پیکا ایکٹ ایک کالا قانون ہے جسے صحافی برادری ماضی میں بھی مسترد کر چکی ہے اور آج بھی مسترد کرتی ہے، اس قانون کے تحت مقدمات کا اندراج کسی صورت قابلِ قبول نہیں، کاشف الدین سید، صدر خیبر یونین آف جرنلسٹس
فہیم آفریدی
پشاور کی صحافی برادری نے صحافی عرفان خان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت جاری نوٹس کو آزادی اظہارِ رائے پر قدغن اور قانون شکنی کے مترادف قرار دیا۔
پشاور پریس کلب کے سامنے خیبر یونین آف جرنلسٹس (کے ایچ یو جے) کے زیراہتمام مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کے ایچ یو جے کے صدر کاشف الدین سید نے کہا کہ پیکا ایکٹ ایک کالا قانون ہے جسے صحافی برادری ماضی میں بھی مسترد کر چکی ہے اور آج بھی مسترد کرتی ہے۔ اس قانون کے تحت مقدمات کا اندراج کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینئر صحافی اور پشاور پریس کلب کے نائب صدر عرفان خان کو جاری نوٹس فوری واپس لیا جائے، ورنہ یہ اقدام آزادی صحافت کا گلا گھونٹنے کے مترادف تصور ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ "پاکستان میں جمہوریت کی بقا آزاد میڈیا اور آزاد صحافت سے مشروط ہے۔
اگر صحافیوں کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی تو یہ اقدام نہ صرف آئین کے خلاف ہوگا بلکہ عوام کے بنیادی حقِ معلومات پر بھی قدغن لگائے گا۔"
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ پیکا ایکٹ کو مکمل طور پر ختم کیا جائے اور صحافیوں کے خلاف قائم مقدمات فوری خارج کیے جائیں۔ صحافیوں نے خبردار کیا کہ اگر عرفان خان کو دیا گیا نوٹس واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے باہر مزید بڑا مظاہرہ کیا جائے گا۔
مظاہرے میں پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر شمیم شاہد، کے ایچ یو جے کے سابق صدر ناصر حسین اور درجنوں صحافی شریک تھے۔ اس موقع پر آزادی صحافت اور اظہارِ رائے کے حق میں نعرے بازی بھی کی گئی۔
واضح رہے کہ عرفان خان نے رواں ماہ اگست کے اواخر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" (سابق ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں خیبر پختونخوا کے تین اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز کی تقرریوں اور تبادلوں میں رشوت کے الزامات عائد کیے تھے۔
ان الزامات کو صوبائی حکومت نے بے بنیاد، توہین آمیز اور ہتکِ عزت قرار دیتے ہوئے ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ کے ذریعے انہیں 25 اگست کو وضاحت پیش کرنے کے لیے طلب کیا تھا۔ نوٹس میں متنبہ کیا گیا کہ پیش نہ ہونے کی صورت میں ان کے اثاثے اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس ضبط کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب عرفان خان نے ایک اور ٹویٹ میں واضح کیا کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں، پیچھے ہٹنے والے نہیں، اور جلد کرپشن کی مزید کہانیاں بھی سامنے لائیں گے۔
ایک سینئر صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صوبائی حکومت کی پالیسی سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ یہی جماعت ماضی میں خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیکا ایکٹ کے خلاف قرارداد منظور کر چکی ہے اور اب اسی قانون کے تحت کارروائی کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکام کو اب اپنی جلدبازی کا احساس ہو گیا ہے اور امکان ہے کہ آئندہ ایک نیا نوٹس (ہتکِ عزت کا) جاری کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 8 جولائی کو پشاور ہائیکورٹ نے مردان کے صحافی محمد زاہد کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمہ خارج کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ پولیس کو اس ایکٹ اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 20، 500 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کرنے کا اختیار نہیں۔
جسٹس صاحبزادہ اسداللہ خان اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل ڈویژنل بینچ کے فیصلے کو صحافی برادری نے آزادی صحافت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔