل ہے۔
محمد فہیم نے بتایاکہ حکومت پہلے ہی سے 19 ہسپتالوں کو پرائیوٹ فرمز چلا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جہاں دور دراز علاقوں میں طبی عملہ ڈیوٹیاں نہیں دے رہے تھے ،اب ان ہسپتالوں یہی فرمز نے تمام طبی عملے کو یقینی بنایا ہے جو بہتر انداز میں عوام کو طبی سہولیات مہیا کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس عمل کا دور رس فائدہ یہ ہوگا کہ ان ملازمین کا ملازمتی بوجھ براہ راست بوجھ حکومت پر نہیں ہوگا اور نہ ہی ان ملازمین کو ساٹھ سال تک ان کی ملازمت میں کوئی مسئلہ آئے گا۔